کیا پاکستانی جنرل کا داماد واقعی برطانوی جاسوس ہے؟

ایک سویلین ہونے کے باوجود کورٹ مارشل کے بعد فوجی عدالت سے 14 برس قید کی سزا پانے والے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کو برطانوی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مائیکل سیمپل نامی برطانوی ایجنٹ کو پاکستان آرمی کے حوالے سے خفیہ معلومات پہنچاتے تھے۔ تاہم کورٹ مارشل کرنے والے اس سوال کا جواب دینے سے گریزاں ہیں کہ اگر خفیہ معلومات فراہم کرنے والے ادریس خٹک کو 14 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہے تو ان سے معلومات وصول کرنے والے برطانوی جاسوس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی حالانکہ مائیکل سیمپل نامی شخص پاکستانی فوج کے ایک سابق میجر جنرل ابوبکر مٹھا کا داماد ہے اور کالج کے دور سے ادریس خٹک کا ذاتی دوست ہے۔ ماضی میں افغان حکومت نے مائیکل سیمپل پر آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ لہذا اہم ترین سوال یہ ہے کہ مائیکل سیمپل برطانوی خفیہ ایجنسی کا جاسوس ہے یا آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ادریس خٹک پر لگے الزامات درست ہیں تو پھر مائیکل سیمپل کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
یاد رہے کہ ادریس خٹک کی گرفتاری کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ میں وزارت دفاع کے وکیل نے الزام عائد کیا تھا کہ ادریس خٹک برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے اہلکار مائیکل سیمپل کو قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کے لیے ‘سرکاری راز’ فراہم کرتے تھے۔ چنانچہ پشاور ہائی کورٹ نے ادریس خٹک کے وکیل کی جانب سے دائر کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ کیس کی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت سماعت جاری رکھی جائے۔
تاہم بعد ازاں مائیکل سیمپل کی پاکستانی اہلیہ یمیمہ مٹھا نے مائیکل کے ایم آئی سکس کا ایجنٹ ہونے سے متعلق الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے دونوں بچوں کو آئرش میڈیم سکول میں تعلیم دلوائی ہے جو کہ برطانوی پالیسیوں کے سخت خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کون سا برطانوی جاسوس ہو گا جو اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں تعلیم دلوائے گا۔ میجر جنرل ابوبکر مٹھا کی بیٹی یمیمہ مٹھا کے مطابق پاکستانی اداروں کی جانب سے مائیکل کی کسی جاسوسی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ مائیکل پر ادریس خٹک کے ساتھ رابطے کے بارے میں یمیمہ مٹھا کا کہنا تھا کہ مائیکل اور ادریس خٹک یونیورسٹی کے دنوں سے اچھے دوست تھے اور انکی ذاتی دوستی ہے۔ یمیمہ مٹھا کا کہنا تھا کہ ‘مائیکل سیمپل نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور وہ 2016 تک باقاعدگی سے پاکستان آتے رہے، تاہم جب 2016 میں انھیں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو وہ تب سے پاکستان نہیں آئے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران مائیکل سیمپل اسے اپنا اصل وطن قرار دیتے تھے۔درحقیقت چہرے پر ہلکلی بھوری داڑھی، شلوار قمیض اور پکول ٹوپی پہنے مائیکل سیمپل کو اگر کوئی اردو، پشتو یا دری بولتے سن لے تو وہ کہہ نہیں سکتا تھا کہ ان کا تعلق پاکستان یا افغانستان سے نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں کئی برسوں تک مختلف اہم سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے آئیرلینڈ کے اس باسی کو پاکستانی فوج نے برطانیہ کا خفیہ ایجنٹ کیوں اور کیسے قرار دیا، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جس کا مرکزی کردار مائیکل سیمپل نہیں بلکہ فوج کے زیرحراست سماجی کارکن ادریس خٹک ہیں۔ ادریس کو صوابی سے نومبر 2019 میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس واقعے کے ایک سال بعد وزارت دفاع نے یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ ان کی وزارت کے ایک ماتحت ادارے کی تحویل میں ہیں۔ ادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ کے مطابق ان کے موکل کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد ادریس خٹک پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مائیکل سیمپل کو خفیہ سرکاری راز فراہم کیے جن کی بنیاد پر پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے گئے اور معصوم شہریوں کی جانیں گئیں۔ دوسری جانب ادریس کے وکیل نے الزامات کو رد کیا تھا اور کہا تھا کہ ایک سویلین ہونے کے ناطے ان کی کسی فوجی ادارے تک رسائی نہیں لہذا وہ ایسی حساس معلومات کیسے حاصل کر سکتے تھے۔ انھوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ وہ خفیہ معلومات حاصل کرکے مائیکل سیمپل کو پہنچاتے تھے۔ یاد رہے کہ مائیکل نے اردو سمیت متعدد علاقائی زبانوں پر عبور پاکستان اور افغانستان میں اپنے 21 سالہ قیام کے دوران حاصل کیا تھا۔ یاد رہے کہ مائیکل کے سسر میجر جنرل ابوبکر مٹھا سابقہ مشرقی پاکستان میں ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے اور ان فوجی افسران میں شامل تھے جنھیں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جبری رخصت پر بھیجا گیا تھا۔
آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیدا ہونے والے مائیکل نے اٹلانٹک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1983 میں برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی میں معاشیات کے شعبے میں داخلہ لیا تھا اور یہیں ان کی ملاقات پاکستان کے سابق میجر جنرل ابوبکر مٹھا اور مشہور کلاسیکل رقاصہ اندو مٹھا کی بیٹی یمیمہ مٹھا سے ہوئی۔ دو سال بعد 1985 میں مائیکل سیمپل اور یمیمہ مٹھا نے شادی کر لی۔ شادی کے بعد مائیکل اپ خ اہلیہ یمیمہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے۔ یمیمہ مٹھا کے مطابق ‘میں پاکستان کے علاوہ کہیں اور نہیں رہنا چاہتی تھی اس لیے شادی کے بعد مائیکل میرے ساتھ پاکستان آئے اور یہیں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔’ یمیمہ کا کہنا ہے کہ مائیکل نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا۔ 2015 میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں مائیکل سیمپل نے کہا تھا کہ ‘میں پاکستان میں جہاں بھی جاتا ہوں تو میرا استقبال ایک گھر داماد کی طرح کیا جاتا ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔’ بلکہ ایک بار جب کسی نے انھیں پاکستان کا گھر داماد کہا تو انھوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔’
یہ بھی پڑھیں: ہم نے معاشرے میں ٹائم بم لگا دیئے ہیں
پاکستان آنے کے بعد مائیکل نے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور آبادی پر تحقیق کے قومی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز میں کام کیا اور اسی دوران آکسفورڈ یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 1988 میں یمیمہ مٹھا اور مائیکل سیمپل نے پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی این جی او آکسفیم میں ‘جاب شئیر` کے تحت پاکستان اور افغانستان کے لیے بطور نمائندہ کام شروع کیا اور یہ دونوں نو سال تک آکسفیم میں ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے۔ مائیکل کو انگریزی کے علاوہ اردو، پشتو اور دری زبان پر بھی عبور حاصل ہے اور وہ اب بھی متعدد بین الاقوامی اخبارات اور چینلز پر بطور تجزیہ کار افغان سکیورٹی اور امن عمل پر اپنا تجزیہ دیتے نظر آتے ہیں. یمیمہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں نے ایک عہدے پر کام کیا۔ ہمیں تنخواہ ایک شخص کی ملتی تھی جبکہ کام ہم دونوں کرتے تھے۔’ 1997 میں آکسفیم کو خیر باد کہنے کے بعد مائیکل نے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ ٹونی بلیئرانسٹیٹیوٹ فار گلوبل چینج کے مطابق وہ اقوام متحدہ کی اس سیاسی ٹیم کا حصہ تھے جس کا مقصد 2001 میں طے پانے والا بون معاہدہ جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی جمہوری حکومت قائم کی گئی، کے نفاذ کو یقینی بنانا تھا۔
اقوام متحدہ میں پانچ سال کام کرنے کے بعد مائیکل نے برطانوی ہائی کمیشن کے لیے بطور مشیر برائے انسانی حقوق کام کرنا شروع کیا اور ابھی انھیں ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ 2004 میں انھیں افغانستان میں یورپی یونین کا نائب نمائندہ مقرر کر دیا گیا۔ مائیکل سیمپل افغان جنگ کے آغاز سے ہی تمام فریقین کے درمیان مذاکرات اور امن عمل کے حامی رہے اور 2007 میں حامد کرزئی کی حکومت کی جانب سے انھیں اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی برطانوی شہری مرون پیٹرسن کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ کرزئی حکومت کی جانب سے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے افغان حکومت کی اجازت کے بغیر طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کیے۔ 2007 میں جب ان پر طالبان سے مذاکرات کا الزام عائد کیا گیا تو کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بھی الزام سامنے آیا کہ چونکہ مائیکل ایک سابق پاکستانی جرنیل کے داماد ہیں لہٰذا ان کے تعلقات آئی ایس آئی سے ہیں اور وہ ایک ایجنٹ ہیں۔ لیکن مائیکل نے خود پر لگنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام فریقین سے بات چیت کرنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے اور انھیں اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے اجازت حاصل تھی جبکہ اقوام متحدہ کے کابل میں ترجمان علیم صدیقی نے بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔ مائیکل نے افغانستان سے نکالے جانے کے بعد بھی افغان سکیورٹی اور سلامتی سے متعلق امور پر کام جاری رکھا اور یورپی یونین کے لیے بھی کام کرتے رہے جبکہ افغانستان سے ملک بدر کیے جانے کے دس سال بعد افغان حکومت کی جانب سے ہی انھیں مشیر برائے امن کونسل مقرر کیا تھا۔ تاہم ادریس خٹک کے کورٹ مارشل کے بعد یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا مائیکل واقعی برطانوی خفیہ ایجنسی کے جاسوس ہیں یا نہیں؟
