ملک ریاض کا عمران حکومت سے کیا گیا معاہدہ غائب ہو گیا

نیب نے جہاں ایک طرف القادر ٹرسٹ کیس میں اربوں روپے کی مالی بددیانتی کے بدلے ملک ریاض سے فوائد لینے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے وہیں دوسری طرٖف سینئر صحافی عمر چیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی این سی اے اور ملک ریاض کی فیملی کے درمیان ۱140؍ ملین پاؤنڈز کے عدالت سے باہر ہونے والے تصفیے سے متعلق دستخط شدہ اہم دستاویز تاحال غائب ہے۔
عمر چیمہ کے مطابق نیب نے این سی اے سے یہ دستاویز حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ اس سے قبل حکومت بھی ایسی ہی ایک کوشش کر چکی ہے جس میں اسے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ این سی اے نے ابتدائی طور پر یہ دستاویز نیب کو غیر رسمی طور پر فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی کیونکہ دونوں ملکوں کے انسداد کرپشن کے اداروں کے مابین معلومات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ معاملہ غیر معمولی ہے۔
نیب کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ این سی اے کی دلیل ہے کہ عدالت سے باہر تصفیہ انتہائی حد تک خفیہ ہے اور خلاف ورزی کے قانونی مضمرات ہوں گے۔ جس عہدیدار نے یہ دستاویز دیکھی ہے اس کا کہنا ہے اس دستاویز کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرقیادت کابینہ نے خفیہ یعنی کلاسیفائیڈ قرار دیدیا تھا، اس میں این سی اے اور بزنس مین کی فیملی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خفیہ دستاویز صرف این سی اے اور ملک ریاض کی فیملی کے درمیان تصفیہ کیلئے تھی۔ عمران خان حکومت میں احتساب کیلئے مقرر کردہ ٹاپ عہدیدار بیرسٹر شہزاد اکبر، اور ان کے نائب بیرسٹر ضیا نسیم نے اس دستاویز پر حکومت پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے دستخط کیے تھے۔ واضح رہے کہ ضیا نسیم اثاثہ ریکوری یونٹ میں شہزاد اکبر کے ماتحت کام کرتے تھے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس بھی انہوں نے ہی بنایا تھا۔
موجودہ حکومت کی جانب سے دستاویز کی جانچ کیلئے بنائی گئی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ضیا نسیم کو سوالات پوچھنے کیلئے طلب کرکے این سی اے کے ساتھ دستخط شدہ تصفیہ کی تفصیلات بتانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا لیکن ضیا نسیم نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس دستاویز کے بارے میں جانتے ہیں جسے کابینہ نے کلاسیفائیڈ قرار دیا تھا، جس پر انہوں نے بطور گواہ دستخط کیے تھے۔اس صورتحال سے غیر مطمئن کابینہ کمیٹی نے ضیا نسیم کو خبردار کیا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا جائے گا لیکن جب تک ایسا ہو، تب تک ضیا نسیم اسی شام پاکستان سے بھاگ گئے۔ نیب نے جیسے ہی یہ معاملہ اٹھایا، اصل دستاویز کی تلاش شروع ہوگئی۔ وہ افسر جو دسمبر 2019 میں کابینہ سیکریٹری تھا وہ انتقال کر گیا۔ ان کے جانشین سے بھی رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے بھی مطلوبہ دستاویز کی موجودگی سے انکار کردیا۔
اسی ناکامی کے بعد نیب نے برطانوی این سی اے سے رابطہ کیا جس نے ابتدائی طور پر تفصیلات کو غیر رسمی طور پر شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن بعد میں قانونی مضمرات کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ تصفیہ اور معاہدے کی اصل دستاویز فراہم کرنے کی بجائے این سی اے نے نیب کے خط کا جواب دیتے ہوئے کچھ تفصیلات فراہم کیں۔ اس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے ’’ریکوری‘‘ کا ذکر تھا۔ ’’نومبر 2019 میں لندن میں ملک ریاض کی فیملی سے برآمد کی جانے والی رقم تقریباً 150 ملین پاؤنڈ تھی۔ یہ تمام رقم سپریم کورٹ کے زیر انتظام اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ مزید ایک جائیداد، نمبر 1 ہائیڈ پارک پلیس، لندن 40؍ ملین پائونڈز میں فروخت ہونے والا ہے۔ این سی اے کے خط مورخہ 9 نومبر 2021 میں لکھا ہے کہ تمام رقم ملنے کے بعد اس میں سے برطانوی ٹیکس منہا کیا جائے گا اور باقی ماندہ رقم سپریم کورٹ کے اسی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
تاہم بیرسٹر شہزاد اکبر کی جانب سے نیب کو جمع کرایا گیا جواب این سی اے کے موقف کے برعکس ہے۔این سی اے کے خط سے واضح ہوتا ہے کہ رقم ملک ریاض کی فیملی سے ریکور کی گئی لیکن شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ بزنس مین کی فیملی نے رضاکارانہ طور پر رقوم پاکستان کو واپس بھیجیں۔انہوں نے یہ جواب 17؍ مئی کو نیب کے سوالنامے کے جوابات دیتے ہوئے پیش کیا ہے۔ جب یہ سوال کیا گیا کہ نیب این سی اے اور ملک ریاض کی فیملی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی دستاویز کیسے حاصل کرے گا، اس پر نیب عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کیلئے ملک ریاض پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا خاندان اس کیس میں فریق ہے۔ عمران خان سے کئی ماہ قبل، وہ سوالات کے جوابات دینے نیب میں پیش ہوئے تھے۔ تاہم، زیادہ تر مقدمات میں، انہوں نے وقت مانگا اور تحریری سوالات کی درخواست کی، اور کہا کہ ان کا جواب وہ اپنے وکیل سلمان اسلم بٹ کے ذریعے دیں گے، جو موجودہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے قربت رکھتے ہیں۔ اور نواز شریف کے دور میں اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔
