
تحریر : عامر خاکوانی
بشکریہ : روزنامہ وی نیوز
بائیس اپریل دو ہزار پچیس کو پہلگام کا واقعہ ہوا۔ ابھی تحقیقات کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا تھا، کسی بین الاقوامی فورم پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا تھا کہ بھارتی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے اعلان فرما دیا کہ اب پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔ حکومت نے اعلان کر دیا کہ سندھ طاس معاہدہ التوا میں چلا گیا۔ادھر انڈین نیوز چینلز پر اینکروں نے صف ماتم بچھا دی، چیخ چیخ کر پاکستان پر الزامات لگانے شروع کر دئیے ۔
یہ سب غلط ، بلاجواز، غیر منطقی تھا۔ پاکستان بار بار یہ بات کہتا رہا اور اب سولہ مہینے بعد ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت سے جو فیصلہ آیا ، اس نے بھارتی موقف کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ پاکستانی موقف درست ثابت ہوا۔
فیصلہ کیا آیا ؟
اکتیس اگست دو ہزار چھبیس کو سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت نے اپنے متفقہ فیصلے میں لکھ دیا کہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے، ختم کرنے یا التوا میں ڈالنے کا کوئی اختیار نہیں۔
معاہدہ زندہ ہے، پوری طرح نافذ ہے اور بھارت اس کی ایک ایک شق کا پابند ہے۔
اس کے ساتھ عدالت نے دریائے چناب پر زیر تعمیر آٹھ سو پچاس میگاواٹ کے رتلے منصوبے کے بعض حصوں پر تعمیراتی پابندی بھی لگا دی گئی۔
یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور اسے کھل کر کامیابی کہنا چاہیے۔
پہلے یہ سمجھ لیں کہ عدالت کون سی تھی
بعض دوستوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دے دیا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل نو اور ضمیمہ جی کے تحت قائم ہونے والی ثالثی عدالت کا ہے، جسے دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت سیکرٹریٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
اس فرق سے فیصلے کا وزن کم نہیں ہوتا۔ یہ عدالت کسی تیسری طاقت نے مسلط نہیں کی، اس کا اختیار اسی دستاویز (یعنی سندھ طاس معاہدے)سے نکلتا ہے جس پر ستمبر انیس سو ساٹھ میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔
پانچ رکنی عدالت میں امریکہ، بیلجیم، اردن اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی قانون اور آبی امور کے ماہرین شامل ہیں۔ صدارت امریکی ماہر قانون پروفیسر شان مرفی کر رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ کسی معمولی اکثریت سے نہیں، متفقہ طور پر آیا۔
بھارت نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا، مگر عدالت نے یک طرفہ فیصلہ دینے کے بجائے بھارتی حکومت کے بیانات، مراسلوں اور نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے پیش کیے گئے مؤقف سے اس کے ممکنہ دلائل مرتب کیے۔ پھر ایک ایک دلیل جانچ کر نتیجہ نکالا کہ بھارت کے پاس کوئی قابل قبول قانونی جواز نہیں۔
التوا کا وہ لفظ جو قانون میں ہے ہی نہیں
بھارت نے اپریل دو ہزار پچیس میں سندھ طاس معاہدہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چالاکی سے ایک اصطلاح چنی۔ معاہدہ ختم یا باقاعدہ معطل کرنے کے بجائے اسے التوا میں رکھنے کا اعلان کردیا، تاکہ ذمہ داریوں سے بھی جان چھوٹے اور معاہدہ توڑنے کا الزام بھی نہ آئے۔
