بور کرنے والے موضوعات

 

 

 

 

تحریر: ایاز امیر

بشکریہ: روزنامہ دنیا

 

 

زمانہ تھا جب عرب لیگ نامی تنظیم ہوا کرتی تھی لیکن ایک تو اُمہ کی حالت اور دوسرا تنظیم کی کارکردگی ایسی رہی کہ ذکر آنے پر بیزاری ہونے لگتی۔ اب وہ تنظیم پتا نہیں کہاں خاک نشین ہو چکی ہے اور شکر کی بات ہے کہ اب اُس کا ذکر کہیں سننے کو نہیں ملتا۔ اسلامی کانفرنس کے چرچے بھی ایک زمانے میں تھے‘ خاص طور پر جب 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تب کے مسلم سربراہان کو اتنی ہمت ہوئی کہ تیل کی ترسیل بند کر دی۔ لیکن پھر برادر ملکوں میں تبدیلیاں آئیں اور امریکہ کی طرف جھکاؤ کچھ زیادہ ہونے لگا۔ جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم کہیں موجود ہو گی لیکن ذکر اُس کا کہیں زیادہ نہیں ہوتا۔ ایک نئے معاہدے پر حال ہی میں دستخط ہوئے ہیں لیکن ظاہر ہے اُس کے بارے میں کچھ زیادہ بات کرنا مناسب نہ ہوگا۔ ایک نہایت ہی بور موضوع ہماری کرکٹ کا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا اللہ نگہبان ہو لیکن جس تسلسل سے وہ رسوائیاں سمیٹتے ہیں اب تو وہ کسی چھترول کے قابل بھی نہیں رہے۔ لیکن میڈیا ان کی خبروں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لہٰذا ان کی کہانیاں عوام الناس کو بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
ایک انگریزی معاصر میں خبر چھپی ہے کہ اس کمبخت جنگ کی وجہ سے جو نہ صحیح طرح سے بھڑک رہی ہے نہ ختم ہونے کا نام لے رہی ہے‘ دبئی میں پراپرٹی کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ جنگ کی وجہ سے اس کاروبار کی چمک جا چکی ہے۔ اور اس کی وجہ سے پاکستان سے وابستہ کالا دھن جو دبئی میں سالوں سے انویسٹ ہوتا رہا ہے اب وہ واپسی کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ سرمائے کی اس واپسی سے کراچی کے مخصوص سیکٹروں میں پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور کیونکہ جنگ جاری ہے اور امریکہ کو ناکامی سامنا ہے تو اس صورتحال کے جلد تبدیل ہونے کے کوئی امکان نہیں۔ یعنی دبئی میں پراپرٹی کاروبار کی حالت مندی ہی رہے گی۔ پاکستان میں یہ غلط فہمی رہی ہے کہ دبئی کا مطلب چوڑی شاہراہیں اور اونچی بلڈنگیں ہیں۔ شاہراہ کوئی بن گئی اور کھجور کے درخت لگ گئے تو سمجھتے ہیں کہ دبئی کی تقلید ہو رہی ہے حالانکہ دبئی کا مطلب ایک خاص ذہنی اور سوشل ماحول ہے جس میں رہتے ہوئے وہاں کے شیخوں نے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں اور دبئی اور ابوظہبی کو دنیا کا ایک اہم تجارتی اور کمرشل سنٹر بنایا ہے۔ اس ترقی میں پاکستان کا کردار بھی رہا ہے‘ نہ صرف لیبر کی صورت میں بلکہ ثقافت کے لحاظ سے بھی۔ جہاں دبئی کی کشش کی وجہ سے دنیا بھر کے ثقافتی کاروانوں نے وہاں اپنا پڑاؤ بنایا پاکستان کے اہلِ ثقافت کا بھی اس عمل میں بڑا حصہ رہا۔ دبئی کے اچھے دنوں میں یوں لگتا تھا کہ لاہور کے پورے محلے دبئی منتقل ہو گئے ہیں۔ دبئی سے تعلق ایک قسم کا سرٹیفکیٹ بھی بن گیا کہ جس کا آنا جانا وہاں نہیں ہے اُس کی ثقافتی حیثیت کچھ زیادہ نہیں۔ اب جب دبئی کے حالات ذرا خراب ہو رہے ہیں‘ دبئی ایئر پورٹ کی وہ چہل پہل نہیں رہی‘ ہوٹل ویران ہیں‘ سیاحوں کا آنا جانا تقریباً ختم ہو گیا ہے‘ تو جہاں پورے ماحول پر اثر پڑ رہا ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اہلِ ثقافت پر کوئی اثر نہ پڑا ہو۔ جس طرح سے کالا دھن واپس آ رہا ہے‘ نائٹ کلبوں اور ہوٹلوں کے بزنس کم ہونے سے اہلِ ثقافت بھی واپسی کے راستوں کا سوچ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ثقافت کی اس ہجرت سے جو رونقیں یہاں برباد ہوئیں وہ پھر بحال ہو سکتی ہیں۔ ویران محلے پھر آباد ہو سکتے ہیں۔ جو ٹیلنٹ یہاں سے گیا‘ اس کی اصلی جگہ تو یہاں ہے۔ اس لیے جیسے عرض کیا‘ بڑا موقع ہے اگر کوئی سمجھنے کیلئے تیار ہو۔
