مائی بیسٹ فرینڈ

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
The Lives of Others جرمن زبان کی فلم ہے جو مشرقی جرمنی کی گستاپو حکومت پر بنی تھی، اِس موضوع پر اِس سے بہترین فلم آج تک نہیں بنی۔ فلم کے ایک منظر میں جرمن اسٹیٹ پولیس کا افسر میس میں کھانا کھا رہا ہوتا ہے،اچانک وہاں ایک نوجوان آتا ہے اور پہلے سے موجود اپنے دوستوں کو مشرقی جرمنی میں رائج سنسرشپ کے بارے میں لطیفہ سنانا شروع کرتا ہے۔ پھر اُس کی نظر افسر پر پڑتی ہے اور وہ یکدم گھبرا کر رُک جاتا ہے۔ افسر اسے تسلی دیتا ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں، ہم مزاح کو برا نہیں سمجھتے، تم لطیفہ جاری رکھو۔ نوجوان ہمت کرکے لطیفہ سناتا ہے جس پر افسر قہقہہ لگاتا ہے، نوجوان کی جان میں جان آتی ہے، مگر یکایک افسر سنجیدہ ہو جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ اپنا نام، عہدہ اور محکمہ بتاؤ۔ لطیفہ سنانے والے کی روح فنا ہو جاتی ہے، مگر افسر پھر پلٹا کھاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔
پتا نہیں مجھے یہ فلم اور لطیفہ کیوں یاد آ گیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو سنایا تو وہ بھی اسی افسر کی طرح ایک دم سنجیدہ ہو گیا اور مجھے کہنے لگا کہ آج کل ایک سافٹ ویئر آ گیا ہے جو تم جیسے لکھاریوں کی مدد کرتا ہے۔ میں نے بیزاری سے کہا کہ تم اے آئی کی بات کر رہے ہو؟ اُس نے مجھ سے بھی زیادہ بیزاری سے جواب دیا کہ میں اتنا بیوقوف نہیں، میں اُس سافٹ وئیر کی بات کر رہا ہوں کہ تحریر کو پڑھ کر بتا دیتا ہے کہ یہ شائع ہونے کے قابل ہے یا نہیں۔ ”کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا۔ ”مطلب یہ کہ جس طرح اُس گستاپو حکومت والے بچے کو نہیں پتا تھا کہ کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں، اسی طرح آج کل کے لکھنے والوں کو بھی عقل نہیں کہ کہاں ہاتھ روکنا ہے اور کہاں چلانا ہے۔“
”یار تو مدیر کس مرض کی دوا ہے؟“
”جب روزانہ سرخ لکیر سے نیا دائرہ کھینچا جائے تو مدیر بیچارہ کیا کرے! اور پھر یہ تو سافٹ ویئر ہے، نہ اِس کا کوئی خاندان ہے نہ کوئی نوکری، سو یہ بلا خوف و خطر بتاتا ہے کہ ’سچ‘ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کس مقام پر جا کر خطرناک ہو جاتا ہے۔“
دلیل وزنی تھی۔ میں نے وہ سافٹ ویئر انسٹال کر لیا۔ انسٹال کرتے وقت اُس نے مجھ سے چند اجازتیں مانگیں، مثلاً مسودے پڑھنے کی اور میری فائلوں تک رسائی کی اجازت اور میرے ’عزائم‘ کا تجزیہ کرنے کی بھی۔ آخری شق پڑھ کر میں ایک لمحے کو رکا، مگر وہی سوچ کر ’منظور ہے‘ پر انگلی رکھ دی جو سوچ کر دلہن نکاح کے وقت منظور ہے کہتی ہے۔ پہلا کالم اُس کے سپرد کیا۔ تیرہ سیکنڈ بعد اسکرین پر رنگ برنگی لکیریں نمودار ہوئیں اور نیچے ایک مختصر رپورٹ: ’’اِس تحریر میں خطرے کا مجموعی امکان اکیاسی فیصد ہے۔‘‘ میں نے تفصیل کھولی تو پتا چلا کہ سرخ رنگ کا مطلب ہے ’’ہرگز نہیں‘‘، نارنجی کا مطلب ہے ’’مشورہ ہے کہ نہ ہی لکھیں‘‘ اور پیلے کا مطلب ہے ’’لکھ لیں مگر پھر ہمیں مورد الزام نہ ٹھہرائیں‘‘۔ سبز رنگ بھی موجود تھا مگر پورے کالم میں صرف ایک جگہ نظر آیا اور وہ جگہ میرا نام تھا۔ اِس کے بعد جو مکالمہ شروع ہوا وہ کچھ اس طرح تھا۔ میں نے ایک جملے میں لکھا تھا کہ فلاں پالیسی سے عام آدمی کا نقصان ہوا ہے۔ سافٹ ویئر نے پوچھا: ’’یہ پالیسی کس نے بنائی؟‘‘ میں نے لکھا: ’’متعلقہ حکام نے۔‘‘ اُس نے کہا: ’’متعلقہ حکام مبہم ہے، قاری خود اندازہ لگا لے گا، اور جو بات قاری خود اخذ کرے اُس کی ذمہ داری بہرحال لکھنے والے پر آتی ہے۔‘‘ میں نے جھنجھلا کر ’’متعلقہ حکام‘‘ کی جگہ ’’بعض حلقے‘‘ لکھ دیا۔ رپورٹ آئی: ’’بعض حلقے ایک معروف اصطلاح ہے اور اِس کے معنی سب جانتے ہیں، لہٰذا یہ زیادہ خطرناک ہے۔‘‘ میں نے تنگ آ کر وہ پورا فقرہ ہی حذف کر دیا اور اُس کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ اب کے جو رپورٹ آئی اُس نے مجھے کرسی سے اٹھا دیا:’’خالی جگہ سب سے خطرناک ہے۔ سکوت میں قاری اپنی مرضی کا نام بھر لیتا ہے اور یوں ایک کے بجائے کئی ادارے ناراض ہو سکتے ہیں۔ براہِ کرم خالی جگہ کو کسی بے ضرر بات سے پُر کریں۔‘‘ میں نے پوچھا بے ضرر بات کی کوئی مثال؟ اُس نے فوراً تجویز پیش کر دی: ’’مثلاً یہ کہ آج بارش کا امکان ہے۔‘‘ میں نے وہی لکھ دیا۔ چند سیکنڈ بعد نئی رپورٹ آئی:’’آج کل موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، آپ اُس پریشانی کو بڑھاوا نہ ہی دیں تو اچھا ہے۔“
اِس کے بعد میں نے تجربے کے طور پر مختلف موضوعات آزمانا شروع کر دیے۔ معیشت پر لکھا تو کہا گیا کہ اعداد و شمار سرکاری ذرائع سے لیں، اور جب سرکاری ذرائع سے لیے تو کہا گیا کہ اِن اعداد و شمار پر تبصرہ نہ کریں، صرف اعداد و شمار لکھ دیں۔ تاریخ پر لکھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ 1947 سے 1958ءتک کا عرصہ محفوظ ہے بشرطیکہ اُس کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہ جوڑا جائے، اور 1958 ءکے بعد کا سارا زمانہ ’’زیرِ غور‘‘ ہے۔ ادب کی طرف بھاگا تو ایک معروف نظم کا پہلا مصرع لکھتے ہی اسکرین سرخ ہو گئی اور نیچے تحریر تھا: ’’یہ شاعر ہمارے نظام میں پہلے سے درج ہے۔‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اُن کا انتقال تو کئی دہائیاں پہلے ہو چکا۔ جواب ملا: ’’شاعر کا انتقال ہو جاتا ہے، شعر کا نہیں ہوتا۔‘‘ یہ سن کر میں نے دل ہی دل میں سافٹ ویئر کو داد دی، کیونکہ اِس سے بہتر تعریف تو ہمارے نقاد بھی نہیں کر سکے۔ پھر میں نے سوچا کہ چلو استعارے کا سہارا لیتے ہیں۔ میں نے چڑیا گھر کے شیر پر ایک نہایت معصوم تحریر لکھی جس میں بتایا گیا تھا کہ تیندوا وقت پر کھانا مانگتا ہے، پنجرے کی صفائی پر ناراض ہوتا ہے اور قید کی وجہ سے جھنجھلایا رہتا ہے۔ میرا خدا جانتا ہے کہ اِس میں کوئی اشارہ نہیں تھا مگر سافٹ ویئر نے پورا مضمون سرخ کر دیا اور لکھا: ’’جانوروں کے ذریعے انسانی اداروں پر تبصرے کی روایت جارج آرویل سے شروع ہو کر آج تک جاری ہے۔ اِس تحریر کو تمثیل تصور کیا جائے گا۔ احتیاط کرو۔‘‘
میں نے آخری کوشش کے طور پر تعریف لکھنے کا فیصلہ کیا، سوچا کہ تعریف پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایک ادارے کی خدمات پر چار سطریں لکھ ماریں۔ رپورٹ آئی: ’’ضرورت سے زیادہ تعریف کو طنز سمجھا جا سکتا ہے۔ تعریف کو معتدل رکھیں۔‘‘ تنگ آ کر میں نے سافٹ ویئر سے پوچھا کہ تم ہی بتا دو کہ میں لکھوں کیا۔ اُس نے فوراً ایک فہرست پیش کر دی جو کچھ اس قسم کی تھی۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں، لیکن اِس شرط کے ساتھ کہ قیمت بڑھنے کی وجہ نہ بتائی جائے۔ ڈینگی سے بچاؤ کے طریقے۔ صبح کی سیر کے فوائد۔ نیند پوری کرنے کے سات نسخے۔ دل کے درد کا جڑی بوٹیوں سے علاج۔ مائی بیسٹ فرینڈ، وغیرہ۔ چند دن آزمانے کے بعد میں نے وہ سافٹ وئیر استعمال کرنا چھوڑ دیا کیونکہ میرا دماغ اب اُس سافٹ وئیر کی طرح ہی کام کرتا ہے۔ اب میں لکھتا کم ہوں، مٹاتا زیادہ ہوں۔ جملے میرے دماغ میں ہی خود بخود سرخ، نارنجی اور سبز ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے دوست کا شکرگزار ہوں۔ اگلا کالم مائی بیسٹ فرینڈ ہوگا۔