ثالثی عدالت نے یہ معاملہ بھی ہمیشہ کے لئے طے کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق التوا نہ سندھ طاس معاہدے کی اصطلاح ہے اور نہ بین الاقوامی قانون میں معاہدوں کی حیثیت کے حوالے سے اس کا کوئی تسلیم شدہ مفہوم ہے۔ قانون صرف معطلی یا خاتمے کو جانتا ہے اور دونوں کے لیے سخت شرائط ہیں، جن میں سے بھارت ایک بھی پوری نہیں کرتا۔
سندھ طاس معاہدے میں یک طرفہ اخراج کی کوئی شق نہیں۔ یہ صرف اسی صورت بدل یا ختم ہوسکتا ہے جب پاکستان اور بھارت مل کر نیا معاہدہ کریں۔ بھارت کی سب سے بڑی دلیل خودمختاری تھی۔ عدالت عدالت نے اس کمزور عذر کو اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا ۔ دلیل یہ دی کہ اپنی مرضی سے دستخط کرنے کے بعد خودمختاری کے نام پر ان سے مکر نہیں سکتے۔ ورنہ ہر معاہدہ اس روز بے معنی ہوجائے گا جب کسی حکومت کا موڈ خراب ہو۔
کوئی بھی الزام پانی روکنے کی وجہ نہیں بن سکتا
بھارتی مؤقف یہ تھا کہ پاکستان کی مبینہ سرحد پار دہشتگردی معاہدے کی ایسی خلاف ورزی ہے جس کے بعد بھارت اس سے آزاد ہو جاتا ہے۔عدالت نے اس فضول اور بے بنیاد الزام کو وزن دینے کے بجائے وہ بات کہی جو پاکستان برسوں سے کہہ رہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ دہشت گردی، سرحدی سلامتی یا جنگ کے قواعد طے نہیں کرتا۔ یہ دریاؤں کے پانی، آب پاشی، پن بجلی، معلومات کے تبادلے اور آبی تنازعات کے حل کا معاہدہ ہے۔ بحث کی خاطر بھارتی الزام درست بھی مان لیا جائے تو وہ اس معاہدے کی مادی خلاف ورزی نہیں بنتا۔ کسی دوسرے قانون کی خلاف ورزی کا الزام ہے تو متعلقہ فورم پر ثبوت لے کر جائیے، کروڑوں کسانوں کے کھیت اس کی سزا کیوں بھگتیں؟
عدالت نے ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا۔ بھارت کہتا ہے کہ پاکستانی رویے نے اسے معاہدے کے تحت حقوق استعمال کرنے سے روکا، حالانکہ وہ مغربی دریاؤں پر مسلسل بجلی گھر بنا اور سرنگیں کھود رہا ہے۔ جب سب کچھ بن رہا ہے تو آپ کو کس نے روکا تھا؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے واضح کیا، جنگ کی صورت میں بھی یہ معاہدہ خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے۔ یہ معاہدہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں قائم رہا، اکہتر کے سانحے میں قائم رہا، کارگل کے تصادم میں قائم رہا، پارلیمنٹ حملے کے بعد کے بحران میں قائم رہا اور مئی دو ہزار پچیس کی جھڑپوں میں بھی اپنی جگہ موجود رہا۔ جس دستاویز کو تین جنگیں ختم نہ کر سکیں، اسے مودی سرکار ایک پریس ریلیز سے کیسے ختم کر سکتی ہے؟
رتلے ڈیم کی تعمیر کیوں روکی گئی ؟
فیصلے کا سب سے ٹھوس حصہ یہی ہے۔ ہمارا اعتراض کبھی یہ نہیں رہا کہ بھارت بجلی نہ بنائے۔ اعتراض ڈیزائن پر ہے۔ رتلے منصوبہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں چناب پر بن رہا ہے۔ اصل جھگڑا ڈیم کی دیوار، نچلی سطح کے آؤٹ لیٹس، گیٹڈ سپل ویز، ٹربائن ان ٹیکس، فری بورڈ اور پونڈیج پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ بالائی ملک کو پانی کے بہاؤ پر عملی کنٹرول کتنا ملے گا؟
اکیلا رن آف دی ریور بجلی گھر شاید بڑا خطرہ نہ ہو۔ خطرہ تب ہے جب سندھ، جہلم اور چناب پر درجنوں منصوبے ہوں اور ہر ایک کو چند گھنٹوں یا دنوں کا پانی روکنے کی سہولت مل جائے۔ سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمدہ نکتہ اٹھایا کہ بہاؤ کے موسم میں پورا دریا روکنا آسان نہیں، مگر بوائی کے نازک وقت چوبیس یا اڑتالیس گھنٹے پانی روکنا بھی فصل کے لیے قیامت بن سکتا ہے۔
