سٹیٹ بینک الیکشن کے لیے رقم دینے کا مجاز کیوں نہیں؟

سپریم کورٹ کے الیکشن کمیشن کو براہ راست 21ارب روپے جاری کرنے کے حکم کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک کشمکش میں گھرا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کا خطرہ ہے جبکہ دوسری طرف قانونی طور پر قومی اسمبلی سے مسترد ہونے کے بعد کسی بھی صورت انتخابی اخراجات کے لئے رقم کی ادائیگی ممکن نہیں ہے۔
خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے مرکزی بینک کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں انتخابات کے لیے وفاقی مجموعی فنڈ میں سے پیر تخ21 ارب روپے جاری کرے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فنڈ اسٹیٹ بینک کے زیرانتظام نہیں ہے اور نہ ہی یہ اسے کنٹرول کرتا ہے جس سے عدالت عظمیٰ نے جاری کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ قومی اسمبلی پہلے ہی باضابطہ طور پر اس کے اجرا کی مخالفت کر چکی ہے۔اسٹیٹ بینک کے ایک سابق بینکر کے مطابق قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ سے رقم کے اجرا کی ہدایت غیرمعمولی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایک سابق ڈپٹی گورنر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بینک میں پیسے جمع کرانے والے کی رضامندی کے بغیر اس کے اکاؤنٹ سے ادائیگی کرنے کو کہا جائے‘۔ریٹائرڈ ڈپٹی گورنر کے مطابق ’مروجہ قانون کے تحت واحد ممکنہ راستہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی ہی نقد رقم سے روپے عطیہ کردے، یہ ایک پروویژن کے تحت کیا جا سکتا ہے جو اسٹیٹ بینک کو بینکنگ اور فنانس میں تحقیق کے فروغ کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے‘۔
وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہونے والے بیوروکریٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت عدالت پارلیمنٹ کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔آئین کہتا ہے کہ تمام ایگزیکٹو اور جوڈیشل اتھارٹیز کو سپریم کورٹ کی معاونت سے کام کرنا چاہیے، دوسرے لفظوں میں عدالت عظمیٰ وفاقی کابینہ کو ہدایت جاری کر سکتی ہے جو کہ ایگزیکٹو کا حصہ ہے لیکن مقننہ کے لیے ہدایات جاری نہیں کرسکتی جو کہ پارلیمنٹ ہے۔
حکومت کے مطابق وفاقی مجموعی فنڈ سے رقم کے اجرا کے لیے پارلیمنٹ کے ایکٹ کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے پہلے ہی 9 اپریل کو فنانس ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک بل کی منظوری دے دی ہے، بعد ازاں یہی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس نے اس بل کو مسترد کر دیا۔ریٹائرڈ بیوروکریٹ نے آئین کے مطابق ریاست کے 3 ستونوں مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’طاقت کے مراکز کو کسی کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا‘۔
ایک لا فرم کے شراکت دار بیرسٹر صلاح الدین احمد نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے اس حصے پر ایک سوالیہ نشان ہے جس کے تحت حکومت کو 21 ارب روپے فنڈز کے لیے قومی اسمبلی سے منظوری لینے کی ضرورت ہے، کوئی کیسے توقع کر سکتا ہے کہ پارلیمنٹ سے اس گرانٹ کی منظوری ملے گی جس نے پہلے ہی اس سے انکار کر دیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت رقم خرچ کرنے کے بعد منظوری لینے میں ایک بار پھر ناکام ہوگئی تو کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟
سپریم کورٹ کے حکم کے بعددلچسپ آئینی صورتحال درپیش ہے۔ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت کابینہ کو ہدایات دے سکتی ہے جو انتظامیہ ہے مگر پارلیمنٹ کو حکم جاری نہیں کر سکتی اور پارلیمان کے انکار پر اسٹیٹ بنک کی طرف سے 21ارب کی ادائیگی ایسے ہو گی جیسے اکاونٹ ہولڈر کی مرضی کے خلاف بینک اس کی رقم کسی دوسرے کو دے دے۔ تاہم اب سوال یہ ہے کہ عدالت کے حکم پر کسی اکاونٹ سے رقم نکالی جا سکتی ہے یا نہیں تو اس کا جواب ہے عام اکاونٹ ہولڈر کے اکاونٹ سے تو نکال سکتے ہیں مگر پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جس پر عدالت حکم لاگو نہیں کر سکتی لہذا اس کے اکاونٹ کو اپنے حکم کے تابع نہیں لا سکتی۔ ایسا کرنا آئین کے خلاف ہو گا۔
خیال رہے کہ آئین کے مالیاتی، مالی اور تجارتی معاملات سے متعلق آرٹیکل بہت واضح ہیں اور انہیں عمران خان حکومت نے جاتے جاتے سٹیٹ بینک اصلاحات بل کے ذریعے مزید واضح کر دیا تھا۔ آئینی طور پر سٹیٹ بینک مالی اور مالیاتی پالیسی کا ذمہ دار ادارہ ہے، اور اس کی دیگر ذمہ داریاں ان ہی نکات کے گرد گھومتی ہیں، جبکہ حکومت یعنی وزیر اعظم کابینہ اور وزیر خزانہ مالی اور مالیاتی انتظام کی ذمہ دار ہیں۔ بجٹ بنانا، اور اس پر عمل کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
ان دونوں سے ہٹ کر آئین میں ایک آرٹیکل 160 بھی ہے جو قومی مالیاتی کمیشن کے حوالے سے بتاتا ہے کہ وسائل کس طرح جمع ہوں گے۔ یہی وسائل کی تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ ذیلی قواعد اور ضوابط کے ذریعے، جن کے تحت تمام ٹیکس وفاقی قابل تقسیم پول میں جمع ہوں گے۔
ان کا 57 فیصد صوبوں میں ان کے طے شدہ حصہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔ 43 فیصد مرکز کو ملے گا جس میں سے دفاع، تنخواہوں، منشن، اور الیکشن سمیت دیگر ذمہ داریوں کے رقوم مختص کی جائیں گی، اور یہ رقم بجٹ کے تحت تقسیم کے بعد بعض اہم اور ضروری وفاقی مجموعی اکاؤنٹ اخراجات کے ذریعے وفاقی مجموعی فنڈ میں رکھی جائیں گی۔سپریم کورٹ کے اخراجات، ایوان صدر، سمیت بہت سے اخراجات اسی فنڈ سے کیے جاتے ہیں، اور الیکشن کے لئے درکار رقم بھی اسی فنڈ سے جاری ہوگی۔
لیکن آرٹیکل 160 کے ساتھ ایک آرٹیکل 164 بھی اسی آئین میں موجود ہے جو کہتا ہے کہ وفاقی مجنوعی اکاؤنٹ سے کوئی بھی رقم صرف قومی اسمبلی سے منی بل منظور کروا کے ہی خرچ یا جاری کی جا سکتی ہے اور یہ کام بھی حکومت کا ہے، یعنی اس حوالے سے سٹیٹ بینک کو کوئی ہدایت کوئی بھی ادارہ جاری نہیں کر سکتا۔
اب حقائق یہ ہیں کہ قومی اسمبلی پنجاب میں انتخابی اخراجات سے متعلق منی بل مسترد کر چکی، قومی اسمبلی سے مسترد ہونے کے بعد کسی بھی صورت انتخابی اخراجات کے لئے رقم کی ادائیگی ممکن نہیں، اور اگر سٹیٹ بینک اس کا کوئی بھی بڑے سے بڑا افسر بھی اب رقم جاری کرے گا تو آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔
اطلاعات یہ گردش کر رہی ہیں کہ حکومت اس صورت میں کارروائی کرنے کا بھی سوچ رہی ہے، اور اگر کسی وجہ سے حکومت براہ راست نہ بھی کر سکی تو جو آڈٹ بنے گا اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اٹھا کر ناصرف اس آرٹیکل کے تحت کارروائی کی شکایت کر سکتی ہے بلکہ بعض اور اقدامات کی سفارش بھی کر سکتی ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ اداروں میں لڑائی میں ایک آئینی ادارہ آئین شکنی کے احکامات دے گا تو دوسرا اس کے خلاف کارروائی کو تیار ہوگا۔
