سعودی عرب کا مکہ مکرمہ کی مساجد کھولنے کا فیصلہ

سعودی عرب کی حکومت کرونا وائرس کے باعث تین ماہ کی بندش کے بعد اتوار سے مکہ مکرمہ کی مساجد کھولنے پر غور کر رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی ‘الاخباریہ’ کی رپورٹ میں سعودی وزارت مذہبی امور کے فیصلے کے حوالے سے کہا گیا کہ ‘مکہ مکرمہ کی مساجد تین ماہ کی بندش کے بعد اتوار سے نمازیوں کے لیے کھول دی جائیں گی۔’رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً ایک ہزار 500 مقدس مقامات کو لوگوں کے لیے کھولنے کی تیاری کی جارہی ہے اور وہاں فرش اور کارپیٹ کو جراثیم سے پاک کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ حج کے آغاز سے چند ہفتے قبل ہی سامنے آیا ہے۔مناسک حج کی ادائیگی جولائی کے آخر میں ہوگی لیکن اس حوالے سے سعودی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔مکہ کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں مساجد سماجی فاصلے اور دیگر سخت اقدامات کے ساتھ مئی کے آخر میں ہی کھول دی گئی تھیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ سلطنت میں تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد اتوار کی صبح سے ملک گیر کرفیو اور کاروباری بندشیں ختم کردی جائیں گی۔تاہم مذہبی زائرین، بین الاقوامی سفر اور 50 سے زائد افراد کے سماجی اجتماعات پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں حالیہ دنوں میں وبا کے کیسز تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔کورونا سے مشرق وسطیٰ کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ لگ بھگ ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
