سموگ: لاہور کی مارکیٹس اور ہوٹل رات 10 بجے بند ہوں گے

ایک ہی مہینے میں کم از کم پانچ مرتبہ دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیے جانے کے بعد اب لاہور میں سموگ کنٹرول کرنے کے لیے شہر بھر کی تمام مارکیٹیں رات دس بجے تک اور ریسٹورنٹس 11 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے یہ بڑا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی سکول جمعہ اور ہفتہ کو کھلیں انہیں فوری طور پر سیل کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے، شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے، دنیا کے تمام ممالک میں ایئر کوالٹی کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ آئی کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران مختلف مواقع پر نوٹ کیا گیا شہر کا کوالٹی انڈیکس انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔ سموگ کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل، الرجی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل رپورٹ ہورہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ نے ماحولیات سے متعلق امور پر مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ لاہور میں ہفتے میں کم از کم 3 روز اسکولز بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے جس کی تعمیل کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے لاہور کے سکولز اور دفاتر ہفتے میں 3 روز بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ 14 دسمبر کو بھی لاہور ہائی کورٹ میں سموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ آج صبح آسمان بہت بہتر تھا کیونکہ سموگ میں کچھ کمی آئی ہے، اب عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کرنی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے متعلقہ محکموں کو حکم دیا کہ جو بھی سکول جمعے کو کھلے، اسے فوری طور پر سیل کردیں، محکمہ ایجوکیشن سختی سے اس حوالے سے جاری کردہ احکامات پر عمل در آمد کرائیں۔ اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے مارکیٹیں رات دس بند کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ تمام ریسٹورٹنس بھی رات دس بجے بند ہوں گے جب کہ بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار تمام ریسٹورنٹس رات گیارہ بجے بند ہوں گے۔ گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں سموگ کی موجودہ صورتحال کے سبب ضلع لاہور کے تمام سرکاری و نجی اسکولز مزید احکامات جاری ہونے تک اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے علاوہ ہر جمعے اور ہفتے کو بھی بند رہیں گے۔
اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے تھے کہ حکومت سموگ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو قوانین اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتوں کی سزا بڑھانے کے لیے قوانین بنانے کی ہدایت کی تھی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا تھا کہ سموگ تمام شہریوں اور بالخصوص بچوں اور بزرگوں میں صحت کے پیچیدہ مسائل کا سبب بن رہی ہے۔
