عمران کو بشریٰ بی بی سے شادی کرنے کا فائدہ ہوا یا نقصان؟

جولائی 2018 کا الیکشن جیتنے کے بعد تحریک انصاف اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تو عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایا۔ پریذیڈنٹ ہاؤس میں ہونے والی حلف برداری کی اس تقریب میں بشریٰ بی بی بھی شریک ہوئیں مگر وہ مکمل طور پر پردے میں تھیں۔ اس موقع پر بشریٰ بی بی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا کہ وزیراعظم کو غریبوں کا بہت احساس ہے اور وہ اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں۔

بعدازاں جب مختلف صوبوں میں گورنرز، وزرائے اعلیٰ لگانے کا مرحلہ درپیش آیا تو کہا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے روحانی حساب لگا کر وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ کس کو کیا عہدے دیئے جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ بشری بی بی نے کپتان کو مشورہ دیا تھا چونکہ ان کا نام عمران اردو کے حرف ع سے شروع ہوتا ہے اس لیے وزیراعلی پنجاب بھی وہ ہونا چاہئے کہ جس کا نام سے شروع ہو اور وہ کسی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عثمان بزدار کو عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ اصل وجہ یہ تھی کہ عثمان بزدار پنکی پیرنی کی قریبی ترین سہیلی فرح کا خاوند ہے۔

بعدازاں جب صدر پاکستان کے عہدے پر انتخاب کا مرحلہ آیا ہوں تو مبینہ طور پر پنکی پیرنی نے حساب لگایا کہ صدرمملکت کا نام بھی ع سے شروع ہونا چاہئے۔ پارٹی میں موجود سینئر رہنماؤں پر نظر دوڑائی گئی تو قرعہ فال عارف علوی کے نام نکلا اگرچہ ان دعووں کے حوالے سے بشریٰ بی بی نے تاحال لب کشائی نہیں کی تاہم علم الاعداد کے ماہرین اور کپتان کے قریبی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے بعد عثمان اور عارف کا انتخاب بشریٰ بی بی کے مشورے اور حساب کتاب کے نتیجے میں ہی کیا گیا ہے۔ معاملہ یہیں نہیں تھما بلکہ بعد ازاں کابینہ میں شامل کئی وزراء کے حوالے سے بھی کہا جاتا رہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کی سفارش پر ہی کیبنٹ میں شامل کیا گیا، مرکز اور پنجاب میں کئی اہم عہدوں پر افسران کے تقرر و تبادلوں پر بھی آوازیں اٹھتی رہیں کہ ان سب کو بشریٰ بی بی کے کہنے پر ہی لگایا اور ہٹایا جا رہا ہے۔

جہاں پنکی پیرنی کی وجہ سے کپتان کے لئے کئی سیاسی آسانیاں پیدا ہوئیں وہیں بعض معاملات میں عمران خان کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کپتان کی حکومت قائم ہونے کے کچھ عرصے بعد پاکپتن کے علاقے میں انتظامی اسکینڈل منظر عام پر آیا، ایک واقعے میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا اور ان کی بیٹیوں کے ساتھ مبینہ طور پر پولیس افسران نے بدتمیزی کی اور یوں وزیراعظم عمران خان کے احکامات پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کر دیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر خوب شور مچایا اور پھر بات کھلی کہ رات کے اندھیرے میں خاور فرید مانیکا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ننگے پاؤں لاہور سے پاکپتن جا رہے تھے کہ ضلع پاکپتن کی حدود میں پولیس افسران نے انھیں پوچھ گچھ کے لئے روکا جس پر وہ بُرا منا گئے۔ بعدازاں یہ بات بنی گالا میں مقیم خاتون اول بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی تک پہنچی جنہوں نے مبینہ طور پر کپتان سے پولیس افسران کو سبق سکھانے کا کہا اور یوں پولیس کے اعلیٰ افسر کی چھٹی کروا دی گئی۔

وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا اور بشریٰ بی بی کپتان کی حکومت کامیاب بنانے کے لیے خصوصی روحانی عمل میں مصروف رہیں، اس دوران بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ دونوں نے ایک ساتھ عمرہ بھی ادا کیا تاہم کئی غیرملکی دوروں میں بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ جانے کی بجائے اسلام آباد میں ہی وقت گزارنے کو ترجیح دی۔ پنجاب اور مرکز میں حکومت قائم ہونے کے بعد عمران خان ہر ہفتے دو ہفتے بعد لاہور کا چکر لگاتے، اس دوران بشریٰ بی بی بھی ان کے ساتھ ہوتیں۔ تب بشریٰ بی بی کا معمول رہا کہ وہ سرکاری پناہ گاہوں کے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ یتیم خانوں، دارالامان اور سرکاری و فلاحی سپتالوں کے دورے کرتیں لیکن لاہور کے ایک دورے کے دوران ایسی انہونی ہوئی کہ جس کے بعد بشری بی بی کے لاہور آنے اور سرکاری اور فلاحی اداروں کے دورے کرنے پر غیراعلانیہ پابندی لگادی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور میں واقع گلاب دیوی ہسپتال کے دورے کے دوران بشریٰ بی بی نے انتظامیہ سے بعض معاملات کے حوالے سے باز پرس کی۔ جس پر انتظامیہ نے سخت برا منایا اور مؤقف اختیار کیا کہ گلاب دیوی ہسپتال ایک ٹرسٹ کے زیر انتظام چلتا ہے، اس لئے وزیراعظم کی بیوی کو قطعی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہسپتال انتظامیہ سے سوال جواب کریں۔ کہا جاتا ہے کہ بعدازاں ہسپتال کی انتظامیہ نے وزیراعظم شکایات سیل کو اس حوالے سے ایک خط بھی لکھا، جس پر وزیراعظم سخت شرمندہ ہوئے اور بشریٰ بی بی کو آئندہ لاہور میں کسی بھی فلاحی مرکز یا دیگر جگہوں کے دورے کرنے سے روک دیا گیا۔ اس واقعے کو کئی مہینے گزر گئے اور اس کے بعد اکثر اوقات کپتان اکیلے ہی لاہور آتے رہے اگر کبھی بشریٰ بی بی ان کے ساتھ لاہور آئیں بھی تو وہ صرف زمان پارک والے گھر تک محدود رہیں اور انھوں نے کسی سرکاری ہسپتال یہ فلاحی ادارے کا دورہ نہیں کیا۔

بشریٰ بی بی کی روحانی حیثیت کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں بھی اکثر وزیراعظم عمران خان پر طنز کے نشتر چلاتی ہیں۔شہباز شریف کئی بار اسمبلی میں یہ فرما چکے ہیں کہ حکومت وقت کے معاملات روحانی طریقے اور جادو ٹونے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی کپتان سے سخت ناراض ہے کہ وہ عملیت پسندی کی بجائے روحانی عملیات کے بل بوتے پر ملکی معاملات چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتاؤں کو گلہ ہے کہ خان صاحب ضرورت سے زیادہ ضعیف العتقاد ثابت ہوئے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ اعتقادا اندھا ہوتا ہے، اس لئے عمران خان کو چاہئے کہ وہ حساب کتاب اور روحانی عملیات کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کریں یعنی ملکی معاملات سے متعلق فیصلوں میں پنکی پیرنی کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔

کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملے پر بھی کپتان کو بشریٰ بی بی نے کسی باریش اور متقی جرنیل کو لگانے کا مشورہ دیا تھا تاہم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے میں ہی عافیت جانی۔کہا جاتا ہے کہ بشری بی بی کے قبضے میں ہمزاد یا مؤکل ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بشریٰ بی بی کے قبضے میں دوعدد جن ہیں، جن کو وہ گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے کھلاتی ہیں۔ تاہم آج تک بشریٰ بی بی نے ان معاملات پر کبھی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ خاتون اول بشریٰ بی بی کے دفاع میں ہمیشہ کی طرح تحریک انصاف کا میڈیا سیل پیش پیش ہے۔

واضح رہے کہ یہ وہی میڈیا سیل ہے جو کبھی عمران خان کی دوسری اہلیہ ریحام خان کا بھی ڈٹ کر دفاع کرتا تھا مگر جب ریحام خان اور عمران خان کی علیحدگی ہوگئی تو تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے افراد نے ریحام خان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

Back to top button