مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماوں کا مریم نواز کو باہر بھجوانے کا مطالبہ

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بعد مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماوں نے بھی سابق وزیر اعظم نوز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو والد کی تیمارداری کیلئے بیرون ملک جانے کی اجزت دینے کا مطالبہ کر دیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مریم نوازکولندن جانےسےروکنا حکومت کی کم ظرفی ہے۔مریم نوازنے عدالت میں درخواست دائر کررکھی ہے۔عدالت جو فیصلہ کرے گی قبول کریں گے
لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہر بیٹی کا ایک قانونی اور فطری حق ہے کہ اگر اس کے والد کی طبعیت خراب ہو تو وہ ان کے پاس تیماردارای کے لئے جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے جنرل مشرف کی مارشل لا کا بھی مقابلہ کیا ہے، ہم گھبرانےوالے نہیں ہیں۔ ان کا زمید کہنا تھا کہ مشرف دور میں بھی بہت سختاں تھیں لیکن جس پستی کے اوپر اس حکومت کا کردار ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کی گرفتاری کے لئے حکومت نے وہ وقت چنا جب وہ اپنے بیمار والد کے پاس ملاقات کر رہی تھیں، مریم نواز کو حکومت پہلے بھی پکڑ سکتے تھے مگر وہ ایک بیمار والد کو اذیت دینا چاہتے تھے،
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہےاور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھٹیا انتقام ہے۔ مریم نوازکامیاں نوازشریف کی تیمارداری کے لیےجانا قانونی وآئینی حق ہے۔۔تمام گھروالےبھی وہاں تب بھی بیٹی کےحق کودبایانہیں جاسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خلاف جوکیس بنایاگیا اس کی 70سال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ کیا نواز شریف پلی بارگین کر کے گئے جو مریم نواز پلی بارگین کر کے جائیں گےان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں 3 سو ارب جمع کروا کے جاو، نواز شریف نے 5 سو ارب دینے سے انکار کیا، ان کو شرم سے ڈوب کر مرجانا چاہئے۔
واضح رہے کہ نواز شریف کا 30 جنوری کے روز آپریشن ہونا تھا تاہم انہوں نے مریم نواز کے لندن آنے تک علاج کرانے سے انکار کردیا ہے کیوںکہ نواز شریف کی خواہش تھی کہ ان کے آپریشن کے وقت مریم نواز اُن کے ہمراہ ہوں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے جبکہ آئندہ ہفتے ان کو اسپتال میں داخل کیے جانے کا امکان ہے۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو نواز شریف کے علاج کی تیاری کر لی گئی تھی لیکن ان کی درخواست پرٹریٹمنٹ کو ایک ہفتے آگے بڑھایا دیاگیا کیونکہ نواز شریف چاہتے تھے کہ علاج کے وقت ان کی صاحبزادی مریم نواز ان کے ساتھ ہوں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک نہیں جاسکتیں۔ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے جبکہ وفاقی کابینہ ان کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی منظوری دے چکی ہے۔.
