زندگی میں کسی منشیات فروش سے تعلق نہیں رکھا، جھوٹا کیس بنایا گیا

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے شہریار آفریدی کے بیان کے جواب میں کہا کہ’اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ زندگی میں کسی منشیات فروش سے تعلق نہیں رکھا، کسی بھی پراسیکیوشن میں پہلے تفتیش کا عمل ہے بعد میں ٹرائل ہوتا ہے لیکن منشیات کے مقدمے میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی اور مجھ سے کسی تفیشی افسر نے بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ ‘ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ شہریار آفریدی کو حقیقت معلوم ہے لیکن یہ صرف ادھرا ُدھر کی ہانک رہے ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت نے 126 لوگوں کو ٹرائل کیا، شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں، ماڈل ٹاؤن کیس میں 15 سیاستدان شامل ہیں جن میں سے ایک میں بھی ہوں جبکہ کیس کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہمیں قابل قبول ہوگا۔’
قبل ازیں وفاقی وزیر شہریار آفریدے کے خطاب کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ خان قومی اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو ان کی جماعت کے دیگر اراکین نے ‘’ شیر آیا، شیر آیا’’ کے نعرے لگانا شروع کر دئیے۔
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ اے این ایف نے گرفتار کرکے نہیں بتایا کہ کس الزام میں گرفتار کیا؟ عدالت سے پتا چلا کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔ مقدمے سے متعلق تفتیشی نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کسی بھی پراسیکیوشن میں پہلے تفتیش کا عمل ہے، بعد میں ٹرائل ہوتا ہے۔ مجھ پر منشیات سمگلنگ گروہ کا الزام لگایا گیا۔ اللہ کو حاضر وناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ میرا منشیات فروشوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے قرآن پاک میں قسم اٹھانے سے متعلق فرمایا ہے۔ شہریار آفریدی قسم اٹھائیں تو اللہ انصاف کر دے گا۔ وہ کہیں کہ اگر میں غلط بات کر رہا ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔
اس موقع پر قومی اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی اور شور شرابا شروع ہوگیا۔ صورتحال کشیدہ ہونے لگی تو اس موقع پر قائم مقام سپیکر اسمبلی سید فخر امام نے دونوں اطراف کو چپ کرواتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے، اس کا فیصلہ قران پر اور یہاں نہیں ہو سکتا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو منشیات کیس میں قران پاک پر قسم اٹھانے کا چیلنج دیدیا۔ قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر سید فخر امام نے صورتحال کو کشیدہ ہونے سے بچایا اور کہا کہ یہاں پر اس پر مزید بحث نہیں ہونی چاہیے، یہاں فیصلہ قرآن پر نہیں ہوگا، مقدمہ عدالت میں ہے۔
