سنگین الزامات کے بعد جسٹس امیر بھٹی کا مستقبل کیا ہے

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس (ر) شاہد جمیل کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج امیر حسین بھٹی پر لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ الزامات ایک جج نے لگائے ہیں کسی سیاستدان نے نہیں۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل نے سینیئر صحافی اعزاز سید کو ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں یہ دعوی کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر حسین بھٹی نے اپنے داماد علی افضل ساہی کو فائدہ پہنچایا جو تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں۔ اعزاز سید سے بات کرتے ہوئے شاہد جمیل خان نے کہا کہ جسٹس امیر بھٹی کے زمانے میں مخصوص کیسز بھی مخصوص بنچز کے سامنے ہی لگتے تھے۔ سابق جج نے کہا کہ یہ بات میں صرف میڈیا پر نہیں کہہ رہا، میں نے یہ بات ججز کے درمیان بیٹھ کر ایک چائے پر امیر بھٹی صاحب کے منہ پر کہی تھی۔ میں نے کہا کہ آپ کے داماد کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے، ہو سکتا ہے آپ کو فرق نہ پڑتا ہو لیکن مجھے فرق پڑتا ہے۔ اگر میں نے یا میرے بیٹے نے کچھ کیا ہے، تو میرے خلاف 209 کی کارروائی شروع کریں۔ میرے بیٹے کے خلاف FIR کروائیں۔ لیکن ایسی کوئی چیز نہیں ہے تو میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ میڈیا میرا بلا وجہ میرا نام لے اور میرے رشتہ دار اور دوست منہ چھپاتے پھریں”۔
اپنے تفصیلی انٹرویو میں جسٹس (ر) شاہد جمیل نے لاہور ہائی کورٹ میں گزرے اپنے قریب دس سالوں کے تجربات پر روشنی ڈالی۔اس سوال پر کہ امیر حسین بھٹی پر رشوت کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، شاہد جمیل نے کہا کہ میں نے بھی اس بارے سنا ہے، میرے پاس بھی وہی اطلاعات ہیں جو میڈیا کے پاس ہیں، یہ باتیں ہم نے محمد خان بھٹی کی لیک شدہ ویڈیو میں بھی سنی ہیں۔ محمد خان بھٹی کی ویڈیو لیک میں اپنے ذکر پر جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ 2008 میں ق لیگ کی حکومت ختم ہوئی اور ن لیگ کی حکومت آئی تو محمد خان بھٹی سیکرٹری پنجاب اسمبلی تھے جنہیں برخاست کر دیا گیا۔ میں اس کیس میں سپیکر کا وکیل تھا۔ ہائی کورٹ سے فیصلہ میرے حق میں آیا لیکن پھر عبدالحمید ڈوگر کی عدالت نے سپریم کورٹ میں یہ فیصلہ الٹ دیا۔ یہ میرا ان سے پہلا ٹاکرا تھا اور میں اس کا مخالف وکیل تھا لیکن محمد خان بھٹی ہمیشہ بڑی عزت سے ملتا تھا۔ بعد ازاں جب میں جج بن کر GOR میں شفٹ ہوا تو محمد خان بھٹی بھی وہیں رہتا تھا، ان کا بیٹا میرے بیٹے کا کلاس فیلو بھی تھا۔ جب قید میں بھٹی سے سوال ہوا کہ کس کس جج سے تمھارا تعلق تھا تو اس نے میرا اور جسٹس شاہد کریم کا نام لے لیا۔ میں اور شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ میں حکومت کو بہت ٹف ٹائم دیتے تھے۔ ہم فیصلہ کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے تھے، وہ تو ابھی بھی یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ جب محمد خان بھٹی نے میرا نام لیا تو میں نے اگلے ہی دن ان سے کہا کہ یا تو اس کیس کو آپ خود اٹھائیں یا پھر میں اس معاملے کو اپنے کسی کیس میں take up کر لوں گا۔ ورنہ پھر میں استعفا دے دوں گا۔ لیکن جسٹس امیر بھٹی کے بقول انہیں عمر عطا بندیال نے ہدایت کی تھی کہ اس پر کوئی کارروائی نہ کریں۔ لیکن جب میں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بندیال صاحب سے وجہ پوچھی تو انہوں نے ایسی کوئی ہدایت دینے سے لاعلمی کا اظہار کیا”۔
