پروین کا ’خواب‘ سندھ کا بدلتا سماج

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
گائوں کی زندگی بھی کتنی خوبصورت ہوتی ہے ہر قسم کی آلودگی سے پاک نہ کوئی بناوٹ، ملاوٹ یا منافقت۔ شہر سے بہت دور خیرپور کے ایک گائوں میں کچھ وقت گزارا توا حساس ہوا یہاں کا پانی یہاں کے رہنےوالوں کی طرح صاف و شفاف ہے اور وہ بھی مفت ۔ اس لئے کہ ہم ’’شہری بابو‘‘ صاف کیا گندہ پانی بھی خرید کر پیتے یا استعمال کرتے ہیں۔ میں نے پینے کیلئے پانی مانگا تو ایک لڑکے نے ہینڈپمپ کی طرف اشارہ کیا میں سوچنے لگاکہ کہیں یہ پانی پینے سے پیٹ نہ خراب ہوجائے۔یقین جانیے اتنا میٹھا، صاف پانی پیئے مدت ہوگئی ہے۔ میں نے بوتل سے خریدا ہوا پانی ، جو میں کراچی سے آتے ہوئے پیتا رہا تھا ،وہیں پھینکا اور پمپ سے پانی بھرلیا۔ البتہ آبادی جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کی ایک جھلک بھی محسوس کی مگر ایک سماجی تبدیلی خاص طور پر خواتین اور دیہات کی ’جین زی‘ میں نمایاں نظر آئی، جس سے یہ امید بھی پیدا ہوئی کہ نئی نسل جاگیردارانہ نظام اورسماج کوچیلنج کررہی ہے۔ ’انقلاب‘ تو خیر ایک نظریاتی رومانس کا نام ہے البتہ اگر وہاں کی پروین رند کے ’خواب‘پائلٹ بننے کے ہیں، وہ موٹر سائیکل چلا کراسکول جاتی ہے تو یہ اشارہ ہے آنے والی تبدیلی کا۔ بس دعا ہے کہ ان جیسی بچیوں کے خواب محض خواب نہ رہ جائیں۔ پروین پائلٹ بنے کہیں اسے نظر نہ لگ جائے۔
یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں ، کراچی سے لاڑکانہ اور سکھر کا سفر کیا تو سیہون کے ایک ہوٹل میں کھاناکھانے کیلئےرکے ، یہ دیکھ کرخوشگوار حیرت ہوئی جب خواتین اسٹاف اور ویٹرز کو انتہائی اعتماد کےساتھ کام کرتے دیکھا۔ سکھر میں تین جامعات کا دورہ کرنے اور پھر اسٹیٹ آف دی آرٹ بچوں کے اسپتال میں بھی اور سب سے خوشگوار لمحات ’’سویٹ ہوم‘‘ یتیم بچوں کےساتھ گزارتے وقت بس میں یہی سوچتا رہا کہ کسی بھی معاشرے یا سماج میں تبدیلی کیسے آتی ہے۔ معلومات پر پتا چلا کہ یہ بچے اچھے اسکولوں، کالجوں میں جارہے ہیں جلد ہی انہیں زیادہ بڑی جگہ ملنے والی ہےجہاںپارک اورپلے گرائونڈ بھی ہوگا۔ جامعات میں جانا بشمول بیگم نصرت بھٹو خواتین یونیورسٹی، آئی بی اے سکھر اور AROR یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات سے گفتگو کرتے ہوئے اور انکے انتہائی بولڈ سوالات اور خیالات کو سن کر بہرحال یہ امید تو پیدا ہوئی کہ ان بچوں اور بچیوں کا زمین سے رشتہ برقرار ہے۔تاہم اس دورے کا سب سے خوبصورت اور یادگار لمحہ ان خواتین سے تین گھنٹے سے زیادہ ملاقات اور ان کی اپنی اپنی کہانیاں تھیں کہ وہ کس طرح اپنے گھروں سے باہر آئیں، اپنے گھر والوں کی مخالفت اور محلے والوں کے طعنے سنے مگر بلاسود قرض لے کر کسی نے بکری خریدی تو کسی نے بھینس اور اب ان میں سے کئی نے لوڈر تک لے لیا ہے۔ ایک نے کہا ’’میری کمر پر آج بھی میرے شوہر کے ڈنڈے کے زخم کے نشانات موجود ہیں وہ اس بات کیلئے تیار نہ تھا کہ عورت کام کرے مگر جو خواب میرے پورے نہ ہوسکے وہ میںا پنے بچوں کے ذریعے پورے کرنا چاہتی تھی۔ میں کم پڑھی لکھی ہوں مگر میں اپنے بچوں کو، اپنی بیٹیوں کو زیادہ پڑھا کر اپنا خواب پورا کرنا چاہتی تھی اور آج میں کامیاب ہوں اور خوشی اس بات کی ہے کہ میرا شوہر بھی اب راضی ہے‘‘۔ایک اور خاتون نے بتایا کہ میں پانچ کلاس پڑھی ہوئی ہوںگھر میں بہت غربت تھی اور میری بہت کم عمری میں شادی کردی گئی تھی۔ چھ، سات بچوں کو پالنا میرے لئے مشکل ہوتا جارہا تھا شوہر مزدوری کرتاتھا جس میںگزارا مشکل ہوتا جارہا تھا کسی کے ذریعے بلاسود قرض اسکیم کا پتا چلا تو میں نے بھی کوشش کی، ان کا سسٹم یہی تھا کہ قرض صرف خواتین کودیا جاتاہے۔ اجازت ملی تو میں نے ابتدا میں ایک بکری خریدی پھر بھینس۔ میںدودھ اور دہی کاکاروبار صرف اپنے لیے نہیں کرتی بلکہ محلے کے کم سن بچوں اور بچیوں کو بھی مفت دیتی ہوں تاکہ وہ صحت یاب رہیں۔
