سندھ ہائیکورٹ کا موہٹہ پیلس میں لڑکیوں کیلئے میڈیکل کالج قائم

سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ قصر فاطمہ المعروف موہٹہ پیلس کو لڑکیوں کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے حکم دیا کہ کالج میں ایک ہاسٹل بھی ہونا چاہیے، مدعی اور مدعا علیہ دونوں نے بھی تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اتفاق کیا اور میڈیکل اور ڈینٹل کالج کے قیام پر رضامندی ظاہر کی۔
تاہم حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والے موہٹہ پیلس میوزیم کی قسمت ابھی تک واضح نہیں ہے۔
سال 1971 میں فاطمہ جناح کے رشتہ دار حسین ولی جی نے قصر فاطمہ سمیت ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کے انتظام کے بارے میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔
حسین ولی جی کی موت کے بعد ان کے بیٹے امیر علی کیس میں مدعی بن گئے لیکن وہ بھی مقدمے زیر التوا رہتے ہوئے وفات پاگئے، جس کے بعد ان کے قانونی ورثا کارروائی کا حصہ بن گئے تھے۔