جسٹس باقر نجفی بارے ایک سوال پر جسٹس شاہد نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی کیس آ جاتا تھا تو امیر حسین بھٹی اسے نجفی صاحب کے سامنے لگاتا تھا۔
جسٹس (ر) شاہد جمیل نے بتایا کہ جنرل باجوہ کے سمدھی صابر مٹھو صاحب کے والد اور میرے والد آپس میں فرسٹ کزن تھے۔ وکالت میں آنے کے بعد میری مٹھو سے اتنی ملاقات نہیں رہی۔ "جب میں جج کنفرم ہو گیا تو یہ پہلی بار میرے پاس مٹھائی لے کر آیا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا بیٹھا تھا جو کہ خود بھی بیرسٹر ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ میرے والد صاحب کے جنازے پر بھی نہیں آیا تھا تو اب اس کا فون آیا ہے کہ میں مبارکباد دینے آنا چاہتا ہوں۔ ابھی باجوہ صاحب چیف نہیں بنے تھے۔ جنرل راحیل شریف جا رہے تھے۔ مٹھو نے مجھے بتایا کہ ہماری بات ہو گئی ہے، جنرل باجوہ آرمی چیف بننے جا رہے ہیں۔ پھر انہوں نے مجھے جاتے ہوئے کوئی سفارش بھی بتا دی کہ وہ آپ کے سامنے کیس لگا ہوا ہے۔ میں نے نہ سفارش سنی، نہ کیس پوچھا کون سا ہے۔ پھر باجوہ صاحب آرمی چیف بن گئے۔ ان کے بیٹے کی شادی پر مٹھو نے میری ملاقات جنرل باجوہ سے کروائی کہ یہ میرے کزن ہیں، ہائی کورٹ کے جج ہیں۔” پھر انہوں نے مجھے ایک بار پھر پیغام بھیجا کہ میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا میں اللہ کا شکر ہے ہائی کورٹ کا جج ہوں، آپ میرے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ اب تو مجھے صدر تو نہیں لگوا سکتا نا۔ اللہ کا بہت کرم ہے۔ اس سے زیادہ کیا مجھے چاہیے ہو سکتا ہے؟ پھر انہوں نے کچھ کیسز کے حوالے سے مجھے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تو میں نے بھیسخت پیغام بھیجا جس کے بعد پیغامات کا سلسلہ رک گیا۔”
شاہد جمیل نے بتایا کہ جب چینی کے کیسز میرے سامنے لگے تو مجھے میرے بھائی نے بتایا کہ صابر مٹھو کا فون آیا تھا اور اس نے پیغام دیا ہے کہ جو وکیل صاحب شوگر والوں کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں، آپ انہیں بڑا ٹف ٹائم دے رہے ہیں اس لیے تھوڑا ہاتھ ہولا رکھیں۔”لہکن میں نے وکیل کو اپنے چیمبر میں بلا لیا اور کہا کہ کیا اس طرح مجھ پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے؟ اس نے معافیاں مانگنا شروع کر دیں اور پھر بتایا کہ میں نے مٹھو کو منع کیا تھا کہ وہ آپ کو ایسا کوئی پیغام نہ دے۔
لاہور ہائی کورٹ کی نامزد چیف جسٹس عالیہ نیلم کے بارے میں رائے دیتے ہوئے شاہد جمیل نے کہا کہ ان کو قطعاً اپروچ نہیں کیا جا سکتا اور یہ وکلا کے لئے بھی بہت مشکل ہوگا کہ وہ ان پر اثر انداز ہو سکیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بندیال صاحب ہی نے ان کو لاہور ہائی کورٹ کے لئے نامزد کیا تھا۔ جب اعزاز سید نے پوچھا کہ بندیال صاحب پر کیا یہ الزام درست ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے بہت قریب تھے؟ تو شاہد جمیل نے کہا کہ ایک غلط روش قائم ہو گئی ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے، اس پر جج کے خلاف مہم شروع کر دی جائے۔ بندیال صاحب کو اگر آپ پی ٹی آئی کا حامی جج کہتے ہیں تو پھر ان کا سب سے بڑا فیصلہ تو وہ تھا جس نے تحریکِ عدم اعتماد پر رائے زنی یقینی بنائی۔ تحریکِ انصاف نے بھی ان پر تنقید کی لیکن تب انہوں نے رات 12 بجے عدالت کھول کر ایکشن لیا تھا۔
