ریحام خان نے عمران خان اور جمائما کی طلاق کی وجہ بتا دی

عمران خان کی دوسری اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے سابق شوہر نے اپنی پہلی بیوی جمائما خان کو اپنے ’پیر‘ کے کہنے پر طلاق دی تھی کیوںکہ انہیں جمائمہ کے کردار پر بھی شک ہو گیا تھا۔
اپنی مشہور زمانہ کتاب "ریحام خان” میں ریحام لکھتی ہیں کہ عمران خان نے مجھے ایک بار بتایا کہ ’جمائما خان شادی کے آخری مہینوں میں بہت زیادہ خوداعتماد ہو گئی تھی۔ ہم کچھ عرصے سے الگ رہ رہے تھے، وہ لندن میں رہتی تھی اور میں بنی گالہ میں۔ وہ طلاق سے قبل شادی کو آخری موقع دینے کے لیے بنی گالہ آئی، تاہم میرے پیر صاحب پہلے ہی مجھے اسے طلاق دینے کا کہہ چکے تھے۔ عمران نے ریحام کو بتایا تھا کہ کسی نے جمائما کو بتایا تھا کہ میرا بنی گالہ کے قریب ہی رہنے والی کسی عورت کے ساتھ تعلق چل رہا ہے۔ میرے خیال میں وہ اس پر حسد میں مبتلا تھی اور شاید اسی لیے پاکستان آئی تھی۔ لیکن جلد ہی وہ واپس لندن چلی گئی اور اپنی سماجی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
ریحام خان کے مطابق عمران خان نے انہیں مزید بتایا کہ حالانکہ میرے پیر صاحب مجھے پہلے ہی جمائما کو طلاق دینے کا کہہ چکے تھے لیکن میں شاید ابھی پوری طرح اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ تاہم اسی دوران جمائما اور برطانوی اداکار ہف گرانٹ کی تصاویر ایک برٹش میگزین میں شائع ہوئیں جن کو دیکھ کر میرے پاس جمائما کو طلاق دینے کا سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ میں یہ تصاویر میگزین میں شائع ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی خواب میں دیکھ چکا تھا۔ جب تصاویر شائع ہوئیں تو میں نے اس کے متعلق جمائما کی والدہ سے بات کی۔ جمائما کی فیملی طلاق کے حق میں نہ تھی۔ تاہم اس کے تین ہفتے بعد میں نے جمائما کو طلاق دے دی۔
عمران خان کی جمائما خان سے شادی اور سہاگ رات کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے ریحام خان لکھتی ہیں کہ ’’ایک روز عمران بہت خوشگوار موڈ میں تھا۔ وہ مجھ سے میرے متعلق بھی شکوے کر رہا تھا اور شاید میری ہمدردی لینے کے لیے اپنے ماضی سے بھی ایسے قصے سنا رہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ’’تمہیں معلوم ہے ریحام! میں جمائما خان کے ساتھ اپنی شادی کی پہلی رات اتنا رویا تھا کہ روتے روتے سو گیا۔‘‘ میرے وجہ پوچھنے پر عمران نے بتایا کہ ’’مجھ پر واضح ہو گیا تھا کہ جمائما سے شادی کرنا میری غلطی تھی۔ شادی کی رات جمائما نے زیادہ شراب پی لی تھی اور نشے سے چور، نیم بے ہوش ہو کر بستر پر گر گئی۔ اسے کچھ ہوش ہی نہ تھا۔عمران خان نے مجھے مزید بتایا کہ ’’جب میں اور جمائما ہنی مون پر گئے تو ہنی مون کے دن میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن اور ذہنی اذیت کے دن تھے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا ، چیزیں بگڑتی جا رہی تھیں۔ جمائما بہت کم عمر تھی اور میرے ماضی کے قصوں کی وجہ سے اس رشتے میں خود کو بہت غیرمحفوظ محسوس کر رہی تھی۔‘‘ ریحام کے مطابق اس پر میں نے عمران سے پوچھا کہ ’’تم نے اسے اپنے ماضی کے قصے کیوں سنائے؟‘‘تاہم عمران خان نے میری اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ریحام خان نے اپنے سابق شوہر کی زندگی کے متعدد جنسی واقعات اپنی کتاب میں تحریر کیے ہیں جن میں سے ایک پی ٹی آئی چکوال کی خاتون ماہا خان کے حوالے سے بھی ہے۔ریحام خان نے لکھا کہ انہوں نے ایک بار عمران کے پیغامات پڑھے جن میں عندلیب عباس اور عظمیٰ کاردار کی جانب سے کپتان کو جنسی تعلق قائم کرنے کی آفرز کی گئی تھیں۔ ”عمران خان کے پیغامات میں سب سے زیادہ دھچکا جس میسج سے پہنچا وہ ایک قدرے کم عمر خاتون کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ یہ میسج ’ ماہا خان پی ٹی آئی چکوال‘ کے نام سے محفوظ نمبر سے آیا تھا ، یہ خاتون عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر بتاتی تھی کہ وہ رات کو کتنے مردوں کے ساتھ سوئی ہے“۔