گریٹر اقبال پارک واقعہ پر سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل کا نوٹس

گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کے حوالے سے سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل نے نوٹس لے لیا ،مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر کے ساتھ دست درازی پر سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل کی طرف سے نوٹس لیے جانے کے بعد آئی جی پنجاب نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں رپورٹ جمع کروادی ، جس کے متن میں بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے جیو فینسنگ ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔
واقعے کی جامع تحقیقات کیلئے4خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ، جس کے بعد تفتیشی ٹیم نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور متاثرہ خاتون کا میڈیکل بھی کرایا گیا جب کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کےلیے 30 ویڈیوز اور 60 تصاویر شناخت کے لیے نادرا کو بھجوائی گئیں جس کے ذریعے نادرا نے 9 افراد کی شناخت کی ، نادرا کی شناخت پر 9 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن کی نشاندہی پر مزید افراد کو پکڑا گیا ، اب تک 92 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
آئی جی پنجاب نے انسانی حقوق سیل میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا کہ شام ساڑھے 6 سے 7 چالیس تک 28 ہزار سے زائد افراد کا کال ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور 700 سے زائد افراد کو مشکوک قرار دیا گیا ، واقعے مین ملوث ملزمان کے خلاف بلاتفریق کارروائی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور واقعے کی پر پہلو سے مکمل تحقیقات کریں گے ، جس کے بعد ملوث ملزمان کو سامنے لاکر مثالی سزائیں دلوائی جائیں گی۔
دوسری جانب گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے بدسلوکی کے کیس سے متعلق اہم پیش رفت ہوگئی ، متاثرہ لڑکی نے شناخت پریڈ کے دوران3 ملزمان کو پہچان لیا ، گریٹر اقبال پارک واقعے کے ملزمان کی شناخت پریڈروزانہ کی بنیاد پر جاری ہے ، اب تک 40 گرفتار افراد کی شناخت پریڈ کی جاچکی ہے ، دوران شناخت پریڈ عائشہ اکرم نے 3 ملزمان کو کنفرم اور 2 کو مشکوک قرار دیا ، مزید 30 افراد کی شناخت پریڈ بھی جلد کی جائے گی۔
ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے دست درازی اور اسے بے لباس کرنے کے کیس میں گرفتار ملزمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ کو بھی گرفتار کیا جائے ، ہمیں انصاف چاہئیے،ہم نے کچھ نہیں کیا،پولیس نے ہمیں بلا جواز گرفتار کیا ہے ، ملزمان کے اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے بے گناہ ہیں ، انہیں بلا جواز گرفتار کیا گیا ہے ، ایک ملزم کی فیملی نے کہا کہ 14 اگست کو ہمارا بچہ گھر میں تھا،ایک اور گرفتار ملزم نے کہا کہ ہمارا بچہ بھی ان کے ساتھ تھا جس پر اسے گرفتار کر لیا ، ایک اور فیملی نے بھی حکام سے مطالبہ کیا کہ عائشہ اکرم کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ، 12 اگست کو عائشہ اکرم نے مسیج کرکے لڑکوں کو وہاں بلایا تھا۔