پاکستان نے مارچ دو ہزار چھبیس میں عبوری اقدامات کی درخواست دی تھی۔ پانچ میں سے تین منظور ہوئیں۔ عدالت نے بھارت کو حکم دیا کہ ڈیم کی دیوار اور پاور ان ٹیک سٹرکچر پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ نہ ڈالا جائے۔ یہ پابندی نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے نوے دن بعد تک قائم رہے گی۔ وہ فیصلہ جولائی دو ہزار ستائیس میں متوقع ہے۔ تعمیراتی شیڈول میں کسی تبدیلی کی اطلاع عدالت، نیوٹرل ایکسپرٹ اور پاکستان کو دینا بھی لازم ہوگا۔
عدالت کا استدلال عملی تھا۔ اگر بھارت متنازع ڈیزائن کے مطابق تعمیر مکمل کرلے اور بعد میں نیوٹرل ایکسپرٹ اسے خلافِ معاہدہ قرار دے تو بنی بنائی دیوار کون توڑے گا؟ تب قانونی فتح کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتی۔ فیصلے کا یہی حصہ سب سے قیمتی ہے، کیونکہ پہلی بار بھارتی بلڈوزر کے سامنے عدالتی بیرئر آیا ہے۔ ہاں، یہ کہنا درست نہیں کہ پورے منصوبے کی تعمیر بند ہوگئی۔ روکے صرف وہ متنازع حصے گئے ہیں جو آگے چل کر نیوٹرل ایکسپرٹ کے فیصلے کو بے اثر کر سکتے تھے۔
یہ ایک فیصلہ نہیں، فیصلوں کی زنجیر ہے
اس کامیابی کے پیچھے دس برس کی محنت ہے۔ پاکستان نے اگست دو ہزار سولہ میں کشن گنگا اور رتلے کے ڈیزائن پر ثالثی مانگی، بھارت نے جواباً نیوٹرل ایکسپرٹ طلب کیا اور دو ہزار بائیس میں طویل تعطل ختم ہوا۔ جولائی دو ہزار تئیس میں عدالت نے اپنے اختیار پر بھارتی اعتراض مسترد کیا۔ جون دو ہزار پچیس میں طے ہوا کہ بھارت کا یک طرفہ اقدام عدالت کا دائرۂ اختیار ختم نہیں کرتا۔ اگست دو ہزار پچیس کے ایوارڈ نے مغربی دریاؤں پر پاکستانی حق اور بھارتی اختیارات کی حدود واضح کیں۔ مئی دو ہزار چھبیس کے ضمنی ایوارڈ نے قرار دیا کہ پونڈیج حقیقی ضرورت کے مطابق اور ڈیزائن ہی کے مرحلے پر محدود ہوگی، بعد کی آپریشنل احتیاط کا وعدہ کافی نہیں۔اب اکتیس اگست کے فیصلے نے سب سے بنیادی سوال طے کر دیا ہے کہ معاہدہ زندہ ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دفتر خارجہ اور قانونی ٹیم کی یہ خاموش محنت اس ملک میں اس داد کی مستحق ہے جو ہم عام طور پر کسی سنچری یا کسی وائرل ویڈیو کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔
بھارت کا پرانا مرض
فیصلہ آنے کے چند گھنٹوں کے اندر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان آ گیا کہ عدالت غیر قانونی طور پر قائم ہے، بھارت نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا، اس کے فیصلوں کا منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور معاہدہ التوا میں ہی رہے گا۔
یہ الفاظ سن کر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ بھارت کی ہسٹری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کو تب ہی مانتا ہے جب فیصلہ اس کے حق میں ہو، ورنہ ہمیشہ انڈیا نے انٹرنیشنل لاز کے خلاف طرزعمل اپنایا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیر پر خلاف ہوں تو وہ فراموش شدہ کاغذ ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے مقبوضہ وادی کے مظالم گنوائیں تو وہ پاکستان نواز ہیں۔ عالمی میڈیا ہندوتوا پر سوال اٹھائے تو وہ بھارت دشمن ہے۔ اب اسی معاہدے کے تحت قائم عدالت نے فیصلہ دیا تو وہ عدالت ہی نام نہاد ہوگئی۔حد ہی ہے ، ایسی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کی دوسری مثال نہیں ملتی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے بھارت پیش ہوتا رہا، کیونکہ وہ فورم اس نے خود مانگا تھا۔ یعنی جس دروازے سے فائدہ آئے وہ جائز، جس سے پاکستان کو ریلیف ملے وہ ناجائز۔ اسے قانون پسندی نہیں، سہولت پسندی کہتے ہیں۔
