ضیا نے ذوالفقار علی بھٹو کو ہندو ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی؟

پاکستانی آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے سیاسی کردار پر کھلی تنقید کرنے کے بعد ان دنوں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نواز شریف پر ہندوستانی ایجنٹ اور غدار ہونے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کی سب سے پہلی غدار مادر ملت فاطمہ جناح قرار پائی تھیں کیونکہ انہوں نے ایوب آمریت کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا لیکن موجودہ دور اقتدار میں جس تیزی کے ساتھ سیاستدانوں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کیے جارہے ہیں ایسا ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
جب آج کے غداروں کا ذکر ہورہا ہے تو ماضی کے غداروں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔پاکستانی غداروں کی فہرست میں بڑے بڑوں کے نام ہیں جن میں ملک کو 1973 کا آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں۔ بھٹو کو پاکستان کی سیاست میں کئی اعتبار سے ممتاز مقام حاصل ہے جس وجہ سے انہیں آج بھی قائد عوام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور انکی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر قرار دیا جاتا ہے۔ بھٹو شہید سیاست میں تو ایک ممتاز مقام رکھتے ہی ہیں لیکن ’غداروں‘ کی گیلری میں بھی وہ منفرد نظر آتے ہیں۔ دوسرے کئی سیاست دان تو ’ہندوستانی ایجنٹ‘ یا ’غدار‘ کے رتبے پر فائز ہوکر سستے میں چھوٹ گئے لیکن بھٹو پر’غداری ‘کا الزام لگانے والوں کے کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑی تو وہ ہندو بھی قرار پائے، اور محب وطنوں کی جانب سے ان کا اصل نام ذوالفقارعلی کی بجائے گھاسی رام بتایا گیا۔ آپ اسے غدار پلس کہہ لیجیے۔
سینئر صحافی محمود الحسن اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ضیا دور میں بھٹو شہید کو ہندو ثابت کرنے کے لیے تحقیق ان کی 1979 میں پھانسی کے بعد بھی جاری رہی۔ راولپنڈی جیل کے سابق سپیشل سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل (ر) رفیع الدین نے اپنی کتاب ’بھٹو کے آخری 323 دن‘ میں لکھا کہ ’بھٹو صاحب کی لاش کو رات دو بج کر 35 منٹ پر پھانسی کے پھندے سے جدا کیا گیا۔ ان کی میت کو غسل دیا گیا، جس کا بندوبست وہیں کر لیا گیا تھا۔ ایک فوٹو گرافر نے جسے ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے بھیجا تھا، ضرورت کے مطابق بھٹو صاحب کے چند فوٹو اُتارے۔ ان تصویروں سے حکام کا یہ شک دور ہوگیا کہ ان کے ختنے نہیں ہوئے تھے لہذا وہ اپنی موت کے بعد مسلمان ثابت ہوگئے۔
دراصل بھٹو شہید کو ہندو ثابت کرنے میں دائیں بازو کے بےضمیر صحافتی گماشتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ضیا جنتا کے ایما پر اخبارات و رسائل میں ان کی ذات پر رکیک حملے ہوئے۔ ان کا جعلی شجرہ نسب شائع ہوا، جس کی رو سے وہ ہندو ماں باپ کی اولاد تھے۔
ہفت روزہ ’صحافت‘ نے گٹر صحافت کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے بھٹو کے ایک نام نہاد ’ہندو ماموں‘کا انٹرویو شائع کیا۔ اس زمانے کی طرزِ صحافت کا اندازہ ممتاز صحافی حسین نقی کے ایک خط سے ہوتا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے بھٹو کے خلاف بھی بہت سخت لکھا ہے لیکن کبھی ان کی ماں، بہن، بیٹی کے متعلق نہیں لکھا کہ میری نظر میں یہ میری تہذیب اور تربیت کے خلاف ہے، البتہ پڑھا بہت ہے۔‘
