نواز شریف اپنے پوشیدہ سیاسی کارڈ کب سامنے لائیں گے؟ 

سیاست صبر اور برداشت کا نام ہے۔ سیاسی فیصلے جوش سے نہیں ہوش سے کئے جاتے ہیں۔ حماقت میں کئے فیصلوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے جیسے بانی تحریک انصاف آج چکا رہے ہیں، نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ سے جوش میں آ کر لڑائی کی۔ اس وقت چوہدری نثار نے نوازشریف کے اس بیانیے کی مخالفت کی تو نوازشریف نے ان کو سائیڈ لائن کر دیا، پھر کچھ عرصے بعد وہی نوازشریف اپنے بھائی شہبازشریف کے کہنے پر خود سائیڈ لائن ہوگئے۔نوازشریف گزشتہ تین سال سے لندن میں مقیم ہیں، اس بات کا نوازشریف کو بھی علم ہے کہ انکی جماعت نے سابقہ حکومت کا تمام ملبہ اٹھایا اور بھائی کی حکومت ہونے کے باوجود وہ پاکستان نہیں آ رہے۔ تاہم نوازشریف نے جوش کی بجائے ہوش اور سمجھداری سے فیلڈنگ لگانا شروع کر دی ہے۔ تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والے نوازشریف اب وہ بی اب بار بار کی ٹھوکریں کھانے کے بعد سیاست کے داﺅ پیچ بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ نوازشریف نے ابھی تک دو کارڈ کھیلے ہیں جبکہ ان کے حریف اپنے تمام کارڈ کھیل چکے ہیں۔ نوازشریف کے پاس ابھی دو کارڈ باقی ہیں۔ ایک کارڈ وہ جولائی میں دوسرا کارڈ اکتوبر میں سامنے لائیں گے۔

دوسری طرف نوازشریف اور جہانگیرترین کو نظرثانی کی درخواستیں دائر کرنے کا دوبارہ موقع مل گیا ہے۔ نوازشریف اور جہانگیر ترین ایک ساتھ ہی نااہل ہوئے تھے لیکن اسوقت جہانگیر ترین بانی تحریک انصاف کے دست راست تھے لیکن اب خود ایک پارٹی کے مالک مختار ہیں۔ اب نوازشریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی بھی ایک ساتھ ہی ختم ہوگی۔ ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کے تحت متاثرہ فریق کو 60 دن میں نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا حق ہے۔

اس حوالے سے ن لیگ کے وفاقی وزیر جاوید لطیف قرار دے چکے ہیں کہ جب چیف جسٹس عمر عطاء جائیں گے تب نواز شریف کی نظرثانی اپیل دائر کی جائے گی۔ جہانگیر ترین نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے مسلم لیگ ن کی مدد کی تھی۔ لٰہذا ن لیگ آئندہ الیکشن میں استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ ن لیگ کو تاحال ترین گروپ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے اچانک قیام کا اصل خطرہ پیپلز پارٹی کو ہے کیونکہ پیپلز پارٹی دھڑا دھڑ جنوبی پنجاب سے کچھ نئے پرانے چہروں کو اپنی جماعت میں شامل کر رہی تھی جس کو ترین پارٹی نے بریک لگا دی ہے۔ ویسے بھی جہانگیر ترین کا پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد ہونا مشکل ہے۔

نوازشریف سیاسی معاملات میں لچک کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جبکہ آصف زرداری اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ جہانگیر ترین لندن روانہ ہوچکے ہیں ۔قوی امکان ہے انکا دورہ دو ہفتوں کا ہے جس میں وہ پارٹی کے اوورسیز حمایتیوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے اور اپنا طبی معائنہ بھی کروائیں گے۔ جہانگیر ترین کی نوازشریف یا حسین نواز سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

سابق صدر آصف زرداری اچانک دو ہفتوں کیلئے دبئی جا چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں آصف زرداری شہبازشریف اور مقتدر حلقوں سے ناراض ہو کر دبئی گئے ہیں۔ اس کی دو وجوہات بتائی گئی ہے۔ پہلی شہبازشریف حکومت نے بجٹ میں سندھ کے لئے کوئی خاطر خواہ منصوبوں کا اعلان نہیں کیا، دوسرا آصف زرداری پنجاب میں نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے قیام سے بھی ناخوش ہیں۔

آصف زرداری نے پنجاب میں حکومت بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اسکے تحت وہ جنوبی پنجاب اور سطی پنجاب سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن اچانک ترین پارٹی کی انٹری رکاوٹ بن گئی ہے جس پر پیپلزپارٹی قیادت نون لیگ سے ناراض ہے کیونکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ انھیں کاؤنٹر کرنے کیلئے ہی استحکام پاکستان پارٹی کو لانچ کیا گیا ہے اورر یہ دراصل مسلم لیگ ن کی ہی بی ٹیم ہے۔اب آنے والا وقت

صندل خٹک کی درخواستِ ضمانت منظور

ہی بتائے گا کہ لیگی قیادت اپنے اتحادیوں کو کیسے رام کرتی ہے۔

Back to top button