پی آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بھرتی 1500 سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے جعلی دستاویزات پر بھرتی ہونے والے 1500 سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا ہے جبکہ ایئر لائن ای پی آئی اے ورکرز پورٹل کو شامل کرکے اپنے ہیومن ریسورس کے عمل کو آسان اور بہتر بھی بنا رہی ہے۔

وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کو 2018 میں 67.4 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مزید بتایا گیا کہ 2020 میں 94 ارب 98 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی اور آپریشنل نقصانات 68 کروڑ روپے تھے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کووڈ 19 نے مارکیٹ کو متاثر کیا ہے اور تقریبا 60 فیصد آپریشن رک گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: 2020 میں پی آئی اے کا آپریشنل خسارہ کم ہوکر 68 کروڑ روپے رہ گیا

بتایا گیا کہ ایئر لائن لاہور، کراچی، فیصل آباد، سیالکوٹ اور ملتان سے گلگت کے لیے نئے روٹس متعارف کروا کر سیاحت میں اضافہ کر رہی ہے اور سفارتکاروں کے لیے شنگریلا ہوٹلز کے اشتراک سے ایئر سفاری فلائٹ بھی شروع کی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی آئی اے 2022 اور 2023 کے لیے تربیتی لاگت کو کم کرنے کے لیے ایک سِمیولیٹر شامل کر رہی ہے اور زیادہ تر تجارتی سرگرمیوں کے لیے انجینئرنگ ایم آر او کے منصوبوں کو بھی نافذ کر رہی ہے۔

اجلاس میں پی آئی اے کی ملکیتی جائیداد سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا تاہم ایئرلائن حکام نے اس پر اِن کیمرہ اجلاس کی درخواست کی۔

پی آئی اے حکام نے بتایا کہ جائیداد پر کسی نے قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اسے منسلک کیا ہے اور کیس زیر سماعت ہے اور ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایئرلائن حکام نے کہا کہ پابندی ختم ہونے میں تاخیر بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے آڈٹ میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی۔

Back to top button