سانحہ پی آئی سی کا اصل ذمہ دار کون؟

سانحہ پی آئی سی میں وسیم اکرم پلس انتظامیہ کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے، حکومتی دعووں کے برعکس ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاس وکلاء کے احتجاجی اور پر تشدد مظاہرے بارے اسپیشل برانچ کے پیشگی الرٹ رپورٹس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ وکلاء کے جارحانہ مظاہرے کی اطلاعات کے باوجود کسی قسم کی بدامنی اور افراتفری سے بچاؤ کیلئے پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انتظامی نا اہلی کی وجہ سے وکلاء کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے دوران طبی امداد نہ ملنے سے 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ وکلاء اور ڈاکٹروں کی بجائے سانحہ پی آئی سی جیسے پر تشدد واقعہ کی اصل ذمہ داری پنجاب کے شیر شاہ سوری اور صوبائی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
حکام نے بتایا کہ وسط ایشیائی ملک قازقستان میں ٹیک آف کے فورا بعد طیارہ حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ جب نور سلطان نذر بائی نے ٹیک آف کیا اور کنکریٹ کی باڑ سے ٹکرا گیا ، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ، طیارہ طلوع آفتاب اور دھند سے پہلے لینڈ کر گیا۔ حادثہ اس وقت اس علاقے میں ہوا تھا
