گورنمنٹ کالج کو دینی مدرسہ بنانے پر اولڈ راوینز نالاں

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی اولڈ راوینز یونین نے وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس تاریخی درسگاہ کو ایک اسلامی مدرسے میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اولڈ راوینز یونین کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی کے نام ایک احتجاجی خط میں کہا گیا ہے کہ کالج انتظامیہ مولانا طارق جمیل اور ڈاکٹر رفیق اختر جیسے لوگوں کو لیکچرز کے لیے مدعو کر کے طلبہ کو روشن خیالی کی بجائے بنیاد پرستی کو فروغ دے رہی یے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ ہالینڈ، انگلینڈ اور جنوبی کوریا کی بہترین یونیورسٹیز میں اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنیوالا آپ جیسا زیرک اور پڑھا لکھا شخص کیسے ایک مذہبی انتہاپسند میں تبدیل ہو چکا ہے اور اپنے ادارے کا جنرل ضیاالحق بن کر اس کی بنیادوں میں الٰہیات کا زہر ہلاہل گھولنے میں مصروف ہے۔

اولڈ راوینز اپنے خط میں وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وجود خدا ہنوز فلسفے کی دنیا کا ایک حل طلب مسئلہ ہے، چہ جائیکہ آپ ایک تصوراتی خدا سے منسوب عربوں کے بنائے ہوئے دیو مالاِئی مذہب اسلام کی تعلیمات کو ان اذہان پہ مسلط کرنے کی کوشش کریں جو آئے تو گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھنے تھے مگر اب جامعہ گورنمنٹیہ کالجیہ کے طالبعلم بن چکے ہیں۔ اگر آپ کا مقصد دام روحانیت کے اسیر وزیر اعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کے بیانیے کو سپورٹ کر کے اپنے عہدے کو طول دینا ہے تو یاد رکھئے ثبات صرف ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ اگر آپ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو آپ کو عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں اولڈ راوینز یونین پوری شدومد سے آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

اولڈ راوینز یونین کی جانب سے لکھے گے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ 20 اپریل 2021 کو یونین کی تقریب حلف برداری کے بعد بھی آپ سے درخواست کی گئی تھی کہ ہم نے گورنمنٹ کالج کے بام و در میں فیض احمد فیض، ڈاکٹر نذیر احمد، پطرس بخاری، دیو آنند اور ڈاکٹر عبدالسلام سمیت سینکڑوں نابغہُ روزگار شخصیات کو کالج کے سیکولر انوائرمنٹ کو انجوائے کرتے دیکھا۔ پھر ہم نے ان شخصیات کو عظمت کی کہانیوں میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔

ہم نے بخاری آڈیٹوریم کے سٹیج پر شیکسپٹر کے ڈراموں پر مخلوط رقص ہوتے بھی دیکھا ہے اور موسیقی کی محفلیں برپا ہوتے بھی دیکھیں۔ ہم نے کالج کے "لو گارڈن” میں طالبعلم جوڑوں کو محبت کی شادی کر کے بڑھاپے میں جوڑوں کے درد تک ساتھ چلتے بھی دیکھا ہے لہذا اس ادارے میں مذہبیت کے فروغ سے گریز کیجئے۔ تاہم ہماری تمام گزارشات کے باوجود آپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور آپ بڑے شدومد سے اپنا بنیاد پرستی کا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ کبھی آپ تاریخی بخاری آڈیٹوریم میں پروفیسر رفیق اختر جیسے کارٹون کو مدعو کر لیتے ہیں جو 345 سال بعد کی قیامت کی تاریخ سنا کر چلا جاتا ہے۔ کبھی آپ مولانا طارق جمیل جیسے حوروں کے سوداگر کو خطبہُ جمعہ کے لئے مدعو کر لیتے ہیں جو جنت میں 130 فٹ لمبی حوروں کی نوید سناتے ہیں۔

لہٰذا اولڈ راوینز یونین آپ سے بطور وائس چانسلر یہ سوال کرتی ہے کہ جی سی کی ایک مسجد کیا ہر وقت بھری رہتی تھی جو آپ کروڑوں کی لاگت سے ایک اور مسجد بنانے چلے ہیں۔ اسی پیسے سے آپ آڈیٹوریم کے سامنے والے 1859 میں تعمیرکردہ ہال کو سنٹر فار بایو جینوم ریسرچ میں تبدیل کر سکتے تھے مگر آپ نے بابل کا وہ کاہن بننا زیادہ مناسب سمجھا جو زمین کی ساخت کا سوال سن کر امل مردوک دیوتا کی صفات بیان کرنا شروع کر دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ججوں کے اثاثوں کی تفصیل کیوں چھپائی جا رہی ہیں؟
گورنمنٹ کالج کے سابق طلباء کی یونین نے اپنے خط میں مذید لکھا ہے کہ ہمیں اس سے چنداں فرق نہیں پڑتا کہ آپ تہجد سمیت کتنی نمازیں پڑھتے ہیں، ہمیں یہ جاننے کا بھی شوق نہیں کہ آپ نے اپنے ذہن کو اڑتے گھوڑے کی متھ سے کیسے مطمئن کیا ہے، ہمیں صرف اس بات سے غرض ہے کہ آپ کو اس تاریخی یونیورسٹی کی فلاح کی جو ذمہ داری دی گئی ہے، آپ اس پر توجہ دیجیے، بجائے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو ایک دینی مدرسہ بنانے کی کوشش کریں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر آپ کالج کے طلباء پر اپنا دقیا نوسی ایجنڈا تھوپ کر موجودہ حکمران کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یاد رکھیے کہ وہ تو لوگوں کو استعمال کرکے ٹشو کی طرح پھینک دیتا ہے۔ آخر میں وائس چانسلر کو کہا گیا ہے کہ اس خط کا جواب لکھنے کی زحمت مت کیجئے گا کیوں کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طالبعلم اور درد دل رکھنے والے اساتذہ خود ہی بتا دینگے کہ زیدی صاحب پر اس نصیحت کا اثر ہوا ہے یا علامہ اقبال کا مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر ہونے کا دعوٰی درست ہے۔

Back to top button