سیاسی لبادہ اوڑھے حملہ آوروں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے

9 مئی کے حملہ آوروں سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لبادہ اوڑھے حملہ آوروں سے بات چیت نہیں ہو سکتی ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات سیاسی عمل میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو جمہوریت کی ترقی اور پختگی میں مدد دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب سیاسی رہنما کسی معاملے پر اکھٹے بیٹھے اور اتفاق کیا تو بہت سی سیاسی اور آئینی پیش رفتیں سامنے آئیں۔
’تاہم، یہاں ایک بڑا فرق ہے، انتشار پسند اور آتش زدگی کرنے والے جو سیاست دانوں کا لباس پہنتے ہیں اور ریاست کی علامتوں پر حملہ کرتے ہیں وہ ڈائیلاگ کے اہل نہیں ہیں۔ ان سے ڈائیلاگ کرنے کے بجائے ان کا اُن کی عسکری کارروائیوں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔ ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی یہی رواج ہے۔‘
یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف ماضی قریب میں مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور ان کی جانب سے اس ضمن میں ایک سات رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ڈائیلاگ کے بدلے ان کے پاس آفر کرنے کے لیے کیا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننے کے لیے متجسس ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہمیں دوڑ سے باہر رکھنا ملک کے لیے کیسے فائدہ مند ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں بات چیت اس لیے کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ سوچ کیا رہے ہیں۔ میں نے انھیں کہا ہے کہ آپ مجھے اس بات پر متفق کر لیں کہ یہ سب پاکستان کے لیے درست ہے تو میں متفق ہو جاؤں گا۔
