سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل ہے۔
کراچی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈے اے) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) ساتھ ہیں اور مضبوطی سے کھڑے ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ کی گیس کے جائز حق کے لیے صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیرتوانائی کو گیس کے معاملے کے جائزے کی ہدایت کی ہے۔عمران اسمٰعیل نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ وزیراعظم جو مزید پیکیج بنارہے ہیں وہ پورے سندھ پر محیط ہوں۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ہماری اتحادی جماعتوں میں سے ایک ہے ، جی ڈی اے اور پی ٹی آئی دونوں جماعتیں ساتھ ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں کسی کو منانے نہیں آیا کیونکہ کوئی روٹھا نہیں ہے۔عمران اسمٰعیل نے ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبات میں سندھ کی تقسیم کا بل رکھا ہے اسمبلی میں پیش ہونے پر پی ٹی آئی کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات میں کئی بار واضح کرچکا ہوں کہ پاکستان میں مزید صوبوں کی ضرورت ہے لیکن وہاں ہے جہاں کے لوگ ایسا چاہتے اور سمجھتے ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کوئی تقسیم قبول نہیں ہے لہذا اسے واضح کرلیں کہ جب سندھ کی بات ہوتی ہے سندھ کے عوام کی بات ہوتی ہے تو ان کی خواہش ہے کہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سندھ کے بیٹے ہیں ہم ایسے کیسے بات کرسکتے ہیں کہ اپنے سندھ کو تقسیم کردیں، سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سندھ کے بیٹے ہیں ہم ایسے کیسے بات کرسکتے ہیں کہ اپنے سندھ کو تقسیم کردیں، سندھ کی تقسیم ہمارے منشور میں شامل نہیں ہے باقی جو اسمبلی کی بات ہے وہ اسمبلی والے جانیں۔علاوہ ازیں صدر الدین راشدی نے اسی سوال پر کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سندھ کا بٹوارہ کسی قیمت پر نہیں ہوگا، کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے تو کوئی بھی یہ خواہش رکھتا ہے تواسے رکھنے دیں ہم ایسی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ڈیڑھ سال کی حکومت سے پچھلے 70 سال کا حساب نہ مانگیں پہلے دیکھیں کہ ملک کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کس نے غلط کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ1960 اور 70 کی دہائی کے بعد سے ملک نیچے آیا ہے اس کا ذمہ دار کوئی تو ہوگا، یہ حکومت عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے گی لیکن ملک کو ٹریک پر لانے کے لیے تھوڑی سی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
گورنر عمران اسمٰعیل نے کہا کہ جو اس وقت وفاق سندھ کے لیے کررہا ہے وہ این ایف سی ایوارڈ سے اوپر ہے، محدود وسائل کے باوجود وزیراعظم نے سندھ کے لیے سب سے زیادہ فنڈز مختص کیے ان پر عملدرآمد اپنا ٹائم لیتی ہے، ڈیڑھ سال میں پورا سندھ تبدیل نہیں ہوسکتا اس میں وقت لگے گا۔
