سپریم کورٹ: ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ہفتے اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا۔
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی۔سپریم کورٹ نے کرونا وائرس از خود نوٹس کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہوگا بلکہ عوام کا تحفظ قانون کے بننے اور اس پرعمل درآمد سے ہوگا۔ساتھ ہی عدالت نے ہدایت کی ہے کہ حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے اور حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کو یقینی بنائے، مزید یہ کہ عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹس کھولنے کا حکم واپس لے لیا۔
خیال رہے کہ عید سے قبل 18 مئی کو ہونے والی ایک سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کے روز مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، تاہم جسٹس مظہر عالم میاں خیل عدالت میں نہیں آئے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل برائے پاکستان عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ وفاقی حکومت کورونا تحفظ کے اقدامات کر رہی ہے اور اب حکومت اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پرعمل درآمد یقینی بنائے گی۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے تاحال کورونا سے تحفظ کی قانون سازی نہیں کی، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ قومی سطح پر کوئی قانون سازی کرنا کورونا سے تحفظ کے لیے ہونی چاہیے، قومی سطح پر قانون سازی کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔چیف جسٹس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے یہ ریمارکس دیے کہ ملک کے تمام ادارے کام کرسکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں، ملک میں قانون کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں ہوا جبکہ چین میں وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے گئے۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نہیں معلوم کورونا کے مریضوں کی تعداد کہاں جاکر رکے گی، کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت لوگوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے، لوگوں کی زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے، موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہوگا، عوام کا تحفظ قانون کے بننے اور اس پرعمل درآمد سے ہوگا۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کورونا مثبت کیس آگئے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کی تجویز دوں گا۔اس پر کورونا وائرس کے باعث لگنے والی پابندیوں کے معاملے پر چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے ہم تو پہلے دن سے فنکشنل ہیں، عدالتیں بند نہیں کرسکتے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی کورونا وائرس کی حدت کو محسوس کر رہے ہیں، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز کے لیے حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہوا تو تلافی نہیں ہوگی، ورکرز کی اموات پر وزیراعلیٰ جا کر معاوضے کا اعلان کر دیتے ہیں جبکہ عدالت ایسی چیزوں کی صرف نشاہدہی کر سکتی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے عملی اقدامات ہر حال میں حکومت نے کرنے ہیں۔عدالت میں ہونے والی طویل سماعت میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے، کورونا سے تحفظ کا حل قانون سازی ہے، قانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہے۔
اس موقع پر عدالت میں موجود نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے قانونی رکن نے بتایا کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو 30 ہزار سے بڑھا دیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 30 ہزار ٹیسٹ تو نہ ہونے کے برابر ہیں، پاکستان کی آبادی تو 22 کروڑ ہے۔اس پر این ڈی ایم اے کے رکن نے کہا کہ ٹیسٹ کی صلاحیت کو ساتھ ساتھ بڑھایا جائے گا، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ این ڈی ایم اے صوبوں کو ٹیسٹنگ صلاحیت بڑھانے کا کہے۔این ڈی ایم اے کے رکن قانون نے کہا کہ کورونا کے مریض ایک لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں، کورنا ٹیسٹنگ کی 100 لیب قائم کی جا چکی ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 22 کروڑ لوگوں کے لیے صرف 100 لیب کیسے؟ کیا باتیں کر رہے ہیں 100 لیب سے کیا ہوگا، سو لیب تو صرف کراچی میں ہونی چاہئیں۔ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ اب تک کتنے کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ مکمل کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کے حوالے سے کہا کہ مرضی سے نہیں قانون سے کام ہوگا، این ڈی ایم اے کو مرضی سے کام کرنے کا لائسنس نہیں ملا ہوا، این ڈی ایم اے کی ایک ایک چیز کا آڈٹ کروالیں گے، دیکھیں گے کس نے کورونا وائرس میں کیا کیا۔