سندھ کی خواتین میں یہ خاموش مگر محسوس کی جانے والی تبدیلی، جس سے اب تک 85؍ ہزارسے تین لاکھ خواتین فائدہ اٹھا چکی ہیں،قابلِ ذکر ہے جو آج سے چند سال پہلے قائم ہونیوالے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور اس کے کرتا دھرتا محمد دیتل کلہوڑو کے توسط سے ممکن ہوئی۔ انسان نے خود غربت دیکھی ہو تو اس کااسےاس کا احساس بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اب ان کی پوری ایک اسکیم ہے بلاسود قرضہ دینے کی 15؍ ہزار سے تین لاکھ خواتین تک۔ ان کے بقول حکومت سندھ نے اس سلسلےمیں پورا پروگرام اور رقم دینے کا پلان دیا ہوا ہے اور ٹارگٹ پورا سندھ بشمول کراچی ہے۔ کلہوڑو صاحب خود اپنے بچپن میں ننگے پائوں اسکول جاتےتھے امید ہے وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہونگے۔البتہ جس چیز کی کمی میں نے شدت سے محسوس کی اور اس کا اظہار بھی کیا کہ ہم نے شاندار جامعات تو بنالیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیںکم از کم کوئی شاپنگ پلازہ تو نہیں بنایا۔ ان جامعات میں جدید نظام بھی متعارف کرایا جارہا ہےمگر وہ مڈل اور ہائی اسکول نہیں بنائے جن کو پاس کرکے ہی کوئی یونیورسٹی یا پروفیشنل کالج تک پہنچتا ہے۔ یاد رکھیں اسکول کسی بھی تعلیمی نظام کی نرسری ہوتے ہیں ویسے تو اب جعلی ڈگریاں بھی مل جاتی ہیں مگر ایسے لوگ جلد بے نقاب ہوجاتے ہیں، ہمیں سماج کو بدلنا ہے تو ذہنوں کو بدلنا ہوگا۔
ہمارے پاس خواتین کی ایسی مثالیں موجود ہیں جو خود مثال بنیں اور پسماندہ علاقوں کی لڑکیوں اور خواتین کو ایک نیا ولولہ اور حوصلہ دیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو صرف ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی نہیں تھیں،عورت ہونے کی وجہ سے کبھی انہیں عورت کی حکمرانی پر سوالات کاسامنا کرنا پڑا تو کبھی خود خاندان کے دبائو کا کہ جلد شادی کرلو اگر سیاست کرنی ہے۔ وہ میدان میں رہیں مقابلہ کیا مخالفین کو شکست دی اور شہید ہوگئیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، لیڈی ہیلتھ ورکرز، ویمن بینک جیسی اسکیموں کے ذریعے، خواتین پولیس اسٹیشن کے ذریعے انہوںنےلوگوں کا مزاج بھی بدلااور سماج میں بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی۔عاصمہ جہانگیر، بلقیس ایدھی، پروین رحمن اور ان جیسی کئی خواتین نے اس جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سرداروں اور چوہدریوں کے نظام کوچیلنج کیا اورخود مثال بنیں۔ پروین رحمن سے پروین رند تک کا سفر آسان نہ تھا مگر بہرحال ہم یہاں تک تو آہی گئے ہیں جہاں خواتین اور نوجوان لڑکیاں سوال کررہی ہیں، آگے بڑھنے کا راستہ نکال رہی ہیں۔ پروین ابھی 11؍ویں کلاس میں ہے اور اسکے خواب کی تعبیر میں ابھی وقت پڑا ہے۔ عین ممکن ہے جس معاشرے اور سماج میں ہم رہ رہے ہیں اس میں اس کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے مگر خوشی ہے کہ وہ ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔یاد رکھیں نظام یا سماج میں بڑی تبدیلی تعلیم اور میرٹ کے کلچر سے آتی ہے گائوں کے لوگوں میں ملاوٹ یا بناوٹ نہیں ہوتی۔ ہمارے کئی افسران، سیاستدان انہی علاقوں سے آتے ہیں جہاں سے پروین رند آئی ہے مگر پھران کو شہر کی ہوا لگ جاتی ہے اور زندگی میں ملاوٹ، بناوٹ اور منافقت آجاتی ہے۔ بس ذرا کبھی کبھی الیکشن کے علاوہ بھی اپنے اپنے گائوں کی طرف دیکھیں سماج بدل رہا ہے۔
