سپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ : الیکشن کمیشن احترام کا حق دار ہے، کچھ ججز تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں

سپریم کورٹ آف نے مسلم لیگ ن کے 3 اراکین کی قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اپیلوں پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیاہے کہ الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران احترام کے حق دار ہیں لیکن بدقسمتی سکچھ ججز اس پہلو کو نظر انداز کرتےہوئے تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پنجاب کے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں دوبارہ گنتی کےکیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا۔ تحریری فیصلہ 47 صفحات پر مشتمل ہے۔
اکثریتی فیصلے میں کہاگیا ہےکہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران احترام کے حق دار ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ ججز اس پہلو کو نظر انداز کرتےہوئے تضحیک آمیز ریمارکس دیتےہیں۔ فیصلے میں مزید کہاگیا کہ ہر آئینی ادارہ اورآئینی عہدے دار احترام کا مستحق ہے،ادارےکی ساکھ میں اس وقت اضافہ ہوتا ہےجب وہ احترام کےدائرہ میں فرائض سر انجام دے۔
ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا کیس: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی اپیلیں منظور
عدالتی فیصلے کے مطابق جب ہائی کورٹ میں کیس گیا اس وقت یہ ترمیم موجود تھی لیکن ہائی کورٹ نےسیکشن 95 کی ذیلی شق 5 کو مد نظر ہی نہیں رکھا، سپریم کورٹ ایک فیصلے میں طےکر چکی کہ الیکشن تنازعات کافورم الیکشن ٹربیونل ہے، سپریم کورٹ طے کر چکی کہ ہائی کورٹ وہ معاملہ دیکھ سکتی ہے جہاں الیکشن کمیشن کادائرہ اختیار نہ ہو، ورکرز پارٹی کیس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا اختیارہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کےمختلف پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ گنتی کی درخواستوں پرفیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کوکالعدم قرار دیاتھا اور ن لیگ کے 3 اراکین قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کر دی تھی۔