ہمارے ہاں معاشی ترقی کی کہانیاں سب زبانی جمع خرچ ہے۔ زرعی ملک اپنے آپ کو کہتے ہیں اور گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں۔ فیکٹریاں یہاں لگنی کوئی نہیں‘ تیل کے ذخائر دریافت نہیں ہونے۔ چوکیداری کیلئے یہاں ہمیشہ تیاری رہتی ہے لیکن ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ نام نہاد افغان جہاد کی طرح پھر سے ڈالروں کی ریل پیل شروع ہو۔ لہٰذا کریں وہ جس کی گنجائش موجود ہے۔ وعظ و نصیحت بہت ہو چکے۔ نظریے کی اونچی دیواریں اتنی کھڑی کی گئیں کہ مزید کی ضرورت نہیں رہی۔ اس سے جہاں ہم پہنچے ہیں اور قوم کی جو حالت بنی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ پارسا ہم بہت ہو گئے مزید پارسائی کی جگہ نہیں رہی۔ اب کچھ عقل سے کام لیا جائے‘ سانس لینا اس معاشرے میں تھوڑا آسان ہو جائے۔ یہ ناکے لگانے کا کلچر جس کی وجہ سے پولیس کے ہاتھوں لاچار لوگوں کی تذلیل ہوتی ہے ایسی روشیں ختم کی جائیں۔ مردِ حق مردِ مومن کو گئے عرصہ ہو چکا ہے۔ اب اُس دور کے چند قوانین جن کی وجہ سے اس معاشرے کا گلا گھونٹا گیا اُن پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کی ہمت حکمرانوں میں نہیں ہو گی لیکن ان قوانین کا بے جا اور تکلیف پہنچانے والا اطلاق تو نرم کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عوام کو تنگ کرنے کا ماحول جو اس محکمے میں بنا ہو اہے اُس کے بارے میں کچھ کیا جا سکتا ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہ پارسائی اور نصیحت کے نام پر اس معاشرے میں دو نمبری کو فروغ ملا ہوا ہے۔ منافقت کو تو دیکھیں‘ پورا معاشرہ اس میں دُھلا ہوا لگتا ہے۔
اڈیالہ میں بند مخصوص قیدی سے تکلیف ہے‘ یہ بات سمجھ آتی ہے۔ ہر ایک کی نفسیات عوام کے سامنے ہے لیکن اس ملک کے کسان سے کیا دشمنی ہے؟ حکمرانوں کو کوئی احساس نہیں کہ پچھلے دو تین سالوں میں اس ملک کے کسان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے‘ گندم کی درآمد کی سوچ بچار ہو رہی ہے۔ کسان بیچارہ کرے کیا‘ زراعت کے خرچے اُس کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ انڈسٹری کی حالت ویسے ہی پتلی ہے اور جب زراعت بھی آپ سے نہیں چلائی جا رہی تو پھر وہ کریں جو کر سکتے ہیں۔ طاؤس و رباب پر جو خواہ مخواہ کی سختیاں ہیں وہی ذرا نرم کریں۔ لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتے‘ مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتے‘ پھر ذاتی آزادیوں پر اتنے پہرے لگانے کی کیا تُک بنتی ہے۔ ایک تو ریاستی نااہلی اور اُس کے ساتھ یہ بے جا کی تھانیداری۔
وہ گانا کیا ہے کہ یار کا چہرہ نظر آئے تو عید ہو گی۔ ہمارے عید کے دن گزر چکے لیکن پھر بھی خیال آتا ہے کہ دو نمبری اس معاشرے میں ذرا کم ہو تو ہم اُسے عید ہی سمجھیں گے۔ بھلا ہو لندن اور گلاسگو میں ہمارے بیٹھے دوستوں کا کہ خیال رکھتے ہیں۔ کوئی اعتبار والا مسافر اُس دیس سے آئے تو وہا ں کی سوغات پہنچ جاتی ہیں۔ سوچتا ہوں کہ وہ تو لے آئے سوغات‘ اُس کے بدلے ہم کیا دے سکتے ہیں؟ چکوال کی مونگ پھلی اور پہلوان کی ریوڑی۔ پارسائی کے نام پر یہ حالت ایک اچھے بھلے معاشرے کی ہم نے بنا ڈالی۔ میری عمر کے لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے پرانا پاکستان دیکھا ہوا ہے۔ مساجد آباد ہیں لیکن منافقت کے اتنے سودے نہ بکتے تھے۔ جس نے مسجد جانا ہوتا وہاں جاتا جس نے شب کہیں اور گزارنی ہوتی ایسا کر سکتا تھا۔ معاشرے میں ایک رکھ رکھاؤ اور رواداری کا ماحول تھا۔ نعرے تب بھی لگتے تھے لیکن اتنے فضول کے نعرے نہ تھے جو کہ بعد کا معمول بن گیا۔ کون یہاں اصلاح لائے گا؟ کہاں سے کچھ بہتری کی ابتدا ہو سکتی ہے؟

Check Also
Close
Back to top button