سجاد علی کا گانا ’’راوی‘‘ دوبارہ میوزک ریڈار پر کیسے آ گیا؟

معروف پاکستانی گلوکار سجاد علی کے گانے ’’راوی وچ پانی کوئی نئیں‘‘ نے 2019 کے دوران ایسی دھوم مچائی کہ مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے لیکن اس کے بعد یہ گانا منظر سے غائب ہوگیا لیکن اب بھارتی گلوکارہ حنا نازلی نے اس کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
بھارتی پنجاب لدھیانہ سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ حنا ناز بالی اس گانے کو دوبارہ ریڈار پر لے آئی ہیں، 2 ماہ قبل ریلیز ہونے والے گانے کے نتائج غیر معمولی تھے۔ انہیں یوٹیوب پر توقع سے زیادہ ویوز ملے، یہی نہیں پاکستان سے بھی انہیں سراہا گیا، حنا ناز بالی کے اعزاز کی بات یہ ہے کہ انہیں سجاد علی کی جانب سے بھی سند پذیرائی بخشی گئی ہے۔
27 سالہ ناز بالی کہتی ہیں کہ جب انہوں نے یہ دھن سنی تو انہیں اس دھن سے پیار ہو گیا کیونکہ اس میں تقسیم، اس کا درد اور کھوئی ہوئی محبت کی کہانی جیسے بہت سے جذبات شامل ہیں، موسیقی اپنے موسیقار والد مقبول بالی سے سیکھی جنہوں نے پاکستانی غزل استاد غلام علی کی سرپرستی میں موسیقی سیکھی تھی۔ انکی والدہ ناظمہ بالی اور خالہ شرنجیت پرمار بھی پنجاب میں ریڈیو اور ٹی وی آرٹسٹ ہیں۔
وائرل گانا ’راوی‘ نہ صرف سرحد کی دونوں جانب بہنے والے دریا راوی کی یاد دلاتا ہے بلکہ مشترکہ ثقافت، ورثے اور شناخت کی یاد بھی دلاتا ہے۔ ماضی میں ملکہ ترنم نور جہاں، سریندر کور، مسرت نذیر اور آسا سنگھ اور مستانہ جیسے گلوکاروں نے بھی اپنے گیتوں کو سرحدوں سے ماورا قرار دیا تھا، سجاد علی کے گانے راوی نے بھی اسی تناظر میں بھارت میں گزشتہ چند ماہ سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پیار اور توجہ حاصل کی، جس کی اہم وجہ راوی کا مشترکہ ورثہ ہے۔
پنجابی گانے ’راوی‘کے بول سجادعلی نے لکھے تھے اور اس کی کمپوزیشن بھی خود تیار کی تھی، میوزک شابی علی نے دیا تھا جبکہ ویڈیو عمیر شہزاد نے بنائی تھی۔ نومبر 2019 میں ریلیز کیے گئے گانے کو شائقین موسیقی ایک کروڑ 20 لاکھ بار سے زائد مرتبہ دیکھ اور سن چکے ہیں۔
اس گانے کے مکھڑے کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے اگر یہاں سے دریائے راوی بہتا تو مجھے پنجاب کی موجودگی کا احساس ہوتا، میں تمام رکاوٹوں سے آزاد ہو جاؤں گا اور اس کے پانی سے سانسیں نچوڑ لوں گا۔ یہ گانا تارکین وطن یا پردیسیوں کے لیے خراج تحسین تھا جو گھر بار چھوڑ کر حصول روزگار کے لیے بیرون ملک مقیم ہیں۔
سجاد علی کے مطابق یہ گانا ان کے لیے ہے جو گھر سے دور اپنا گھر بنا لیتے ہیں، وہ افراد جو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو یاد کرتے ہیں، اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں، اپنی زبان کی خوبصورتی، اپنی ثقافت اور ہر وہ بات جو ان کی پہچان بناتی ہے اسے یاد کرتے ہیں، انہوں نے اپنے گانے کو تمام پردیسیوں کے نام کیا تھا۔

Back to top button