بڑی معیشت اور مغربی دنیا سے تزویراتی تعلقات نے نئی دہلی میں یہ زعم پیدا کردیا ہے کہ بھارت قانون سے بالاتر ہوچکا۔ دی ہیگ کے فیصلے نے یاد دلایا کہ طاقت کسی ریاست کو معاہدہ شکنی کا قانونی حق نہیں دیتی۔
اعزاز چودھری کے بقول، جو ریاست بین الاقوامی قوانین کی پروا نہ کرے، دنیا اسے روگ سٹیٹ کہتی ہے۔ چودھری صآحب بھارتی بیانیوں کا پوسٹ مارٹم بھی کرتے ہیں۔ جیسے سندھ طاس معاہدہ غیر مساوی کیسے ہوا جب راوی، بیاس اور ستلج کا سارا پانی بھارت کو ملا؟ سندھ اور جہلم کا جغرافیہ ہی بھارت کو زیادہ پانی لینے نہیں دیتا۔ پاکستانی اعتراض ڈیمز بن جانے سے ہونے والی ممکنہ کشمیری ترقی پر نہیں، خلافِ معاہدہ ڈیزائن پر ہے۔ بھارت اپنا پورا حصہ استعمال نہیں کرسکا تو اس نااہلی کی سزا ہمیں کیوں؟ چوتھا دہشت گردی والا بیانیہ ہے، جس کی چمک اب عالمی سطح پر بھی ماند پڑ چکی ہے۔
اس جیت کے بعد کیا کرنا ہوگا ؟
اب ذرا ٹھنڈے دل سے یہ چند باتیں بھی سن لیجئے کیونکہ کالم نگار کا کام صرف نعرہ لگانا نہیں۔ ثالثی عدالت کے پاس اپنی پولیس یا فوج نہیں جو کشتواڑ پہنچ کر تعمیر رکوا دے۔ بھارت فیصلہ مسترد کر چکا ہے۔ مستقل سندھ کمیشن کے اجلاس بند ہیں، ڈیٹا کا تبادلہ رکا ہوا ہے۔ لہٰذا اسے یوں پیش کرنا کہ اب ہمارا پانی مکمل محفوظ ہوگیا، خوش فہمی ہوگی۔
تاہم ہمیں ایک بڑی فتح ضرور ملی ہے، البتہ اصل کام اب شروع ہوتا ہے۔ ایوارڈ کو ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، امریکہ، چین، یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام اہم عالمی فورمز پر لے جایا جائے۔ رتلے کی سیٹلائٹ نگرانی ہو، ماہرین ہر خلاف ورزی دستاویزی بنائیں اور جولائی دو ہزار ستائیس کے فیصلے کی تیاری آج سے شروع ہو۔
اعزاز چودھری کے مطابق بھارت پر دباؤ کے دو راستے چین اور امریکہ ہیں۔ چین کے مقابلے میں بھارت خود زیریں ملک ہے، اس لیے جانتا ہے کہ بالائی ملک کی بدنیتی کیسی لگتی ہے۔ ہم چین کے ساتھ مشاورت میں رہ کر تبت سے نکلنے والے دریاوں کے پانی کو لیوریج کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکہ سے ہمارے بہتر تعلقات بھی اس ضمن میں کام آنے چاہئیں۔
ایک کام ہمیں اپنے گھر میں بھی کرنا ہے۔ واٹر سٹوریج کی صلاحیت بڑھانا۔ نہری نظام کی مرمت، پانی کے ضیاع کا خاتمہ اور کھیت کی سطح پر جدید آب پاشی۔ قانونی جیت خوبصورت چیز ہے، مگر اکیلی قانونی جیت گندم کی فصل نہیں اگاتی۔
حرف آخر یہ کہ دو ستمبر کی اس صبح ایک نتیجہ تو سامنے آ چکا ہے کہ بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی، پاکستان نے جواب گولی سے نہیں، دلیل اور دستاویز سے دیا اور دنیا کے سامنے سرخرو ہوا۔ ان شااللہ بھارت کو دیگر محاذوں پر بھی منہ کی کھانا پڑے گی اور اس کی ناانصافی اور زیادتیوں کا خاتمہ ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے دریا صدیوں سے بہہ رہے ہیں۔ مودی جیسی ہٹ دھرم ، شدت پسند حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
