عام انتخابات، امریکہ اور برطانیہ کی پاکستان کو دھمکیاں؟

ملک میں جہاں ایک طرف امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف مغربی ممالک کے سفارتکاروں کی پھرتیوں اور ملاقاتوں نے سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہیں دوسری طرف مختلف مغربی ممالک نے پاکستان میں بروقت، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے دباؤ ڈالنا اور دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ اہم مغربی ممالک نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے پارلیمانی انتخابات میں مقررہ وقت سے زائد تاخیر سے ملک کیلیے سنگین نتائج برآمد ہونگے جس میں ممکنہ طور پر تعلقات میں کمی بھی شامل ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور یورپی یونین انتخابات کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں میں خدشات ہیں پاکستان میں انتخابات نہیں ہو سکتے اور موجودہ نگراں سیٹ اپ مقررہ مدت سے آگے جا سکتا ہے۔آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات 90 دن کے اندر کرانا ہوں گے۔ تاہم پی ڈی ایم حکومت کے دور میں مشترکہ مفادات کی کونسل نے مردم شماری کے نئے نتائج کی منظوری دی تھی۔اس اقدام کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے موقف اختیار کہ وہ قانون کے مطابق آئندہ انتخابات سے قبل ایسا کرنے کا پابند ہے تاہم اس مشق میں 4 ماہ لگیں گے اور اس کے بعد انتخابات ہو سکتے ہیں۔سفارتی ذرائع نے بتایا حلقہ بندیوں اور بعض تکنیکی معاملات کی وجہ سے چند ماہ کی تاخیر برداشت کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر انتخابات اگلے سال فروری سے آگے تاخیر کا شکار ہوئے تو ملک کیلیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے انتخابات میں تاخیر کی صورت میں، مغربی ممالک، جو جمہوریت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ اس سے آئی ایم ایف سمیت امریکی زیر قیادت مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی شمولیت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مغربی ممالک چاہتے ہیں نہ صرف انتخابات وقت پر ہوں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کا میدان فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد میں بعض اہم ممالک کے سفارتکاروں کی سرگرمیاں سیاسی حلقوں میں باعث تشویش ہیں۔ جس کی توجیحات وہ ملک میں جمہوری نظام کے تعطل میں ایک بڑے وقفے کی شکل میں دیکھتے ہیں ،ملک کی سیاسی صورتحال پر سیاستدانوں کی بظاہر لاتعلقی، مستقبل کی غیریقینی صورتحال کے خدشات کے پیش نظر اور خاموشی کے باعث اقتصادی ماہرین، معاشی تجزیہ نگاروں اور تاجر دانشوروں نے سبقت حاصل کی ہوئی ہے جو ’’نگرانوں‘‘ کو مشاورت کا فریضہ انجام دینے سے لیکر ’’نگرانوں‘‘ کیلئے عملی تعاون کی بھی پیشکشیں کر رہے ہیں اور ان کے اعتماد اور حوصلہ افزائی میں اس وقت زیادہ اضافہ ہوا جب ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر سیاستدانوں کے بجائے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خود تاجروں اور سرمایہ۔کاروں سے مشاورت کرنے اور انھیں اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا اور ان سے کھل کر باتیں کیں۔ آنے والے حالات و واقعات کے حوالے سے نگرانوں کے عزائم سے ایک طرف تو بے خبری کا عالم تو دوسری طرف اپنی غلطیوں اور ان الزامات کا خوف جو سیاستدانوں نے خود ایک دوسرے پر عائد کئے تھے ان کیلئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صدر، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بننے اور بنوانے والے اہم سیاستدانوں، ماضی کے حکمرانوں اور ان کے رفقاء کی بڑی تعداد ملک سے باہر ہے اور تیسری جماعت کے سربراہ سمیت ان کے حامی اور ساتھی جیلوں کے اندر۔ اور اب بعض خوش فہم صدر عارف علوی اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے توقعات لگائے بیٹھے ہیں جن کے منصب کی ذمہ داریوں کے دن گنے جاچکے ہیں۔ تاہم اس صورتحال میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی جانب سے ملک میں عام انتخابات وقت مقررہ پر کرائے جانے کا عزم صمیم، ارادے اور اعادے سیاسی حلقوں میں امیدیں بھی پیدا کررہے ہیں جبکہ اپوزیشن کے بعض حلقے وکلاء کی تحریک سے بھی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ اس سارے منظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بعض اہم ممالک کے سفارتکاروں کی سیاسی سرگرمیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور یورپی یونین کی سفیر رینا کیونکا اور اعلیٰ حکام کے نگران وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ان کی ملاقاتیں تو خیران کے منصب کا تقاضہ ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں جب ملک میں نگران حکومتیں قائم ہیں اور روایتی طور پر نگران حکومت کے قیام کے عرصے میں اہم ممالک کے سفیر، ہائی کمشنرز سیاستدانوں سے ملاقاتوں کی اس لئے بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ نوے دن کی مہمان حکومت جو معینہ مدت میں ملک میں انتخابات کرانے کیلئے قائم ہوتی ہے اس کے بعد اسے رخصت ہوجانا ہے اس لئے وہ اپنی سرگرمیوں، رابطوں اور ملاقاتوں کیلئے نئی حکومتوں کے قیام کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ صورتحال ایسی نہیں جس کا اندازہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی اعلانیہ سرگرمیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ امریکی سفیر نے پی ڈی ایم کی حکومت میں ہی قابل ذکر سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا اب چیف الیکشن کمشنر کے آفس اور فواد چوہدری کے گھر جاکر ان سے ون آن ون طویل ملاقات، مری میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہیں کہ اندرون خانہ کوئی نہ کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔امریکی سفیر نے کراچی میں گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ بعض دیگر شخصیات سے بھی رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں جبکہ امریکی سفیر لاہور میں نگران حکومت کے وزیراعلیٰ محسن نقوی سمیت کئی وزراء سے بھی رابطے اور ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
اسی طرح یورپی یونین کی سفیر رینا کیونکا بھی مختلف اوقات میں پاکستانی شخصیات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سب ملاقاتیں چونکہ اعلانیہ تھیں اس لئے ان ملاقاتوں کے حوالے سے جو بیانات جاری کئے گئے ان میں یہ کہا گیا کہ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے دوطرفہ مشاورت میں ان کا کرداراور الیکشن کے وقت مقررہ میں انعقاد کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال اور تعاون کی پیشکش شامل ہے لیکن خدشات سے مضطرب حلقوں کے اس صورتحال میں وسوسے کچھ اور ہی ہیں۔