سماعت کے دوران عید کے موقع پر ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹس کھولنے کا معاملہ بھی آیا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عید کے موقع کے لیے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹس کھولی گئی تھیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لوگوں میں تاحال آگہی نہیں آئی، عید پر لوگوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ویکسین کی دریافت سے قبل کا راستہ احتیاطی تدابیر ہیں، کورونا کا وائرس بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے، شہریوں کو بھی ذمہ داری دکھانا ہوگی۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس والوں کو دکانداروں اور خریداروں سے پیسے لینے کی اجازت دے دی گئی ہے، کس طرح سے ایس او پیز پر عمل ہوگا۔
عدالت میں دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ کورونا کے کتنے ٹیسٹ سرکاری اور کتنے نجی لیب نے کیے، جس پر این ڈی ایم اے کے رکن نے بتایا کہ یہ تمام تفصیلات صرف وزارت صحت دے سکتی ہے، ہمارا کام لیب کو طبی سامان فراہم کرنا ہے۔اسی پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اب تک کورونا کے کتنے ٹیسٹ مفت کیے گئے ہیں، جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ حکومت کورونا کے ٹیسٹ مفت کر رہی ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بیرون ممالک میں تو اب ہر شہری کا ٹیسٹ ہورہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ چین نے پاکستان کو کتنے وینٹی لیٹرز عطیہ کیے ہیں، جس پر این ڈی ایم اے کے رکن نے بتایا کہ چین نے پاکستان کو 100 وینٹی لیٹرز عطیہ کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے 1400 وینٹی لیٹر بیرون ممالک سے خریدے ہیں، تین سو وینٹی لیٹرز باہر سے آچکے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز کون مینوفیکچرز کر رہا ہے، اس پر این ڈی ایم کے کے رکن نے بتایا کہ پی او ایف واہ، ڈسکو اور نجی صنعت وینٹی لیٹر بنا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران ملک میں ٹڈی دل کے حملوں کا معاملہ بھی آیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ماہ سے ٹڈی دل موجود ہے اور دو مرتبہ افزائش کر چکی ہے لیکن ٹڈی دل پر اسپرے کیلئے 4 جہاز فعال نہیں ہیں، جہاز کے پائلٹ نہیں تھے تو یہ چار جہاز کہاں سے آگئے، ہمارے اپنے جہاز نہیں چل رہے تو باہر سے لا کر اسپرے کیا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سکھر میں ایک جہاز کھڑا ہے، تیز ہوا چلی تو وہ اڑ جائے گا، کسی نے اس جہاز کو باند کر بھی نہیں رکھا۔اسی دوران انہوں نے یہ پوچھا کہ ٹڈی دل کے معاملے پر این ڈی ایم اے نے اب تک کیا کیا ہےَ، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹڈی دل کے حملے فوڈ سکیورٹی کو بھی متاثر کریں گے۔جس پر این ڈی ایم اے کے رکن نے بتایا کہ ٹڈی دل کے اسپرے کے لیے ترکی سے جہاز لیز پر لیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسپرے کے لیے جہاز لیز کیوں لیا گیا، کیا پاکستان میں اسپرے کے لیے جہاز لیز پر نہیں مل سکتا، ترکی سے جہاز لیز پر لیتے ہوئے قوائد کی پیروی ہوتی ہے، کیا جہاز لیز پر لینے کے لیے ٹینڈر دیا گیا۔عدالتی استفسار پر این ڈی ایم اے کے رکن نے جواب دیا کہ ترکی سے جہاز ایمرجنسی بنیادوں پر لیا گیا ہے۔
اسی دوران جسٹس مظاہر علی نقوی نے پوچھا کہ کیا حکومت ٹڈی دل سے لڑنے میں سنجیدہ ہے، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں پائلٹ کی کمی ہے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں ٹڈی دل نہیں ہے، جس پر این ڈی ایم اے کے رکن نے جواب دیا کہ ٹڈی دل کا مسئلہ موجود ہے، اس پر پھر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا این ڈی ایم اے ٹڈی دل کے پیچھے بھاگ رہا ہے، این ڈی ایم اے کو ٹڈی دل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، ہم نے ٹڈی دل کو بچپن میں دیکھا تھا یا اب دیکھ رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے حکومت سے ٹڈی دل حملوں سے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹڈی دل کے حملوں سے فوڈ سیکیورٹی کو کتنا نقصان ہوا، نقصان کے نتیجے میں باہر سے خوراک منگوانے پر کتنے اخراجات آسکیں گے۔ساتھ ہی عدالت نے ترکی سے ٹڈی دل اسپرے کے لیے جہاز لیز پر لینے کا ریکارڈ طلب کرلیں۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے اور حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کو یقینی بنائے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام حکومتیں سینیٹری ورکرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائیں، سینیٹری ورکرز کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے۔
مزید برآں عدالت نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان کی تیاری کے لیے مشینری درآمد کرنے کا ریکارڈ اور تفصیلات بھی طلب کرلیں، اس کے علاوہ عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا۔بعد ازاں کیس کی سماعت کو 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button