سپریم کورٹ کا ائیرپورٹ کے اطراف شادی ہالز پراظہار برہمی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ائیرپورٹ کے اطراف میں شادی ہالز چلانے پرڈی جی سول ایوی ایشن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ڈی جی سول ایوی ایشن سول ایوی ایشن کو الاٹ زمین کسی اور کو الاٹ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے ڈی جی سے استفسار کیا کہ پہلے والی زمین کا کیا کیا؟ جو اب پھر زمین لینا چاہتے ہیں، پہلے والی زمین پر شادی ہال چل رہے ہیں کیا آپ کا کام شادی ہالز چلانا ہے؟ پھر آپ ائیرپورٹ پر بھی شادی ہال بنالیں، پورے کراچی ائیر پورٹ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے مکالمہ کیا کہ واحد آپ ہیں جو رات کو جہاز اڑاتے ہیں، کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ رات کو جہاز اُڑایا جائے ۔

چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے استفسار کیا کہ کوئی نیا ائیر پورٹ بن رہا ہے؟ اس پر ڈی جی نے بتایا کہ نہیں، کارگو کے لیے نیا ٹرمینل بن رہا ہے ، جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ کے پاس تو رن وے نہیں ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کہا کہ شادی ہال چلا رہے ہیں ، کل کو کسینو اور نائٹ کلب بھی کھول لیں، دنیا کے کسی ائیرپورٹ جائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ زمین آپ کو شادی ہال چلانے کے لیے نہیں ائیر پورٹ چلانے کیلئے دی گئی ، ایوی ایشن کے پاس ملک بھر میں جتنی زمین ہے وہ ائیرپورٹ کیلئے ہی استعمال کی جائے ، سول ایوی ایشن کو الاٹ زمین پر شادی ہال یاکسی اور سرگرمی کی اجازت نہیں ، عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی جی سول ایوی ایشن کو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈی جی ایف آئی کے ساتھ طلب کرلیا۔

Back to top button