سرکاری اداروں کے خسارے میں جانے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

 

پاکستانی سرکاری ادارے مسلسل خسارے کا شکار ہیں جن کی وجہ سے دیگر اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے، نگران وزیر خزانہ نے ایسے 20 اداروں کی فہرست تیار کر لی ہے، جن میں سے دس ادارے منافع بخش ہیں جبکہ دس بڑے خسارے کا شکار ہیں۔اربوں روپے کے خسارے کا شکار ان اداروں میں پاکستان ریلوے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (پی آئی اے)، پاکستان سٹیل مل اور بجلی بنانے والی کمپنیاں سرِفہرست ہیں، جنھیں فعال رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کو ہر سال اربوں روپے قومی خزانے سے ادا کرنا پڑتے ہیں۔تاہم دوسری جانب حکومتی تحویل میں ہی چلنے والے تیل و گیس اور بینکاری جیسے شعبے بھی ہیں جو سالانہ کئی سو ارب کا نفع کماتے ہیں، ان اداروں کی نجکاری سے متعلق ماضی میں کئی حکومتیں اعلانات کرتی آئی ہیں مگر ہر مرتبہ اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت، مزدور یونینوں کی مزاحمت اور عدالتی فیصلے اس کام میں مزاحمت کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے خسارے میں چلنے والے جن بڑے اداروں کی فہرست پیش کی ان میں سرفہرست کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو)، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاکستان ریلوے ہیں، گذشتہ مالی سال میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 76 ارب روپے رہا ہے، 2022 میں پاکستان ریلوے کا خسارہ 48 ارب جبکہ این ایچ اے کا خسارہ 45 ارب روپے رہا ہے۔حکومتی تحویل میں خسارہ کرنے والے اداروں کے بارے میں جب ان اداروں کی اعلیٰ انتظامیہ اور غیر جانبدار ماہرین سے بات کی گئی ہے تو ان اداروں کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں، کیسکو کے چیف ایگزیکیٹیو عبد الکریم جمالی اس خسارے کو کمپنی کی مالی صحت کی صحیح تصویر نہیں سمجھتے، اُن کا کہنا تھا کیسکو بلوچستان میں کام کرتی ہے جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسی لیے اس کا تقابل کسی دوسری بجلی بنانے والی کمپنی سے کرنا ٹھیک نہیں۔پاکستان ریلوے کے ترجمان نے بی بی سی کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ریلوے کا کبھی بھی آپریشنل خسارہ نہیں ہوا بلکہ یہ خسارہ اس پر موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن پر پڑنے والا بوجھ ہے، ریلوے میں اس وقت 65 ہزار ملازمین ہیں جبکہ دوسری جانب ادارے کو ایک لاکھ 32 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کو ہر ماہ پینشن دینی ہوتی ہے۔معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق ستر کی دہائی کے آخر تک پاکستان ریلوے ایک منافع بخش ادارہ تھا کیونکہ یہ کارگو کے شعبے میں بہت زیادہ کام کرتا تھا تاہم اس کے بعد سارا کارگو بزنس نجی اداروں کو منتقل ہو گیا۔ڈاکٹر بنگالی این ایچ اے کے خسارے کو بھی خسارہ نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے مطابق این ایچ اے منافع کمانے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا، ترقیاتی کاموں کے حکومتی اداروں کو اس طرح پیش نہیں کیا جا سکتا جس طرح دوسرے منافع بخش اداروں کی مالی حالت کو پیش کیا جاتا ہے، این ایچ اے بہرحال ایسے منصوبے بنا سکتا ہے جن کی مدد سے فنڈز اکھٹے کیے جا سکیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق خسارہ کرنے والے ان سارے اداروں میں ایک چیز تو یہ مشترکہ ہے کہ یہ حکومتی ادارے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ان اداروں ہر دور حکومت میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوئیں اور وقت کے ساتھ ان اداروں کا گورننس ماڈل بہتر نہیں کیا گیا، پی آئی اے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک مسافر طیارے پر 600 سے 700 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے جو دنیا کی کسی بھی منافع بخش ائیرلائن کے لیے مطلوبہ عملے کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، ان سب اداروں میں ایک یہ چیز بھی مشترک ہے کہ کسی ادارے میں کوئی احتساب اور جوابدہی کا عمل سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

Back to top button