سیالکوٹ میں ’شراب پلا‘ کر ’اجتماعی زیادتی‘ کا واقعہ

پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پولیس کے مطابق ایک خاتون کو پانچ افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد تشدد اور شراب پلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے جس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خاتون کو تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم فرانزک رپورٹ کے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
خاتون کے شوہر محمد زوہیب کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کو ’پانچ افراد نے زبردستی گاڑی میں ڈالا کر ساتھ لے گئی اور زیادتی نشانہ بنانے کے بعد انہیں ایک چوک میں پھینک کر فرار ہوگئے۔‘
سیالکوٹ کے علاقے نواں پنڈ کے رہائشی محمد زوہیب کے مطابق ان کی ایک ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’پیر کی شام آٹھ بجے وہ اپنی بیوی کو لے کر رشتہ داروں کے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہو گیا، تو انہوں نے اپنی بیوی کو روڈ کے ایک کنارے پر کھڑا کیا اور خود پیٹرول ڈلوانے چلے گئے۔‘
’دیکھتے ہی دیکھتے ایک گاڑی میں کچھ لوگ آئے اور ان کی بیوی کو اغوا کر کے لے گئے۔ ‘
محمد زوہیب کہتے ہیں کہ انہیں لگا کہ شاید گاڑی میں ان کی بیوی کے جاننے والے ہیں اور وہ انہیں گھر چھوڑ دیں گے لیکن جب وہ گھر پہنچے تو ان کی بیوی موجود نہیں تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد اطلاع ملی کی ان کی بیوی کو گاڑی سوار قریبی چوک میں پھینک کر فرار ہوگئے ہیں اور لوگوں نے انہیں ہسپتال پہنچا دیا ہے۔
’ہسپتال پہنچا تو بیوی زخمی اور نڈھال پڑی تھی اور انہیں طبی امداد دی جا رہی تھی۔‘
زوہیب کے مطابق ہوش آنے پر ان کی بیوی نے بتایا کہ انہیں اغوا کرنے والے ان کے علاقے کے رہائشی تھے جن میں سے تین کے نام وہ جانتی ہیں جبکہ دو کو نہیں جانتیں۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دیے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ مبینہ اغوا کاروں نے ’انہیں گاڑی میں بیٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں زبردستی شراب پلائی، پھر نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں انہوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘
پولیس کارروائی
تھانہ صدر سیالکوٹ کے تفتیشی افسر یٰسین سرفراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ زیادتی کے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے انکوائری شروع کر دی اور خاتون کے شوہر محمد زوہیب کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بشکریہ: انڈیپینڈنٹ اردو
