روٹی کی قیمت 25 روپے سے بڑھا کر 50 روپے ہو جانے کا خدشہ

پاکستان میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ روٹی کی قیمت 25 روپے تک پہنچا دی اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر آٹے کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل قریب میں ایک روٹی پچاس روپے میں بھی دستیاب نہیں ہوگی۔ ایسے میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آٹے کے بحران اور روٹی کی بڑھتی قیمت کا ذمہ دار وفاق ہے یا صوبے ہیں؟ وفاق کا کہنا ہے کہ گندم ایک صوبائی معاملہ ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومتیں جان بوجھ کر گندم کا بحران پیدا کر رہی ہیں تاکہ عوام وفاقی حکومت کو گالیاں دیں۔
اس وقت پاکستان میں ایک بار پھر گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں جس سے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔
موسم سرما کے دوران ملک بھر میں صورت حال یہ ہے کہ اگر گھر کی گیس کا پریشر کم ہو تو پھر تندور کا رُخ کرنا پڑتا ہے جبکہ تندور سے ایک روٹی 25 روپے سے کم کی نہیں مل رہی ہے، ذیادہ افسوس کی بات یہ یے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گذشتہ دو برسوں سے پاکستان اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم کی درآمد پر انحصار کر رہا ہے، گندم پاکستان میں خوراک کا اہم جُزو ہے اور ہر شہری اوسطاً 124 کلو گرام گندم سالانہ کھا لیتا ہے۔
دوسری جانب تندور والوں کا کہنا ہے کہ گندم کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے باعث 25 روپے کی روٹی بیچ کر بھی اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے لہٰذا روٹی کی قیمت مزید بڑھانا ہوگی، ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر اس سارے بحران کا ذمہ دار کون ہے یا پھر اس بحران پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟ وفاقی حکومت نے اس حوالے سے مدعا صوبوں پر ڈال دیا ہے کہ یہ مسئلہ یا بحران ملز ایسوسی ایشنز اور صوبائی حکومتوں کا پیدا کردہ ہے۔ حکومت کے مطابق آٹے کے ذخیرے اور فلور ملز کو فراہمی سمیت اس کی قیمتیں مقرر کرنا بھی صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
اس بحران کو سمجھنے سے قبل یہ ذہن میں رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت رواں برس مئی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں ملک میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت جیسے معاملات زیر غور آئے۔ اس اجلاس میں رواں برس گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 29 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا جبکہ متوقع پیداوار دو کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن تک ہوگی، گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ تین کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اس اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی حکومتی سطح پر خریداری کے حوالے سے پنجاب نے 91.66 فیصد، سندھ نے 49.68 فیصد، بلوچستان نے 15.29 فیصد جبکہ پاسکو نے 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔ مقامی ضرورت کے مقابلے میں گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ملک میں 30 لاکھ گندم کی درآمد کی منظوری دی۔ یہ بھی واضح رہے کہ گذشتہ برس ملک میں دو کروڑ 28 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوئی تھی تاہم یہ پیداوار بھی ملکی ضرورت سے کم تھی اس لیے پاکستان نے 20 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی تھی۔
چیئرمین آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت 2300 روپے فی من آٹا دینے کا کہہ رہی ہے، جبکہ ایک ماہ پہلے 3300 روپے فی من ملنے والی گندم کی قیمت اب 4350 فی من تک پہنچ چکی ہے۔ وفاقی وزیرِ برائے فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ کا کہنا یے کہ وفاق نے تو گندم درآمد بھی کی ہے اور ہم فلور ملز ایسوسی ایشنز کی منتیں کر رہے ہیں کہ وہ آٹے کی قیمت میں کمی لائیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ شماریات کے مطابق پاکستان نے رواں برس کے پہلے نو ماہ میں 80 کروڑ ڈالرز کی گندم درآمد کی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فلور ملز اسوسی ایشنز کو گندم صوبوں نے دینی ہوتی ہے وفاق نے نہیں اس لیے اگر آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت نہیں بلکہ صوبائی حکومتیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ گندم ایک صوبائی معاملہ ہے اور اس حوالے سے وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں گندم کا بحران پیدا کر رہی ہیں تاکہ عوام وفاقی حکومت کو گالیاں دیں۔ دوسری جانب گندم کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین کے مطابق اگر گندم کی بلند قیمت اور روپے کی کم قیمت برقرار رہی تو درآمدی گندم پاکستانیوں کے لیے آٹے کی قیمت کو مزید بڑھا دے گی، جو ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کی بلند سطح کو اوپر کی جانب دھکیل دے گی۔
