ڈبل ایجنٹ سنتھیا رچی کے ساتھ کس نے واردات ڈالی؟

متنازع حوالوں سے شہرت رکھنے والی امریکی بلاگر سنتھیا رچی ایک مرتبہ پھر سے خبروں میں ہیں اور اس مرتبہ وجہ انکا پراسرار طور پر اپنے اسلام آباد کے فلیٹ پر بے ہوش پایا جانا ہے جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ تاہم ہوش میں آنے کے بعد اس نے جو بیان دیا ہے اس نے مزید تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ سنتھیا کا کہنا ہے کہ اسے دو بھارتی شہریوں نے نشہ آور چیز پلا دی تھی۔ تاہم اصل۔معمہ یہ یے کہ بھارتی شہری اس کے فلیٹ پر کیا کر رہے تھے اور اس کا ان سے کیا تعلق ہے؟
پولیس کے مطابق سنتھیا رچی نے کہا کہ واقعے کی رات دو بھارتی شہری میرے اپارٹمنٹ پر آئے اور مجھے پاکستان میں کام نہ کرنے کا کہا، بعد ازاں انہوں نے مجھے کوئی نشہ آور چیز پلا دی جس کے بعد میں بے ہوش ہوگئی۔ اسلام آباد پولیس انکے بیان کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی تک اکٹھی کی جانے والی معلومات کے مطابق واقعے کی رات ان کے گھر پر پر ایک پارٹی تھی جس میں ان کی جانب سے مدعو کیے جانے والے لوگ ہی شریک تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سنتھیا کو انکے ہمسائے نے فلیٹ میں بے ہوش پایا، اور انھیں ہسپتال پہنچایا۔ بعد ازاں سنتھیا رچی نے ہوش میں آ کر پولیس کو بیان دیا ہے کہ ان کے ساتھ واردات دو بھارتی شہریوں نے ڈالی جو انہیں بے ہوش کرنے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ انکا دعوی ہے کہ ان کی طبیعت زہر خورانی کے باعث بگڑی تھی۔ اسپتال کے ڈاکٹرز نے سنتھیا کا معدہ صاف کرکے مواد تجزیے کیلئے لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔ ہسپتال میں زیرِعلاج سنتھیا رچی کا اصرار ہے کہ انہیں کوئی نشہ آور چیز دی گئی تھی۔ تاہم پولیس حکام اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ سنتھیا نے زیادہ شراب نوشی کے علاوہ کوئی ایسا نشہ کیا ہو جس کے کراس ہونے سے اس کی حالت بگڑ گئی۔ وفاقی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنتھیا رچی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد ہی وہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔ پولیس حکام نے مذید بتایا کہ سنتھیا کی سکیورٹی کیلئے اسپتال میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ تاہم یہ اہم ترین سوال اب بھی حل طلب ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں دو بھارتی شہری آدھی رات تک سنتھیا رچی کے فلیٹ پر کیا کر رہے تھے اور انکا اس سے کیا تعلق ہے۔
خیال رہے کہ سنتھیا ڈی رچی ماضی میں پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر زيادتی کا الزام لگا چکی ہیں جبکہ انہوں نے سابق وزير اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر داخلہ مخدوم شہاب الدین پر بھی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم سنتھیا نے یہ الزامات تب لگائے جب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اسکی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر لگائے گے ایک الزام پر اس کی مذمت کی تھی۔ سنتھیا نے رحمان ملک اور گیلانی پر الزامات ایک ویڈیو بیان میں لگائے تھے جس کے بعد دونوں رہنما اس کے خلاف عدالتوں میں چلے گئے جہاں وہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ اسلام آباد پولیس نے بھی کسی ثبوت کے بغیر سنتھیا کے الزامات پر کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سنتھیا نے اپنے ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا تھا کہ سنہ 2011 میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے انھیں ریپ کیا جبکہ اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی کابینہ کے رکن مخدوم شہاب الدین نے انھیں جسمانی طور ہر ہراساں کیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے جواب میں کہا تھا کہ وہ امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے من گھڑت، بیہودہ و نازیبا الزامات کے جوابات دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ان من گھڑت، بیہودہ و نازیبا الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ امریکی خاتون کی الزامات بدنیتی پر مبنی ہے جس کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے، انہون نے کہا کہ امریکی خاتون نے میرے خلاف نازیبا الزامات دس سال بعد کسی مخصوص فرد یا گروہ کے اکسانے پر لگائے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے بھی خود پر لگائے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تو اس عورت کو پہچانتے بھی نہیں۔
بعد ازاں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے سنتھیا کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں 10 برس سے زائد عرصے سے مقیم سنتھیا طاقتور حلقوں میں تعلقات ہونے کی وجہ سے سے پاکستان سے بے دخل ہونے سے بچی ہوئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ساتھ کئی منصوبوں پر کام کر چکی ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی پاکستان میں کسی ریاست دشمن ایکٹیویٹی میں ملوث نہیں پائی گئی۔
