سپیکر قومی اسمبلی کا PTI کے استعفوں پر کارروائی سے انکار

سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد 11 اپریل کو جمع کرائے گئے پی ٹی آئی کے 123 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے ملتوی کر دئیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ ان پر تب تک غور نہیں کیا جائے گا جب تک یہ اراکین اسمبلی فرداً فردا ًسپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفوں کی تصدیق نہیں کر دیتے۔ عمران خان کی جانب سے جمعرات کو سپیکر کے سامنے اجتماعی طور پر پیش ہو کر دوبارہ استعفے دینے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے سپیکر نے واضح کیا کہ کوئی بھی رکن جو ایوان سے سبکدوش ہونا چاہتا ہے، اسے ذاتی طور پر ان کے پاس آنا ہو گا اور اپنا استعفیٰ اپنی ہینڈ رائٹنگ میں قلمبند کرنا ہو گا۔ اسکے علاوہ استعفے دینے والے کو اپنے استعفے کی وجہ بھی بیان کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا یہ پہلا معاملہ نہیں۔ اس سے پہلے 2014 میں بھی پی ٹی آئی کے اراکین نے قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے۔ تب کے سپیکر ایاز صادق نے انہیں منظور نہیں کیا تھا اور مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی کو تاکید کی تھی کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنے اپنے استعفے کی تصدیق کریں۔ لیکن پی ٹی آئی نے سپیکر کی جانب سے بتائے گئے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ یوں مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف پارلیمان کا حصہ رہی اور 2018 کے عام انتخابات تک اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں منتخب اراکین کی کُل تعداد 155 تھی، جن میں سے 122 ارکان براہ راست منتخب ہوئے تھے جبکہ 28 مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنے تھے جبکہ 5 نشستیں اقلیتی نمائندوں کی تھیں۔ عمران خان دور کے آئین شکن ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے تحریک انصاف کے کُل 123 اراکین کے استعفے منظور کیے ہیں جو کہ اراکین نے اپنی ‘رضامندی‘ سے دیے تھے۔ وہ اراکین جن کے استعفے منظور ہوئے ہیں ان میں 94 منتخب نمائندے تھے، 25 مخصوص نشستوں پر جبکہ 4 اقلیتی سیٹوں پر تھے۔ تحریک انصاف کے جن 32 اراکین نے استعفے نہیں دیے اُن میں منتخب اراکین کی تعداد 28 ہے جبکہ تین ریزرو سیٹوں پر آئے ہیں اور ایک اقلیتی نمائندہ ہیں۔
سابق سپیکر اور مسلم لیگ ن کے رہنما سردار ایاز صادق کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے متعدد اراکین نے انھیں بتایا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونا چاہتے تھے مگر زبردستی ان سے دستخط کروا لیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی کی مرضی کے اس سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔ سردار ایاز صادق اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ استعفے اجتماعی طور پر سپیکر کے سامنے پیش ہونے کے نتیجے میں منظور ہو جاتے ہیں۔ انکے مطابق سپیکر پر لازم ہے کہ وہ ان استعفوں کی فرداً فرداً تصدیق کے بعد انھیں منظور یا رد کرے۔ ان کے مطابق جب تک کوئی رکن اسمبلی سپیکر کے پاس آ کر کسی سیکریٹری یا ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں گواہی نہ دے کہ اس نے اپنے مرضی سے استعفیٰ دیا ہے تب تک استعفیٰ منظور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایاز صادق نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زبردستی استعفے لے کر قاسم سوری کے پاس جمع کرائے تھے، اور اسی لیے عمران اپنے اراکین کو اجتماعی طور پر سپیکر کے سامنے بھیجنے پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ فردا ًفردا ًیہ کام ہو تو بہت سارے ممبران اسمبلی مستعفی ہونے سے انکاری ہو جائیں گے۔
دوسری جانب راجہ پرویز اشرف نے بھی کہا ہے کہ وہ اجتماعی استعفے قبول نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی ہو گی۔ سپیکر نے جون میں پی ٹی ارکان اسمبلی کو لکھا تھا کہ وہ استعفوں کی تصدیق کے لیے انکے سامنے پیش ہوں۔ انہوں نے اس پیشی کے لیے جون کے پانچ دن وقف کیے تھے لیکن کوئی بھی رکن پیش نہ ہوا۔ چنانچہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر اپنے استعفوں کا اعلان کرنے والے 11 اراکین کے استعفے منظور کرنے کے بعد سپیکر نے دیگر اراکین سے رابطہ بند کر دیا۔
دوسری جانب راجہ ریاض ان ہی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی کی قیادت کر رہے ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی سے استعفے نہیں دیے۔ مستعفی نہ ہونے والے پی ٹی اراکین میں چوہدری فرخ الطاف، عامر سلطان چیمہ، افضل ڈھانڈلہ، غلام محمد لالی، عاصم نذیر، نواب شیر وسیر، راجہ ریاض، ریاض فتیانہ، غلام بی بی بھروانہ، رائے مرتضیٰ اقبال، احمد حسن ڈیہڑ، قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مخدوم مبین، باسط سلطان بخاری، عامر طلال گوپانگ، امجد فاروق کھوسہ، سردار جعفر لغاری، سردار ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر اور وجیہہ اکرم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پرنس نواز خان الائی، صالح محمد، نور عالم خان، جواد حسین، محمد میاں سومرو، نزہت پٹھان، رمیش کمار وانکوانی، قاسم سوری اور محمد خان جمالی نے بھی استعفے نہیں دیے۔
