مصطفیٰ کمال کی اپنے بیان کردہ "کولیپس بندوبستِ حکومت” میں موجودگی

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
یہ سوچ تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں کہ اپریل 2022ء سے متعارف ہواحکومتی بندوبست رعایا کی اکثریت کو متحرک ومتاثر نہیں کرپارہا۔ اس سے اکتاہٹ کی بے شمار و جوہات گنوائی جاسکتی ہیں۔ اس جانب توجہ مبذول رکھنے کے بجائے گزشتہ کچھ دنوں سے یہ سوچنے کو ترجیح دے رہا ہوں کہ مذکورہ بندوبست سے کامل نجات پالینے کے بعد ’’نیا نظام‘‘ کیسے لاگو ہو اور اس کے بنیادی خدوخال کیا ہوسکتے ہیں۔
بے بس رعایا کا عام رکن ہوتے ہوئے موجودہ بندوبستِ حکومت سے نہایت واجب بنیادوں پر بیزاری محسوس کروں تو یہ انہونی تصور نہیں ہوگی۔ حیرت مگر اس وقت ہوتی ہے جب اسی بندوبستِ حکومت کے صدقے طاقتور عہدوں پر فائز چند افراد ماتمی انداز میں اس کے ’’کولیپس‘‘ ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت جناب مصطفیٰ کمال بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔
موصوف کا میں کبھی مداح نہیں رہا۔ ایم کیو ایم کی بدولت کئی برسوں تک آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ’’پوسٹربوائے‘‘ جیسے میئر رہے تھے۔ اقتدار گیا تو کچھ عرصہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ 2018ء کے انتخاب کے قریب مگر ایم کیو ایم پر سنگین الزامات لگانے کے بعد ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کے نام سے نئی جماعت بنالی۔ میں اس جماعت کو طنزاََ ’’کمال کی ہٹی‘‘ پکارتا رہا۔ صحافی دوستوں کی مؤثر تعداد مگر مصررہی کہ مذکورہ جماعت کے حقیقی یا مبینہ سرپرست’’کمال کی ہٹی‘‘ کے ذریعے ایم کیو ایم کے ووٹ بینک سے ’’صاف ستھرے محبان وطن‘‘ کو سیاسی میدان میں آگے بڑھاسکیں گے۔ کراچی کی سیاست سے 1970ء کی دہائی سے ذاتی تجربات کی بدولت آگاہ ہوئے اس قلم گھسیٹ نے ہمیشہ اس سوچ سے اختلاف کیا۔
ایک ٹیلی وژن نیٹ ورک کا ملازم ہونے کی وجہ سے 2018ء کے انتخابات کے بارے میں کراچی میں چند دن رہتے ہوئے مشاہدے اور تبصرہ آرائی کے مواقع ملے۔ ٹی وی سٹوڈیو سے نکل کر کراچی کے سیاسی اعتبار سے اہم ترین علاقوں میں پیدل چلتے ہوئے عام افراد سے چائے کے دھابوں پر رات گئے تک گفتگو میں مصروف رہتا۔ محض تین دنوں میں دریافت کرلیا کہ ایم کیو ایم سے خفا ہوئے لوگوں کی اکثریت اب کی بار تحریک انصاف کو ووٹ دینا چاہے گی اور بالآخر غلط ثابت نہ ہوا۔
وقت گزرنے کے ساتھ سیاست میں نئی گیم لگی تو مصطفیٰ کمال پاکستان کے لاحقے کے ساتھ بنائی ایم کیو ایم میں لوٹ آئے۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد وزیر صحت کے منصب پر فائز ہوگئے۔
وفاقی وزارت صحت اسلام آباد میں سرکاری طورپر چلائے فقط دو ہسپتالوں کا نگران ونگہبان ہے۔ مصطفیٰ کمال اس شہر سے کئی گنازیادہ آبادی والے کراچی کے میئر رہے تھے۔ اصولی طورپر وفاقی وزیر صحت کے عہدے پر ان کا فائز ہونا ہم عاجزوں کو یہ معجزہ دکھاسکتا تھا کہ کراچی جیسے شہر کے میئر رہے مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے دو ہسپتالوں کو اپنی محنت وذہانت کی بدولت پاکستان بھر کے لئے مثالی بنادیا ہے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ بدقسمتی سے چند دن قبل بلکہ اسلام آباد کے مرکزی ہسپتال پمز میں جاپانی حکومت کی مدد سے تعمیر اور جدید ترین آلات سے لیس ہوئی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے نتیجے میں 14نومولود بچوں کی موت نے صاحبِ دل افراد کو اداس کردیا۔
