رنگ روڈ سکینڈل کو دبانے کی حکومتی کوششیں تیز


اپوزیشن قیادت پر کرپشن الزامات کی تحقیقات نیب اور ایف آئی اے کو سونپنے والی کپتان حکومت نے پانامہ ٹو قرار دیئے جانے والے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو سونپ کر نہ صرف احتساب کے نام پر ایک سنگین مذاق کیا ہے بلکہ ان خدشات کو بھی تقویت پہنچائی ہے کہ اس منصوبے میں کرپٹ عناصر کو کلین چٹ دلوانے کی حکومتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔
حکومتی ناقدین رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات وزیر اعلی پنجاب کے ماتحت محکمہ اینٹی کرپشن کو سونپے جانے کو حکومتی چال قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں ‘مجرمانہ ذمہ داری’ کا تعین کرنے کے لیے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے حکم پر کیا جن پر مسلم لیگ (ن) نے اس منصوبے میں کرپشن کرنے کا الزام لگایا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم ایسا کچھ نہ ہوا اور یہ اعلان کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو اس سکینڈل کی تحقیقات کرے گا۔ اب حیران کن طور پر ایک ہی وقت میں رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات دو تفتیشی اداروں کو سونپنے کے عمل نے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک ادارہ تو قومی احتساب بیورو یعنی نیب اور دوسرا صوبائی محکمہ انسداد بدعنوانی یعنی محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے کہ دو ادارے ایک ہی وقت میں ایک ہی معاملے کی تحقیقات کریں۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدایدار کے مطابق عمومی طور پر نیب اعلیٰ تحقیقاتی ادارے کی حیثیت سے کسی دوسرے ادارے مثلاً اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے سے تفتیش واپس لے سکتا ہے اور ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے۔ واضح رہے کہ رنگ روڈ سکینڈل کے حوالے سے راولپنڈی کے کمشنر سید گلزار شاہ کی رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ نیب یا وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو اس معاملے کی تفتیش کرنی چاہیئے۔ تاہم وزیراعظم عمران خاں کی ہدایت پر عثمان بزدار نے یہ ذمہ داری اینٹی کرپشن والوں کو سونپی ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس اکا واضح مطلب یہی ہے کہ بزادر کے ماتحت کام کرنے والا سرکاری ادارہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت حکومتی شخصیات کو صاف بچا کر ایک بار پھر سارا ملبہ پہلے سے زیر عتاب سرکاری افسران پر ہی ڈالے گا یا زیادہ سے زیادہ چند ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان پر ذمہ داری عائد کر کے معاملہ نمٹا دیا جائے گا۔
دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان نے بتایا کہ اس نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے سی ای کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس نے باریک بینی سے تفتیش کے لیے قانونی، مالی، تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق حکومت نے اس اسکینڈل میں مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے اے سی ای کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے سی ای کمشنر راولپنڈی کی رپورٹ کی روشنی میں مستفید ہونے والے سرکاری عہدیداروں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے معاملات دیکھے گی۔
رنگ روڈ سکینڈل بارے کمشنر کی رپورٹ میں کچھ نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے نام دیے گئے تھے جو رنگ روڈ کے اصل پلان سے بہت دور تھیں لیکن ری الائنمنٹ سے انہیں فائدہ پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمود اور معطل ہونے والے لینڈ ایکوزیشن کمشنر وسیم تابش نے سڑک کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے غلط طریقہ کار سے 2 ارب 30 کروڑ کا معاوضہ ادا کیا اور اراضی حاصل کرتے ہوئے سنگ جانی کے معروف خاندان کو فائدہ پہنچایا۔ مذکورہ تنازع منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار عباس بخاری المعروف زلفی بخاری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کرپشن کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں سیاست چھوڑ دینے کی پیشکش کی تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت میں اپوزیشن رہنمائوں کا بے رحم احتساب اور اپنے سکینڈؒ ل کی تحقیقات کے لے نیب اور اینٹی کرپشن جیسے متنازع اداروں کا انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ کپتان کا احتساب کا نعرہ ڈھکوسلہ ہے اور راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کو بے تکی انکوائریز کے جلد کچھ ہی عرصے میں دبا دیا جائے گا۔

Back to top button