‘ریاست مخالف مواد’پوسٹ کرنےوالےصحافی کاجسمانی ریمانڈ

لاہورکی عدالت نے سماجی ویب سائٹ ‘فیس بک’ پرمبینہ طورپرریاست مخالف مواد شیئرکرنے کےالزام میں گرفتارصحافی کو3 روزہ جسمانی ریمانڈ پرایف آئی اے کےحوالےکردیا گیا۔
لاہورکی ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ یاسرعرفات نے صحافی اظہرالحق کے جسمانی ریمانڈ کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی درخواست پرسماعت کی۔ ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘فیس بک’ پرریاست مخالف مواداورپاکستان کا توہین آمیزایڈیٹڈ قومی ترانہ شیئر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرچ وارنٹ کےساتھ ملزم کےگھرپربھی چھاپہ ماراگیا لیکن ملزم صحافی سےمزید تفتیش درکارہے، لہٰذا ان کےجسمانی ریمانڈ کی استدعامنظورکی جائے۔
صحافی کےوکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سے فون کی برآمدگی ہوچکی ہے اس لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اظہارالحق کوغیرقانونی طورپرگرفتارکیا ہے۔ عدالت نے صحافی اظہرالحق کو3 روزہ جسمانی ریمانڈ پرایف آئی اے کے حوالےکردیا،انہیں20 جنوری کودوبارہ پیش کیا جائے گا۔ عدالت نےایف آئی اے سےاگلی سماعت میں ملزم سے ہونےوالی تفتیش سےمتعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔
لاہور پریس کلب کا مذمتی بیان
لاہورپریس کلب کےعہدیداران نےپریس کلب کےرکن اورصحافی اظہرالحق کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورمذمتی بیان میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سےصحافی کی گرفتاری آزادی اظہاررائےکوسلب کرنےکےمترادف اورغیرآئینی اقدام ہے۔ پریس کلب کےعہدیداران نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ گرفتارصحافی کوفی الفوررہا کیا جائےاورایف ائی اے اپنےغیرآئینی اقدام کی معافی مانگےورنہ ملک بھرکےصحافی سراپااحتجاج ہوں گے۔
