سکروٹنی کمیٹی نے فارن فنڈنگ کیس میں پھر پھڈا ڈال دیا

تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور شواہد کی جانچ پڑتال کرنے والی سکروٹنی کمیٹی کی جانبداری ایک بار پھر تب کھل کر سامنے گئی جب درخواست گزار اکبر ایس بابر کے نامزد کردہ آڈٹ ماہرین کی جانب سے پی ٹی آئی کے اکاونٹس کے جائزے کے دوران انہیں لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا واضح مقصد تحریک انصاف کی بینک دستاویزات کی شفاف جانچ پڑتال سے روکنا اور اس کام میں رکاوٹ ڈالنا ہے تاکہ 31 مئی 2021 تک کی ڈیڈ لائن کے مطابق۔کیس کی تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کے نامزد کردہ دو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اسکروٹنی کے لیے لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے روک کر نہ صرف یہ ثابت کیا ہے کہ وہ حکومت کے سستھ کھڑی ہے بلکہ یہ تاثر بھی مزید پختہ ہوگیا ہے کہ واقعی کپتان کی جماعت کے کھاتوں میں کوئی بڑی گڑ بڑ ہے جسے چھپانے کے لئے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو شفافیت کے قانونی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق حکومت کی بی ٹیم کا کردرا نبھانے والی سکروٹنی کمیٹی کے اس متنازع فیصلے کے باعث جہاں تحقیقات تاخیر کا شکار ہوں گی وہیں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ بلا امتیاز اور یکساں احتساب کے دعوے کرنے والی تحریک انصاف حکومت ہرگز نہیں چاہتی کہ فارن فنڈنگ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد حکمران جماعت تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے پہلے ہی روز سامنے آئے تھی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس۔کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کے نامزد کردہ دو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن ذرائع کے مطابق جس وقت دستاویزات کی جانچ پڑتال کا کام شروع ہوا تو پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست گزار کے نامزد کردہ تجزیہ کاروں کے لیپ ٹاپ استعمال کرنے پر اعتراض اٹھا دیا گیا۔ ڈپٹی سکروٹنی کمیٹی کی رکن اور الیکشن کمیشن کی ڈائریکٹر لاء صائمہ طارق، جو اس معاملے کی نگرانی کررہی ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کیلئے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت دی تھی تاہم پی ٹی آئی کے اعتراض کے بعد درخواست گزار کو کہا گیا کہ وہ ڈیٹا ریکارڈ کی جانچ کیلئے لیپ ٹاپ کا استعمال نہ کریں۔تاہم درخواست گزار کو ای سی پی کے کمپیوٹرز استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی اور انہیں کہا گیا کہ وہ رسمی طور پر لیپ ٹاپ کے استعمال کے لیے ایک درخواست جمع کروا دیں لیکن درخواست جمع کروائے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اسے مسترد کردیا گیا۔ بعد ازاں اسکروٹنی کے لیے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت نہ ملنے پر اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کو ایک درخواست دی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کمیٹی کو ہدایت کی جائے کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کے عمل میں لیپ ٹاپ استعمال کرنے کی اجازت دے۔
درخواست میں اکبر ایس بابر نے مؤقف اپنایا ہے کہ مذکورہ معاملے میں 8 روز کے محدود عرصے میں لیپ ٹاپ کے بغیر فنانس کی دستاویزات کی جانچ پڑتال، ان کی ترتیب اور موازنہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا واضح مقصد تحریک انصاف کی جانب سے دستاویزات کی شفاف جانچ پڑتال سے روکنا اور اس عمل میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button