سپریم کورٹ میں صحافیوں کا کیس: نئی عدالتی تاریخ رقم

سپریم کورٹ آف پاکستان میں صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور ہراسانی کے خلاف دائر کردہ آئینی پٹیشن تب لٹک گئی جب قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے دو رکنی بنچ کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر افسران کو طلب کرنے کے فیصلے کو معطل کیے بغیر اس پر عمل درآمد روک دیا۔ 23 اگست کو پانچ رکنی لارجر بینچ نے اپنی پہلی سماعت میں قرار دیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ کے فیصلے پر عملد رآمد اس لیے روکا گیا ہے تاکہ پہلے طے کیا جا سکے کہ سوموٹو یعنی از خود نوٹس لینے کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے۔واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسی نے 20 اگست کے روز سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کی ایف آئی اے لاہور کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد دائر کردہ ایک آئینی پٹیشن پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایک دو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا اور ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر حکومتی افسران کو 26 اگست کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ تاہم پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس معاملے کا دوبارہ ازخود نوٹس لے کر اپنی سربراہی میں ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا اور 23 اگست کو اسکی سماعت مقرر کرتے ہوئے جسٹس فائز عیس والا دو رکنی بنچ ختم کر دیا۔
تاہم 23 اگست کو اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مندوخیل کا عدالتی آرڈر تو منسوخ نہیں کیا، لیکن اس پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کر دیا۔ انکا کہنا تھا کہ ایسانہ کیا جاتا تو آئینی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ صحافیوں نے اپنے ساتھ ذیادتیوں پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک جج پر اعتماد کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے جسٹس عمر عطا بندیال سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس معاملے سے ایسا تاثر بن رہا ہے کہ عدلیہ میں واضح تقسیم ہے، اور ایسا نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اس پر جسٹس بندیال نے کہا کہ عدلیہ میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے، ہاں ججز کی مختلف معاملات پر رائے مختلف ضرور ہو سکتی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے جسٹس فائز عیسی کا نام لیے بغیر لطیف آفریدی سے کہا کہ ہم آپکی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے ایک ساتھ بیٹھ جائیں گے۔ تاہم پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ ازخودنوٹس کا اختیار کس انداز میں استعمال ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور اس معاملے میں معاونت کیلئے صدر سپریم کورٹ بار کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ صحافیوں کی ہراسانی کے حساس ترین معاملے سے پہلے ہم اس نکتے کا جائزہ لیں گے کہ کیا ازخود نوٹس اس انداز میں لیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دو رکنی بنچ نے صحافیوں کی درخواست پر ازخودنوٹس لیا تھا، کوئی بھی بنچ زیر التواء مقدمہ میں کسی نقطے پر ازخود نوٹس لے سکتا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں کوئی مقدمہ زیر التواء نہیں تھا۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ بنچز عمومی طور پر چیف جسٹس کو از خود نوٹس لینے کی سفارش کرتے ہیں کیونکہ بینچ تشکیل دینا صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے لیکن اس معاملے میں دو رکنی بنچ نے براہ راست درخواست وصول کرکے ازخود نوٹس لے لیا اور 26 اگست کو سماعت مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر خصوصی بنچ تشکیل دینا ہو تو چیف جسٹس ایسا کرتے ہیں۔ جب صحافیوں کی گرفتاری بارے استفسار کیا گیا تو جسٹس بندیال نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جسکی ہم شفاف انداز میں کارروائی چاہتے ہیں اور ایسی کارروائی نہیں چاہتے جو کسی فریق کیلئے سرپرائز ہو۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت سوموٹو نوٹس اور مکمل انصاف کا اختیار ایک سسٹم کے تحت استعمال کرتی ہے۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ صحافیوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک جج پر اعتماد کیا۔ جسٹس بندیال کے لارجر بنچ نے قرار دیا کہ از خود نوٹس لینے کے اختیار کے تعین کیلیے ہم اصل شراکت داروں کو سننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں لکھوائے گئے تحریری حکم نامے کو حتمی نا سمجھا جائے، حتمی تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائیگا۔ بعد ا،اں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 25 اگست بدھ تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے دو رکنی جسٹس فائز عیسی بنچ نے 7 اگست 2021 کو سنیئر صحافی عامر میر اور وی لاگر عمران شفقت کی حالیہ گرفتاری میں ایف آئی اے کی جانب سے اعلی عدلیہ کو ملوث کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ متاثرہ صحافی اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے بعد 20 اگست کو عدالتی حکمنامے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو 26 اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کیوں کی اعلیٰ عدلیہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کی بجائے صحافیوں پر جبر کے واقعات میں حکومت اور ریاست کی معاون اور مددگار بنی ہوئی ہے؟ تاہم جسٹس بندیال کے پانچ رکنی بنچ نے جسٹس عیسی کے اس حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا ہے اور کیس کی اگلی سماعت 26 اگست کو مقرر کر دی ہے۔
