آئی ایس آئی چیف پر وزیر اعظم پیچھے ہٹیں گے یا نہیں؟


نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ اس اہم ترین تعیناتی پر وزیراعظم پیچھے ہٹ جائیں گے یا اپنی منوا کر رہیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں چند ماہ کی توسیع کی جائے گی یا جنرل باجوہ کی جانب سے کی گئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تقرری تو تسلیم کر لیا جائے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو گذشتہ ہفتے سے پاکستان میں زیر بحث ہیں۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے 6 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ادھر اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گرم ہیں کہ وزیراعظم سبکدوش ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فیض حمید ہی اس عہدے پر ابھی کام جاری رکھیں۔ اگرچہ حکومت کا اب یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر وزیراعظم اور آرمی چیف ‘دونوں کا اتفاق رائے ہے۔ لیکن اس میں اتھارٹی وزیر اعظم کی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم آفس کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا کہ فوج کا وقار کم ہو اور سپہ سالار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے کہ سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی آئے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے اگلے سربراہ کون ہوں گے، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم یا آصف غفور؟
دفاعی تجزیہ کار ایک بات پر واضح ہیں کہ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رولز نہیں ہے، اس معاملے پر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے لیے قانونی طریقہ اپنایا جائے گا۔ اس طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کو تین لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی سمری بھیجی جائے گی اور ان میں سے جو مناسب ہوگا اس کا انتخاب کیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی چیف وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے اور اسکی تعیناتی وزیراعظم کی صوابدید ہے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ کوئی قواعد موجود نہیں ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اس عہدے کے لیے ناموں کے حوالے سے وزیراعظم سے مشاورت کرتے ہیں اور وہ تجویز کرتے ہیں کہ اس عہدے کے لیے بہتر امیدوار کون ہے۔ جب دونوں کے درمیان اتفاق رائے ہو جاتا یے تو وزیر دفاع آئی ایس آئی کے چیف کی تعیناتی کے لیے ناموں ایک سمری وزیراعظم کو بھیجتا ہے۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے معاملے میں اس طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے ان کی تقرری کا اعلان کردیا تھا جسے وزیراعظم نے تسلیم نہیں کیا۔
دوسری جانب سینئر صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی چیف کے عہدے پر تعیناتی آرمی چیف اور وزیراعظم مل کر کرتے ہیں۔ عام مشق یہ ہے کہ انٹیلی جنس سربراہ کی تعیناتی وزیراعظم کرتے ہیں کیونکہ ادارہ وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیر اعظم فیصلہ کرتا ہے کہ خفیہ ایجنسی کا سربراہ کون ہوگا تو یہ آرمی چیف کا اختیار ہوتا ہے کہ کب ایک عہدیدار کا تبادلہ کیا جائے اور ایک عہدہ دیا جائے۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ‘جنرل فیض کے تبادلے کا فیصلہ قواعد کے مطابق تھا لیکن وزیراعظم کا فیض کو چیف رکھنے کے لیے اصرار درست نہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا کسی سویلین کو بھی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس معاملے میں زاہد حسین نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے ریٹائرڈ جنرل شمس الرحمٰن کلہو کو آئی ایس آئی چیف تعینات کیا تھا جو اس وقت فوج کا حاضر سروس جنرل نہیں تھے اور ان کو سویلین شمار کیا جاتا تھا۔
ریٹائرڈ ایئرمارشل شہزاد چوہدری نے کہا کہ آئی ایس آئی دراصل وزیراعظم کے احکامات ماننے کی پابند ہے لیکن اس کے اندر کام کرنے والے لوگ چیف آف آرمی اسٹاف کی پیروی کرنے کے پابند ہیں، انہوں نے کہا کہ جب آرمی چیف کسی بریگیڈیئر یا میجرجنرل کی تعیناتی کرتا ہے تو اس کے لیے وزیراعظم کی اجازت ضروری نہیں ہے۔ شہزاد چوہدری نے کہا کہ ‘آئی ایس آئی کے سربراہ دو سے تین سال تک خدمات انجام دیتے ہیں، تین یا چار نام وزیراعظم کے پاس جاتے ہیں اور وہ ان میں سے ایک کا چناؤ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب آئی ایس آئی چیف کی مدت تقریباً مکمل ہونے کے قریب پہنچ جاتی ہے، تو چیف آف آرمی اسٹاف وزیراعظم کو امیدواروں کا نیا پینل بھیج دیتا ہے۔ شہزاد چوہدری نے بتایا کہ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر ‘غیر ضروری طور پر پیالی میں طوفان برپا کیا گیا ہے’۔

Back to top button