ریحام خان نے پی ٹی آئی رہنما عظمیٰ کاردار کے حوالے سے لکھا کہ وہ نہ صرف اپنی “مخصوص” تصاویر باقاعدگی کے ساتھ عمران کو بھجواتی تھی بلکہ جب بھی وہ عمران سے روبرو ہوتی تو کوشش کرتی کہ وہ اس کے سامنے کھڑی رہے یا بیٹھ جائے۔ میری موجودگی میں بھی عظمیٰ اس بات کی پرواہ نہیں کرتی تھی اور عمران کے سامنے آنے کا راستہ بنالیتی تھی۔’ عظمیٰ کاردار نے علیم خان کے گھر مجھے وارننگ دی کہ اب مجھے یہ سب برداشت کرنا ہوگا کیونکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گی‘۔ریحام خان نے اپنی کتاب میں پی ٹی آئی کی خاتون رہنما عندلیب عباس پر بھی الزام عائد کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ’ میری برطانیہ کیلئے روانگی سے دو راتیں قبل میں نے عمران کے موبائل فون میں پی ٹی آئی کی مختلف خواتین کے ٹیکسٹ میسجز پڑھے۔اس سے 2 منٹ قبل ہی عمران نے مجھے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں وہ لاہور نہیں جانا چاہتا لیکن میں نے اسے تحریک دی کہ یہ صرف 2 دن کی ہی بات ہے اور تمہیں وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ اچھے طریقے سے اسے لاہور آنے کیلئے پی ٹی آئی کی خواتین کی جانب سے تحریک دی جا رہی تھی‘۔ریحام خان نے لکھا ”میں نے عمران کے موبائل میں عندلیب جو کہ اس وقت پی ٹی آئی پنجاب کی صدر تھیں کا میسج پڑھا ۔ عندلیب نے لکھا ہوا تھا ’ آ بھی جاؤ ، میں تمہارے ساتھ بار بار غلط حرکت کروں گی‘۔ عظمیٰ ایک قدم اور بھی آگے تھیں، انہوں نے میسج میں لکھا ’ آپ اپنے جسم کو تسکین سےمحروم کیوں رکھ رہے ہیں جبکہ آپ کی بیوی سے آپ کو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔
ریحام خان نے لکھا ’جب میں نے عمران خان سے ان پیغامات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عندلیب ایک شرابی عورت ہے، ہوسکتا ہے کہ اس نے بوتل چڑھا کر یہ میسجز کیے ہوں ۔ جس کے بعد عمران سونے کیلئے بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے بھی سونے کا کہنا لیکن میری تو نیند اڑ چکی تھی۔ وہ لکھتی ہیں کہ شادی سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے لوگوں نے میرے متعلق عمران خان کے کان بھرنے شروع کر دیئے تھے اور مجھ پر سنگین الزامات عائد کر رہے تھے۔ شادی کے روز بھی عمران خان اور میں، مجھ پر لگائے جانے والے الزامات کے متعلق ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے گفتگو کرتے رہے۔ عمران نے مجھے بتایا کہ انکے دوست موبی کو ہماری شادی کا پتا چل گیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ تم لندن کے ایک بار میں برہنہ ڈانس کرتی تھیں۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک آئی ایس آئی آفیسر کو کل اپنے ساتھ لے کر آئے گاجو تمہارے جنسیت سے بھرپور ماضی اور لوگوں کے ساتھ معاشقوں کی تفصیل بے نقاب کرے گا۔ ریحام مزید لکھتی ہیں کہ ”یہ الزامات سن کر میں نے عمران سے کہا کہ میں ان لوگوں کے گھٹیا الزامات سے تنگ آ چکی ہوں۔ میں اب مزید ٹیکسٹ میسج بھی نہیں کر سکتی، تم میسج بھیجنا بند کرو اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ کیونکہ مجھے یہ رویہ بالکل عجیب لگ رہا ہے۔ میں نے عمران سے سختی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ بہتر ہو گا کہ تم میرا خیال دل سے نکال دو، لیکن عمران اس کے بعد بھی کئی گھنٹے تک مجھے پیغامات بھیجتا رہا اور معافیاں مانگتا رہا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں صرف لوگوں سے ملنے والی اطلاعات تم تک پہنچا رہا ہوں، تم پر الزام نہیں لگا رہا۔ ریحام کے مطابق ان واقعات کے باعث ان کی شادی کا انجام طلاق کی صورت میں ہوا۔
