ریحام خان کا اگلے الیکشن میں حصہ لینے کا عندیہ

وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے پاکستان پہنچنے کے بعد یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ سکتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کسی سیاسی جماعت کا ٹکٹ ملے۔ یعنی وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن نہیں لڑنا چاہتی بلکہ ممکنہ طور پر مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینا چاہیں گی۔ خیال رہے کہ ریحام خان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اکثر سیاسی تجزیے کرتی رہتی ہیں اور ان کا رجحان مسلم لیگ نواز کی طرف نظر آتا یے۔ اپنے تجزیوں میں وہ اکثر مریم نواز کی تعریف کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ان کے جرات مندانہ ابداز سیاست کی معترف ہیں۔
ریحام خان گزشتہ ہفتے پاکستان آئیں تھیں جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اپنے دورہ لاہور کے دوران وہ لاہور پریس کلب بھی پہنچیں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ اگلے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن بشرطیکہ کسی بڑی پارٹی نے انہیں ٹکٹ دینے کی پیشکش کی۔
بعد ازاں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی بڑی جماعت کی طرف سے ٹکٹ کی پیشکش کی گئی تو وہ الیکشن لڑنے میں دلچسپی لیں گی۔ ریحام کہنا تھا کہ وہ کسی بھینلندن پلان کا کبھی بھی حصہ نہیں رہیں کیونکہ وہ سازشوں کا حصہ بننے سے اجتناب کرتی ہیں اور سامنے آ کر لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں سے فاصلہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اپنے ماضی کے حوالے سے ریحام خان کا کہنا تھا کہ ایک ذاتی اور غلط فیصلہ میں نے کیا اور ایک گورنر پنجاب چودھری سرور نے کیا تھا۔ مجھے اپنے غلط فیصلے کے بارے میں 6 ماہ میں ہی پتا چل گیا تھا، لیکن چودھری سرور کو اپنی غلطی کا احساس ہونے میں تین سال لگ گئے۔ یاد رہے کہ چوہدری سرور اس وقت لندن میں ہیں اور اہنی تقریروں میں عمران خان حکومت کو چارج شیٹ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشین سے الیکشن مارشل لاء لائیں گے؟
ریحام خان کا کہنا تھا کہ آج کی تاریخ تک پاکستان مسلم لیگ ن اگلے الیکشن کی فاتح پارٹی ہے اور اس پارٹی کا ٹکٹ بھی فتح کا نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ملک واپس آنا چاہیئے کیونکہ انکی وطن واپسی سے ہی سیاست میں اگلی تبدیلی آئے گی۔
