ساڑھے تین روپے والی بجلی کی 65 روپے فی یونٹ وصولی؟

پاکستان میں جہاں صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 65 روپے سے تجاوز کر گئی ہے وہیں ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ واپڈا اپنے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس میں پیدا ہونیوالی بجلی نیشنل گرڈ میں 3روپے 51پیسے فی یونٹ میں مہیا کر رہا ہے جبکہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 6نیوکلیئر پاور پلانٹس نیشنل گرڈ میں 16روپے فی یونٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں،ایٹمی توانائی کمیشن 32سو میگاواٹ سے زائد جوہری بجلی 16روپے یونٹ فراہم کر رہا ہے۔ یعنی ہائیڈرو‘ نیوکلیئر بجلی ملک میں امپورٹیڈ کول‘ ڈیزل‘ گیس‘ پٹرول سے بننے والی بجلی سے انتہائی ارزاں نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے ۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ون‘ ٹو‘ تھری‘ فور اور پیراڈائز پوائنٹ کراچی کے ساحل پر واقع کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹو‘ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری اور مجموعی طور پر سوا 3سے ساڑھے 3ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو دے رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں امپورٹیڈ کوئلے سے پیدا ہونیوالی بجلی کے ساتھ ساتھ درآمدی فرنس آئل‘ ڈیزل‘ گیس اور پٹرول سے بنائی جانیوالی بجلی حتیٰ کہ پچاس سے زائد انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز کی طرف سے مہیا کی جانیوالی بجلی اور اُنکے کپیسٹی سرچارج ادا کر کے قوم کو مہنگی ترین بجلی نیشنل گرڈ میں آ رہی ہے۔ فی الحال آئی پی پیز سے حکومت نے بجلی کی خریداری ختم یا نہ ہونے کے برابر کر دی ہے مگر تمام آئی پی پیز کو وزارت خزانہ حکومت پاکستان سے معاہدوں میں درج ’’کپیسٹی چارجز‘‘ ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ واپڈا کے 2بڑے پن بجلی گھر جو تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم‘ غازی بروتھا میں بجلی پیدا کر رہے ہیں‘ اُنکی پیداواری استطاعت 9ہزار 459میگا واٹ ہے۔ واپڈا نیشنل گرڈ میں 8ہزار میگا واٹ بجلی 3روپے 51پیسے فی میگاواٹ کے ریٹ پر دے رہا ہے جو صارفین 20روپے سے 65روپے تک فی یونٹ خریدنے پر مجبور ہیں۔ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک بجلی تربیلا میں 3ہزار 478میگا واٹ بنا رہا ہے جبکہ تربیلا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے چوتھے توسیعی منصوبے سے 1410میگا واٹ بجلی بنا رہا ہے۔ غازی بروتھا ہائیڈرو پراجیکٹ سے 1450میگا واٹ بجلی بنا کر نیشنل گرڈ میں مہیا کر رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے رواں ماہ میں کسی بھی وقت بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 4روپے 96پیسے فی یونٹ اضافے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی مہنگی بھلی کے ستائے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے 5 روپے فی یونٹ اضافہ بنیادی ٹیرف میں کیا جا رہا ہے جبکہ بجلی کی بنیادی قیمت کے علاوہ دیگر ٹیکسز‘ سرچارجز‘ فیول ایڈجسٹمنٹ‘ کپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگی صارفین کو الگ سےکرنا پڑیگی۔
حکومت کی جانب سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 5 روپے یونٹ اضافے کے بعد ٹیکسز کے علاوہ 500یونٹ پر بجلی بل 13سے بڑھ کر 16ہزار‘ 700یونٹ پر 24سے بڑھ کر 28ہزار ہوجائےگا ،ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئی ایم ایف سے سبسڈی کی رعایت ملنے پر بنیادی ٹیرف اور صارفین پر بجلی کا اضافی بوجھ ڈالنے کیلئے فیصلہ کریگی۔ نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر جو فیصلہ کیا ہے اس فیصلے پر عملدرآمد کی صورت میں گھریلو صارفین پر سلیب وائز بوجھ پڑیگا۔ ماہانہ سو یونٹ کا ٹیرف 13اعشاریہ چار سے بڑھ کر 18اعشاریہ 36روپے یونٹ بغیر ٹیکسوں اور سرچارجز کے ہو جائیگا۔ سو یونٹ استعمال کرنے والے صارف کا بل 1836روپے آئیگا۔ ماہانہ 200یونٹ کا ٹیرف 23روپے 91پیسے فی یونٹ ہو گا اور بل 3700سے بڑھ کر 4700روپے ماہانہ ہو جائیگا۔ 300یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کا بجلی کا بل 6ہزار سے بڑھ کر 8ہزار تک پہنچ جائیگا۔ 4سو یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا بل 10ہزار سے بڑھ کر 12ہزار تین سو روپے ہو جائیگا۔ 500یونٹ کے استعمال پر بجلی کا بل 13ہزار سے بڑھ کر 16ہزار تک جا پہنچے گا۔ ماہانہ 700یونٹ استعمال کرنے پر بل گزشتہ مہینے تک 24ہزار روپے آیا تھا وہ بڑھ کر 28ہزار روپے ہو جائیگا۔ ان بلوں میں نصف درجن کے لگ بھگ ٹیکسز‘ سرچارجز‘ کپیسٹی پیمنٹ اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ الگ سے شامل ہونگے۔
