رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت منظور

لاہور ہائی کورٹ نے رمضان شوگر ملز ریفرنس کیس میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں جسٹس عبدالعزیز پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی سماعت کی جبکہ ان کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔ عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ جب عدالت میں ریفرنس فائل ہو گیا تو بھی ضمنی ریفرنس کیوں دائر کیا گیا۔ جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ تحقیقات میں جب بھی کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے اس پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جاتا ہے۔
عدالت نے پراسیکیوٹر سے دریافت کیا کہ آپ وہ قانون بتا دیں کہ جس کی رو سے ریفرنس فائل ہونے کے بعد ضمنی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے، اگر نیب کے تفتیشی افسر 90 دن میں کوئی چیز فائنل نہیں کر سکتے تو کیا وہ وہاں بیٹھ کر کیرم بورڈ کھیلتے ہیں؟ دوسری جانب حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری بدنیتی پر مبنی ہے، ابھی تک نیب نے جو دستاویزی ثبوت حاصل کیے ان میں بھی کہیں حمزہ شہباز کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس کا جواب دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ رمضان شوگر ملز میں 7 ڈائریکٹرز تھے جن میں سے ایک حمزہ شہباز تھے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ سے جو بات پوچھی جائے اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا، آپ قوم کا وقت اور پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟
عدالت نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ جو نالے بنائے گئے کیا وہ صرف اس رمضان شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کے لئے تھے؟ آپ اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کے شواہد لے کر آئیں۔ جس پر نیب پراسیکیٹر نے جواب دیا کہ جس تفتیشی افسر نے کیس کی تحقیقات کی تھیں وہ اپنے امتحانات کی وجہ سے چھٹی پر ہیں۔ جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے ریمارکس دیے کہ جو آپ لوگوں کی تحقیقات کا معیار ہے اس پر آپ سب کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینا چاہئیے۔ عدالت نے کہا کہ آپ کا زیادہ سے زیادہ کیس یہ ہے کہ اختیارات کے استعمال میں ڈنڈی ماری گئی ہے، آپ یہ بتا دیں کہ اختیارات میں شہباز شریف طاقت ور تھےکہ حمزہ شہباز شریف؟۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس ملک کو کوئی ٹھیک نہیں کر سکتا یہ ایسے ہی چل سکتا ہے، ہم نے صرف اپنے خدا کو جان دینی ہے اور جو فیصلہ کرنا ہے وہ حق پر کرنا ہے۔
بعدازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کر لی اور آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 18 فروری کو قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔ اس ریفرنس میں صرف دونوں ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے لیے انہوں نے غیر قانونی طور پر نالہ تعمیر کروایا۔
عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، لہٰذا دونوں ملزمان کو سزا دی جائے۔ لاہور کی احتساب عدالت نے 9 اپریل 2019 کے روزرمضان شوگر ملز ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز نیب کی حراست میں ہیں جنہیں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق مقدمات میں 11 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔
