افغان طالبان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے افغان طالبان 2001 کے طالبان سے مختلف ہیں، لیکن میرے خیال میں وہ اب بھی اپنے پرانے نظریات پر قائم ہیں، ہاں انہوں نے پچھلی دو دہائیوں میں کچھ نئے ہتھکنڈے ضرور سیکھ لیے ہیں۔ لیکن طالبان کا اصل امتحان 15 اگست کی جیت کے بعد شروع ہوا ہے۔
انڈیا ٹوڈے میں شائع ہونے والی اپنی ایک تازہ تحریر میں حامد میر بتاتے ہیں کہ پچیس سال پہلے مجھے طالبان ملیشیا سے یہ کہہ کر متعارف کروایا گیا تھا کہ یہ لوگ افغانستان میں ”پائپ لائن پولیس“ کا کردار ادا کریں گے۔ تب طالبان سے میرے رابطے کا انتظام اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا جو طالبان کی حمایت کرنے پر اپنی حکومت پر میری جانب سے کی جانے والی تنقید سے پریشان تھیں۔ انہوں نے اپنے وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر سے کہا کہ وہ مجھے افغان طالبان کے بارے میں بریفنگ دیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ نصیر اللہ بابر پاک فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل تھے۔ انہوں نے میرے سامنے کئی بار اعتراف کیا کہ اس نے کئی معروف افغان باغیوں جیسے احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار کو 1975 میں فرنٹیئر کور کے آئی جی کی حیثیت سے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حکم پر پیسے اور ہتھیار فراہم کیے تھے۔ بابر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے 1975 میں افغان باغیوں کی حمایت شروع کی کیونکہ سردار داؤد کی قیادت میں افغان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور امریکی طالبان کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ امریکی آئل کمپنی یونوکل (UNOCAL) طالبان کو پائپ لائن پولیس کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
حامد میر کے مطابق 2020 میں ملا برادر کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے والے امریکی عہدیدار زلمے خلیل زاد نے 1997 میں امریکہ میں واقع یونوکل (UNOCAL) کے کمپنی دفاتر میں طالبان رہنماؤں کے دورے کا اہتمام کیا تھا۔ پاکستان میں سابق امریکی سفیر رابرٹ اوکلے اور حامد کرزئی بھی ان دنوں یونوکل (UNOCAL) کے لیے کام کر رہے تھے۔حامد میر بتاتے ہیں کہ نصیر اللہ بابر نے مجھے بتایا کہ یونوکل (UNOCAL) نے 1995 میں طالبان کو قندھار اور کوئٹہ کے درمیان مواصلاتی نظام قائم کرنے کے لیے رقم فراہم کی تھی۔ یونوکل (UNOCAL) چاہتی تھی کہ طالبان ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان جانے والی گیس پائپ لائن کی حفاظت کریں۔
مرحوم ملا عمر سے میری پہلی ملاقات کا اہتمام بھی نصیر اللہ خان بابر نے کیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ملا عمر خطے میں تیل کے لئے جاری کشمکش سے زیادہ آگہی نہیں رکھتے تھے۔ انہیں صرف افغانستان میں شریعت کے نفاذ میں دلچسپی تھی اور وہ کہتے تھے کہ پاکستان کو ہمارے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرنا چاہیے نہ کہ ماتحت کی طرح۔
حامد میر کے مطابق نصیر اللہ بابر نے برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔بابر کابل میں ایک وسیع البنیاد حکومت چاہتا تھا جو تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی کرے۔ بے نظیر بھٹو امریکی دباؤ کے باوجود طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھیں۔ بے نظیر حکومت گیس پائپ لائن منصوبے کا ٹھیکہ ارجنٹائن کی تیل کمپنی بریڈاس (Bridas) کو دینا چاہتی تھی۔ انہوں نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ امریکی حکام نے انہیں یونوکل (UNOCAL) کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ بے نظیر حکومت کابل میں متحدہ قومی حکومت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ مشہور ازبک جنگجو عبدالرشید دوستم بھی طالبان کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکے تھے لیکن نومبر 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت اچانک برطرف کر دی گئی اور پس پردہ افغان امن مذاکرات ختم ہو گئے۔ یوں پائپ لائن منصوبہ بھی یونوکل (UNOCAL) کو مل گیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے چند ماہ کے اندر میں نے جلال آباد کے قریب تورا بورا پہاڑوں میں اسامہ بن لادن کا پہلی بار انٹرویو کیا۔ مولوی یونس خالص نے تورا بورا غاروں میں میرا استقبال کر کے مجھے حیران کر دیا۔ اسامہ بن لادن کے ساتھ ان کا تعلق میرے لیے غیر متوقع تھا کیونکہ انہیں تو صوبہ ننگرہار کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ اب ان کا بیٹا مطیع اللہ یونس طالبان کا سینئر لیڈر ہے۔ میں نے اسامہ بن لادن کا 1998 میں دوبارہ قندھار میں انٹرویو کیا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے طالبان نے قندھار میں اس لیے گرفتار کر لیا تھا کہ میں نے داڑھی نہیں رکھی تھی۔ مجھے القاعدہ کے جنگجوؤں نے طالبان کے چنگل سے چھڑایا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ نائن الیون حملوں کے دو ماہ بعد اسامہ بن لادن نے مجھے کابل میں تیسرا انٹرویو دیا۔ جب میں اس خصوصی انٹرویو کے بعد واپس آ رہا تھا تو ایک طالبان کمانڈر ملا خاکسار نے مجھے کابل کے باہر اقوام متحدہ کے احاطے کے قریب سے گرفتار کر لیا۔ میری گرفتاری کی وجہ میرے پاس ایک کیمرے کی موجودگی تھی۔ ان دنوں افغانستان میں کیمرے پر پابندی عائد تھی۔ میں نے وزیر دفاع ملا عبدالرزاق آخوند سے رابطہ کیا جنہوں نے میری رہائی کا حکم دیا۔ انہوں نے مجھے اپنے دفتر میں ایک کپ چائے کے لیے مدعو کیا اور معذرت کی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے جلد از جلد افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ میں نے ان سے پوچھا کیا آپ لوگ بھاگ رہے ہو؟ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ”یہ کھیل کا حصہ ہے لیکن ہم یقینی طور پر واپس آئیں گے“ ۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ ملا عبدالرزاق آخوند 2010 میں ایک پاکستانی جیل میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی پیش گوئی 20 سال بعد 15 اگست 2021 کو تب سچ ثابت ہوئی جب طالبان ہموی گاڑیوں اور ٹینکوں پر سوار اپنا سفید جھنڈا لہراتے ہوئے دوبارہ کابل میں داخل ہوئے۔
وہ کہتے ہیں کہ بیس سال پہلے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے ’صلیبی جنگ‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ یہ اصطلاح بین المذاہب جنگوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کل امریکہ میں صلیبی جنگ کا لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا کچھ خاص مذہبی تناظر نہیں ہے۔ تاہم امریکی صدر کی طرف سے اس لفظ کے استعمال نے یقینی طور پر طالبان کی مدد کی۔ انہوں نے اپنی مزاحمت کو مذہبی رنگ دے دیا۔ حامد میر کے مطابق جب بش نے بیس سال پہلے اپنی صلیبی جنگ شروع کی تھی تو طالبان کابل سے بھاگ رہے تھے۔ اب طالبان صدارتی محل میں بیٹھے ہیں اور امریکہ کابل سے بھاگ رہا ہے۔ اس صلیبی جنگ میں ہارنے والا کون ہے اور فاتح کون؟ ہمیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ میری نظر میں طالبان کا اصل امتحان 15 اگست کے بعد شروع ہوا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ آج کے طالبان 2001 کے طالبان سے مختلف ہیں۔ میرے خیال میں وہ اب بھی اپنے پرانے نظریات پر قائم ہیں لیکن انہوں نے پچھلی دو دہائیوں میں کچھ نئے ہتھکنڈے سیکھ لیے ہیں۔ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دراصل ان کے نظریے کے گرد گھومتا ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کئی برس سے قطر میں کام کرنے والے طالبان کے سیاسی دفتر کو آزادانہ فیصلہ سازی کا اختیار نہیں تھا۔ فیصلہ سازی کے اختیارات ”رہبری شوری“ یا بالائی مشاورتی کونسل تک محدود ہیں اور اس کے بیشتر ارکان افغانستان کے اندر مزاحمت کا حصہ تھے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ مذہبی، سیاسی اور عسکری امور پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ وہ اپنے تین نائبین کی مشاورت سے فیصلے کرتا ہے۔
طالبان کے بانی رکن ملا عبدالغنی برادر سیاسی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب فوجی امور کے سربراہ ہیں اور افغانستان کے جنوبی علاقوں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ مشہور افغان گوریلا کمانڈر مولوی جلال الدین حقانی کے بڑے بیٹے سراج الدین حقانی افغانستان کے مشرقی علاقوں کے نگران ہیں۔ یعقوب اور سراج الدین کو صوبائی اور ضلعی گورنر مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں بھی غیر پشتون افغان طالبان کا حصہ تھے لیکن اب انہیں طالبان کی صفوں میں زیادہ عزت و احترام مل رہا ہے۔طالبان کے درجہ بندی میں ملا عبدالحکیم بھی بہت اہم شخص ہیں۔ وہ طالبان کے سابق چیف جسٹس ہیں اور ملا ہیبت اللہ کو سیاسی اور مذہبی امور پر مشورہ دیتے ہیں۔ طالبان کے کئی ترجمان ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد 2007 سے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ 14 سال تک افغان اور امریکی انٹیلی جنس کے لیے ایک معمہ بنے رہے جو ذبیح اللہ مجاہد کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔
حامد میر کے مطابق اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ملا ہیبت اللہ افغانستان میں جمہوری نظام کی اجازت دیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کابل میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا کیا استعمال ہو گا جو بھارتی حکومت نے افغان حکومت کو تحفے میں دی تھی؟ حامد میر کہتے ہیں کہ میری معلومات کے مطابق، طالبان تمام نسلی اقلیتوں، خواتین اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی نئی حکومت میں شامل کرنے کافی لچکدار رویہ رکھتے ہیں لیکن انہیں ”مغربی جمہوریت“ پر سخت تحفظات ہیں۔ ایک طالبان رہنما نے مجھ سے آف دی ریکارڈ پوچھا کہ اگر امریکہ، برطانیہ، بھارت اور پاکستان سعودی عرب جیسی غیر جمہوری ریاست سے دوستی کر سکتے ہیں تو وہ مغربی جمہوریت کو افغانستان پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے ملا عمر، جلال الدین حقانی اور مولوی یونس خالص کی نسل کو دیکھ رکھا ہے۔ ان کے ساتھ شائستگی سے معاملات ہو سکتے تھگے لیکن وہ سب لوگ کسی کی حاکمیت یا ڈکٹیشن قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے ملا یعقوب، سراج حقانی اور مطیع اللہ یونس صرف حربوں میں اپنے بزرگوں سے مختلف ہیں تاہم ان کے تصورات عین میں وہی ہیں۔ اگر ان سے شائستگی سے پیش آیا جائے تو وہ بین الاقوامی برادری کی بات سن سکتے ہیں ورنہ اپنے باپ دادا کی طرح وہ ہمیشہ نئی جنگیں شروع کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

Back to top button