ریڈ زون میں پی ٹی آئی کارکنوں اور ن لیگی رہنماؤں کی ہاتھا پائی

اسلام آباد کے ڈی چوک پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو کے دوران تحریک انصاف کے حامی کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور ن لیگی رہنماؤں کا گھیراؤ کر لیا جس پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو پریس کانفرنس روکنا پڑی۔
سنیچر کو وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن کے رہنماؤں اور ڈی چوک میں جمع ہو جانے والے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے درمیان دھکم پیل شروع ہوگئی اور اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کی پریس کانفرنس کو سبو تاژ کرنے کےلیے "کرائے کے غندڈے” بھیجیے تھے۔ سنیچر کی صبح وزیراعظم کے ووٹ سے پہلے اپوزیشن کے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مصدق ملک، ترجمان مریم اورنگزیب نے جب پریس کانفرنس کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ پی ٹی آئی کے کارکن جنھوں نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے اپوزیشن رہنماؤں کے قریب ہوگئے اور اپوزیشن کے الزام کے مطابق ’انھیں گھیرے میں لے کر حملہ کر دیا۔‘ اس موقع پر ٹیلی وژن کے لائیو مناظر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کے ارکان اور کچھ پی ٹی کارکنوں نے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور دھکم پیل شروع ہوگئی۔ بدمزگی کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے ایک بار پھر پریس کانفرنس شروع کی اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صدر، وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کا غیر آئینی اجلاس بلانے میں ملوث ہیں۔ سنیچر کو اسلام آباد ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا قومی اسمبلی کااجلاس غیر آئینی ،غیر قانونی، غیر اخلاقی ہے۔ وزیراعظم کے پاس نہ اکثریت ہے نہ وہ بات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ صدر بتائیں کہ عمران خان کو کہا کہ تمہاری اکثریت ختم ہو چکی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے چوروں کا ہر فورم پر مقابلہ کرنا ہے، بدمعاشی کی سیاست نہیں چلے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ فاشزم کی سیاست نہیں چلے گی، ہرفورم پر مقابلہ کریں گے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ’میڈیا کے سامنے ہم پر حملہ کیا گیا، یہ وہ ریاست ہے جس کا ذکر عمران خان کرتے ہیں۔‘ انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کیا یہ ہے مدینے کی ریاست؟‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button