مصطفیٰ کمال کا دیرینہ اور تقریباََ متعصب ناقد ہونے کے باوجود یہ حقیقت سراہنے کو مجبور ہوں کہ سانحہ پمز کی خبر سنتے ہی مصطفیٰ کمال صاحب نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوادیا تھا۔ وہ منظور نہ ہوا تو پمز پہنچ کر تلخ مگر بنیادی سوالوں کے جواب فراہم کرنے کے بجائے صحافیوں اور وہاں موجود عام افراد سے گلی کے لونڈوں کی طرح الجھنا شروع ہوگئے۔دْکھی دلوں کو تسلی دینے کے بجائے اصرار کرتے رہے کہ جس حکومتی بندوبست کا وہ حصہ ہیں وہ ’’کولیپس‘‘ کرچکا ہے۔ اسکی اصلاح ممکن نہیں۔ پمز جیسے سرکاری ہسپتال وزیر صحت کو جوابدہ محسوس نہیں کرتے۔ طاقتور حلقوں میں اپنے سرپرستوں کی شفقت نے انہیں بے لگام بنارکھا ہے۔
آئین کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے بخوبی جانتا ہوں کہ وزارت کا منصب سنبھالنے سے قبل اس کے لئے نامزد شخص کو حلف اٹھانا ہوتا ہے۔ ہمارے آئین میں تحریری طورپر میسر حلف نامہ نامزد وزیر کو اپنے فرائض منصبی بلاخوف یا خطر نبھانے کا عہد باندھنے کو مجبور کرتا ہے۔ جان کی امان پاتے ہوئے مصطفیٰ کمال صاحب سے فقط یہ جاننا چاہوں گا کہ اسلام آباد کے محض دو سرکاری ہسپتالوں کے غیر مؤثر نگران ہونے کا ادراک انہیں اگر ہوگیا تھا تو استعفیٰ دینے کے لئے سانحہ پمز کا انتظار کیوں کرتے رہے۔ سانحہ پمز کے بعد اگر وہ حقیقیتاََ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور انہیں کماحقہ سزائیں دلوانے کے امکان دیکھ نہیں پارہے تھے تو وزیر اعظم کی فرائش پر استعفیٰ واپس کیوں لیا؟ میری ناقص رائے میں اگر وہ اپنے استعفیٰ پر ڈٹے رہنے کے بعد وفاقی کابینہ سے الگ ہوکر وزیر اعظم کوبھی تواتر سے یاد دلانا شروع ہوجاتے کہ موجودہ بندوبستِ حکومت کی اصلاح ممکن نہیں تو میں انہیں پرخلوص سنجیدگی سے سننے کو مجبورہوجاتا۔ حکومتی بندوبست کا حصہ ہونے کے باوجود اس کے کولیپس اور ناقابل اصلاح ہونے کی تکرار جھکی اذہان کو فقط یہ پیغام دیتی ہے کہ سسٹم کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی دہائی مچانے والے وزراء اپنے منصب سے جڑی مراعات سے مسلسل فیض یاب ہونا چاہتے ہیں۔ گلے سڑے نظام سے اپنا حصہ نکالنا مردارخوری تصور کیا جاسکتا ہے اور نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کے بلند آہنگ داعیوں کویہ رویہ ہرگز زیب نہیں دیتا۔
مزید لکھنے کے بجائے نہایت عاجزی سے ہاتھ باندھ کر مصطفیٰ کمال صاحب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سانحہ پمزنے آپ کو گلے سڑے نظام کی اصلاح کا نادر موقعہ فراہم کیا ہے۔ صحتِ عامہ کے نظام نے برطانیہ کے حکومتی بندوست کو دنیا بھر کے لئے قابل تقلید بنادیاتھا۔ امریکہ کے عوام دوست سیاست دانوں نے اس نظام کی بہتری اور اسے غریب افراد کی دیکھ بحال کے قابل بنانے کی بدولت نیک نامی کمائی ہے۔ مصطفیٰ کمال بھی اس پر توجہ دیتے ہوئے خود کو بالآخر مردہ اور گلے سڑے بندوبستِ حکومت کا حتمی مسیحا ثابت کرسکتے ہیں۔
