کرونا ، خاتون فلائٹ لیفٹیننٹ سمیت 81 جاں بحق

کرونا کے وار جاری ، پاک فضائیہ کی فلائٹ لیفٹیننٹ سمیت 81 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 25 ہزار 3 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 11 لاکھ 27 ہزار 584 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 772 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 3 لاکھ 80 ہزار 844، سندھ میں 4 لاکھ 20 ہزار 955، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 57 ہزار 148، بلوچستان میں 31 ہزار 845، گلگت بلتستان میں 9 ہزار 656، اسلام آباد میں 96 ہزار 390 جبکہ آزاد کشمیر میں 30 ہزار 746 کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 80 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 25 ہزار 3 ہوگئی۔پنجاب میں 11 ہزار 557، سندھ میں 6 ہزار 612، خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 797، اسلام آباد میں 852، بلوچستان میں 335، گلگت بلتستان میں 170 اور آزاد کشمیر میں 680 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک بھر میں کورونا کے باعث اموات کی تعداد 25 ہزار 3ہو گئی۔

ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 72 لاکھ 76 ہزار 450 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 ہزار 881 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 10 لاکھ 12 ہزار 662 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 390 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔واضح رہے کی سماجی فاصلے، ماسک کو نظر انداز کرنے اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر زور پکڑنے لگی، ملک کرونا مریضوں کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پھر 30 ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب ملک بھر میں ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے۔ پاکستان بھر میں اب تک کُل 4 کروڑ 47 لاکھ 36 ہزار 977 کورونا ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

دریں اثنا پاک فضائیہ کی فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند کورونا وائرس کے باعث کراچی میں انتقال کر گئیں جس کے بعد سندھ میں وبا سے جان کی ہارنے والے ڈاکٹرز کی تعداد 77 تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال فروری سے اب تک ملک بھر میں 220 ڈاکٹرز کورونا وائرس سے انتقال کر گئے تھے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور 8 ماہ کی حاملہ تھیں اور کورونا وائرس کے باعث ایک ہفتے سے ملیر کینٹ میں واقع کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں زیر علاج تھیں۔پی ایم اے کے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور کے والد میں بھی مثبت کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو فی الحال سی ایم اے میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ نور نے کرونا وائرس کی ویکسین نہیں لگوائی تھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی اور دردناک ہے کہ ہم نے کرونا وائرس کے باعث دو جانوں کو کھو دیا، شاید ڈاکٹر نے حمل کی وجہ سے کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے سے اجتناب کیا تھا’۔حمل کے دوران کرونا وائرس ویکسین کی بین الاقوامی ہدایات کے حوالے سے ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ماہرین نے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے ویکسین کی مخالفت کی تھی لیکن بعد ازاں مہینوں تک بڑے پیمانے پر سائنسی ڈیٹا کے مشاہدے کے بعد ان ہدایات میں تبدیلی کردی گئی۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ اب ماہرین کا اعتماد ہے کہ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے ویکسین صحت بخش ہے اور اسے دونوں کے لیے تجویز کرتے ہیں۔انہوں نے طبی سہولیات فراہم کرنے والوں سے جلد ویکسین لگوانے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے میں ذاتی طور پر ملک کی سرفہرست گائناکولجسٹس سے بات کی ہے جن کی اکثریت حمل کے پہلے تین ماہ میں بھی ویکسین لگوانے کی حمایت کرتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ان میں سے چند ایسے ہیں جن کا ماننا ہے کہ بہتر ہے کہ پہلے تین ماہ میں کورونا وائرس کے نہیں لگوائی جائے، ماہرین حمل کے آخری مہینوں میں کورونا ویکسین لگوانے کی بھی تجویز دیتے ہیں۔

پی ایم اے نمائندے کے مطابق سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے 80 سے 85 افراد فیصد کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں، جبکہ ویکسین لگوانے والے افراد میں متعدی مرض کی شدت اور تعداد کم دیکھی گئی ہے۔ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ‘ہم نے بین الاقوامی سطح پر یہ روایت دیکھی ہے، لیکن ان شواہد اور جانی نقصان کے باوجود معاشرے کا ایک طبقہ ایسا ہے جو ویکسین نہیں لگوانا چاہتا، میں ان لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو خطرے میں نہ ڈالیں’۔

Back to top button