معروف ترقی پسند ادیب اور صحافی انور احسن صدیقی نے اپنی کتاب ’دلِ پُرخوں کی اک گلابی سے‘ میں بتایا ہے کہ 1977 کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد، پاکستان نیشنل الائنس کے ایما پر ایک گُم نام ہینڈ بل بڑی تعداد میں تقسیم ہوا جس کے مطابق بھٹو کے والدین ہندو تھے۔ ان کے بقول ’نفرت اور تذلیل کی ایک گھتیا مہم تھی جو بھٹو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف چلائی گئی۔ اس ساری مہم کی سرپرستی اشرافیہ کررہی تھی جس میں فوج پوری طرح شامل تھی۔‘
اسی طرح سرکاری ٹی وی پر بھٹو کے مظالم کی جھوٹی کہانیوں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ لاہور میں اس بھٹو مخالف مہم کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور اشاعتی ادارے ’سانجھ‘کے مالک، امجد سلیم منہاس نے بہت کچھ بتایا۔ وہ اس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے اور اعتراف کرتے ہیں کہ جن پوسٹروں میں بھٹو کو گھاسی رام قرار دیا گیا تھا ان کو لاہور کے علاقے اِچھرہ کی دیواروں پر چسپاں کرنے کا ’اعزاز‘ ان کے حصے میں بھی آیا۔ ان کے بقول پوسٹر پر درج ہوتا:
بھٹو جی کا اصلی نام
گھاسی رام گھاسی رام
امجد سلیم منہاس کا کہنا ہے کہ اب وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں تو اپنے اس عمل پر انھیں پشیمانی ہوتی ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ سیاسی مخالفت میں ہم لوگ کس قدر گر گئے تھے۔ بھٹو پر ان کے سیاسی حریف یہ بہتان بھی لگاتے تھے کہ انھوں نے شملہ معاہدے کے دوران اندرا گاندھی سے خفیہ میٹنگ میں ملکی مفادات کا سودا کرکے مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن یہ سب اس سیاست دان کے بارے میں فرمایا جارہا تھا جس نے ہندوستان سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کی تھی حالانکہ اس زمانے میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی بنیادی وجہ بھٹو کا بھارت مخالف بیانیہ تھا۔
معروف شاعرہ اور فکشن نگار فہمیدہ ریاض کے بقول ’بھٹو صاحب نے ایوب خان کے خلاف ساری مہم معاہدۂ تاشقند کی ’بے غیرتی‘ پر ہی چلائی تھی۔‘
معروف دانشور ڈاکٹر فیروز احمد نے کشمیر کا سودا کرنے کے الزام پر بھٹو کا دفاع کرتے ہوئے 1978 میں ’پاکستان فورم‘ کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان کی رجعت پسند پارٹیاں اور ان کے اخبارات بظاہر یہ سب کچھ حب الوطنی کے جذبے کے تحت کررہے ہیں۔ ’انھیں کشمیری عوام کے حقوق کے ساتھ اس قدر رغبت ہے کہ وہ ان حقوق سے ذرہ بھر انحراف برداشت نہیں کرسکتے، چنانچہ وہ سابق وزیراعظم کی ’غداری‘ کو بے نقاب کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں ….پاکستان کے اخبارات اپنی طفلانہ جبلت سے باز نہیں آسکتے۔‘
ڈاکٹر فیروز احمد نے لکھا کہ ’انھیں کسی نا پسندیدہ شخص کے خلاف کوئی شوشہ مل جائے تو وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کو اُچھالنے سے ہوسکتا ہے کہ ملک کے مفاد کو نقصان ہی پہنچے۔ انہوں نے اپنے مضمون کے اختتام پر لکھا کے بدقسمتی سے ہماری سرکاری، سیاسی، سماجی اور ذاتی قوتِ برداشت بڑی ضعیف ثابت ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت کے ساتھ اختلاف کرنا غداری بن جاتا ہے اور سیاسی اور سماجی امور میں رائے کا تصادم وطن دشمنی قرار پاسکتا ہے۔ اس فعلِ میں حب الوطنی کی ساکھ کے علاوہ کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ تاہم تاریخ نے ثابت کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو غدار نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کا ہیرو تھا چاہے یہ بات ثابت کرنے کے لیے اسے تختہ دار پر جھولنا پڑا۔
