ریزرو فوجیوں کی پینشن میں کمی پر عدلیہ زیر تنقید


لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ریٹائرڈ ریزرو فوجیوں کی پنشن بڑھا کر دس ہزار کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے جس پر متاثرین سیخ پا ہیں اور عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاطر محمود نے 2018 میں ایک درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے فوج کے ریٹائرڈ لانس نائیک کی پنشن بڑھا کر دس ہزار مقرر کر دی تھی۔ 2014 میں لانس نائیک محمد صابر، سپاہی محمد یاسین اور نائیک محمد شبیر نے کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے ذریعے پنشن میں اضافے کے لیے لاہو ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن وزارت دفاع کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جہاں اب چیف جسٹس گلزار احمد نے ریٹائرڈ ریزرو فوجیوں کی پنشن بڑھا کر دس ہزار کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس دوران درخواست گزار لانس نائک محمد صابر پنشن میں اضافہ لیے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کی بیوہ اور بیٹا سپریم کورٹ میں پیشیاں بھگتتے رہے۔
انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ محمد یاسین اور ان کی طرح کے سینکڑوں سپاہیوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور سنہ 1965 کی جنگ میں شریک ہوئے جن کو بعد ازاں جنرل ایوب خان نے ریزرو فوجی قرار دے کر گھر بھیج دیا۔ تاہم سنہ 1971 کی جنگ میں ان ریزرو سپاہیوں کو دوبارہ فوجی خدمات کے لیے طلب کر کے سابق مشرقی پاکستان لڑنے کے لیے بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں جنگی قیدی بھی بنے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ سنہ 1982 میں ان فوجیوں کو 1375 روپے کی معمولی پنشن کے ساتھ ریٹائرڈ کر دیا گیا اور فوجی فاؤنڈیشن کے تحت علاج معالجے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ 1965 اور 1971 میں دو دفعہ فوجی خدمات سر انجام دینے والے ریٹائرڈ ریزرو فوجیوں حضرات کے لیے 1375 روپے کی پینشن ایک مذاق مترادف ہے اور موجودہ مہنگائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس میں اضافہ کیا جائے۔ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت میں اپنے دلائل کے دوران کہا کہ گزشتہ حکومت نے اپنے دور حکومت میں کم از کم پنشن دس ہزار روپے مقرر کی تھی جبکہ 75 برس کے عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن 15 ہزار رکھی گئی لیکن ریزرو کے طور پر ریٹائرڈ کیے گئے فوج کے سپاہی کو دس ہزار روپے پنشن بھی نہیں مل رہی۔ چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے ان فوجی حضرات کی پینشن دس ہزار روپے مقرر کر دی تھی۔
لیکن اب وزارت دفاع کی جانب سے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریزرو سپاہیوں کی پنشن بڑھانے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ افراد ریگولر فوج کا حصہ نہیں تھے اس لیے ان کی پنشن نہیں بڑھائی جا سکتی۔ لیکن متاثرہ فوجی حضرات سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کے چھ ،چھ پلاٹ لینے والے اہلکاروں اور بے حس حکومت نے مل کر اپنی ہی فوج کے غریب سپاہیوں کو ان کے جائز حق سے محروم کروا دیا۔ انکا کہنا ہے کہ ظلم پر مبنی یہ فیصلہ کرنے والے جج خود 13 لاکھ ماھانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں اور ہمارے دس ہزار روپے ماہانہ ان کو چبھتے ہیں۔

Back to top button