سپریم کورٹ چیف جسٹس بندیال کے ہاتھوں یرغمالی کیسے بنی؟


عمرانڈو قرار پانے والے چیف جسٹس عمرعطا بندیال پر سپریم کورٹ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ پانچ خالی آسامیوں پر سپریم کورٹ کے ججز تعینات کرنے میں تاخیر پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے دو اور سینیئر ججوں نے بھی چیف جسٹس کے نام خط لکھ جلد از جلد جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں لکھا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ 9 ماہ سے ججز کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ الجہاد کیس کے مطابق سپریم کورٹ کی خالی آسامی پر فوری تعیناتی ضروری ہے کیونکہ 50 ہزار سےزائد کیسز زیر التوا پڑے ہوئے ہیں۔ خط کے متن کے مطابق ججوں کے 5 آئینی عہدوں کو زیادہ عرصہ تک خالی نہیں رکھا جا سکتا لہٰذا جلد از جلد جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر ججز کی تعیناتی کی جائے۔ ججز نے خط میں کہا ہے کہ پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی سپریم کورٹ میں تقرری پر غور کیا جائے یا پھر ہر ہائیکورٹ کے پہلے دو سینیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کے لیے غور کیا جائے۔

خط کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقاتوں میں کئی بار جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن کچھ نہیں ہوا اور دوسری جانب سے مسلسل خاموشی ہے، اس سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس بلانے کے لیے 28 ستمبر کو چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس کا کوئی جواب نہیں آیا، لیکن اس دوران جسٹس بندیال نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یے یہ گلہ کیا تھا کہ چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے کے عدالتی فیصلے پر حکومتی رد عمل یہ آیا کہ ان کے تجویز کردہ پانچوں ججز کے ناموں کو مسترد کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے پچھلے اجلاس میں جسٹس بندیال نے جو نام تجویز کیے تھے وہ تمام ججز جونیئر تھے اور سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے لہٰذا کمیشن کے اکثریتی اراکین نے انہیں رد کر دیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن کے اکثریتی اراکین کا یہ موقف ہے کہ ججز کی تعیناتی میں بلا وجہ کی تاخیر سے عدلیہ کو سیاسی بنانے اور من پسند تقرریوں کروانے کی کوشش کا تاثر پھیل رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ججز کی تقرریوں میں تاخیر سے شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں، ججوں کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں پر پر تعیناتی جوڈیشل کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن چیف جسٹس نے ادارے کو یرغمال بنا لیا ہے اور اس کا اجلاس ہی نہیں بلا رہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آئینی ادارہ ہے جس کا سیکرٹری کسی پروفیشنل کو ہونا چاہیے۔ ملاقاتوں میں ججز تعیناتی کے حوالے سے متعدد تجاویز بھی پیش کی تھیں لہٰذا توقع ہے چیف جسٹس جلد جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلائیں گے۔ یاد رہے اس سے قبل 28 ستمبر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی چیف جسٹس کے نام خط لکھ کر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

خط کے متن میں قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد کیسز زیر التوا ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت صرف 16 ججز ان مقدمات کی سماعت کے لئے موجود ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بوجھ میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سال رواں میں پانچ جج سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور ابھی تک ان پانچوں کی جگہ نئی تعیناتیاں عمل میں نہیں لائی گئیں۔ انہوں نے لکھا کہ ان ججوں کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ کے اب تک 726 قیمتی دن ضائع ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب چیف جسٹس بندیال کو یہ خدشہ ہے کہ اگر کمیشن کا اجلاس بلایا جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی کے جج لگانے میں کامیاب نہیں ہونگے اور اکثریتی کمیشن اراکین اپنی مرضی کہ جج لگوا لیں گے۔ لہذا انہیں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کی کوئی جلدی نہیں۔

Back to top button