افغانستان پر پاکستانی حملوں میں مارک 82 بموں کا استعمال

 

 

 

پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں حالیہ حملوں نے ایک ایسے ہتھیار کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جو تقریباً چھ دہائیوں سے فضائی جنگوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق حال ہی میں افغانستان میں تحریک طالبان کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ مارک 82 بم استعمال کیے گئے جو کہ 500 پاؤنڈ وزنی تھے، بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان مارک 82 بموں کی باقیات پر موجود نشانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی فضائیہ نے ان بموں کو گرانے کے لیے ایف 16 جنگی جہاز استعمال کیے۔

 

مارک 82 کی تاریخ ویتنام جنگ سے لے کر عراق اور خلیج کی جنگ تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کی افادیت آج بھی برقرار ہے۔ اسی وسیع اور طویل استعمال کی وجہ سے اسے فضائی بموں کی دنیا کے ’’اے کے 47‘‘ سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے حملوں، بالخصوص خودکش حملوں میں اضافے کے بعد پاکستانی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

 

21 ستمبر کو پاکستان نے اعلان کیا کہ مستند خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغان سرحد کے ساتھ موجود تین اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا، جن میں خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا، جبکہ پاکستان کے مطابق کارروائی میں 28 شدت پسند اور متعدد خودکش بمبار ہلاک ہوئے۔ تاہم پاکستانی اعلامیے میں حملوں کے مخصوص مقامات نہیں بتائے گئے تھے۔ بعد ازاں افغان طالبان حکومت نے دعویٰ کیا کہ حملے کنڑ، پکتیکا، خوست اور قندھار سمیت مختلف افغان علاقوں تک پھیلے اور ان میں عام شہری بھی مارے گئے۔

 

حالیہ کارروائیوں کی ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی کارروائیوں کا جغرافیائی دائرہ ماضی کے مقابلے میں وسیع دکھائی دیا اور افغان دعووں کے مطابق قندھار کا نام بھی سامنے آیا، جو طالبان قیادت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے پہلی مرتبہ قندھار میں واقعہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے ہیڈ آفس کو بھی نشانہ بنایا جس سے سرائے ملا عمر کہا جاتا ہے۔ ہم ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان حملوں میں ملا عمر کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

 

افغان میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز پاکستانی فضائی حملوں کے بعد افغانستان میں تباہ شدہ عمارتوں، ملبے اور بموں کے ٹکڑوں کو دکھایا گیا۔ انہی باقیات پر موجود نشانات کے جائزے کے بعد بعض ماہرین نے ان بموں کو مارک 82 کی ایک امریکی کھیپ سے منسلک کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ مارک 82 بذاتِ خود صرف ایک بم کا بنیادی ڈیزائن ہے، جبکہ اس کی مختلف کھیپیں اور اجزا مختلف امریکی دفاعی اداروں اور کنٹریکٹرز سے وابستہ رہے ہیں۔ اس لیے کسی ایک تصویر کی بنیاد پر ہر بم کو مکمل طور پر کسی ایک کمپنی کا تیار کردہ قرار دینا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

 

مارک 82 بنیادی طور پر ایک 500 پاؤنڈ کا فری فال، جنرل پرپز بم ہے۔ اس کا بنیادی ورژن کسی پیچیدہ رہنمائی نظام کے بغیر کششِ ثقل کے ذریعے ہدف کی طرف جاتا ہے، لیکن یہی بم مختلف گائیڈنس یا ٹیل کٹس کے ساتھ زیادہ درستگی رکھنے والے ہتھیار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اس بم کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود جدید فضائی کارروائیوں میں قابلِ استعمال بناتی ہے۔

 

پاکستانی فضائیہ کے حوالے سے مارک 82 کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان کے ایف 16 طیارے طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ شورش کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اگر حالیہ حملوں کے ملبے میں واقعی مارک 82 کے شواہد موجود ہیں تو ایف 16 کے استعمال کا امکان تکنیکی اعتبار سے قابلِ فہم ہے، اگرچہ صرف بم کے ٹکڑے سے کسی مخصوص فضائی مشن میں استعمال ہونے والے طیارے کی حتمی شناخت نہیں کی جا سکتی۔

 

مارک 82 کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا پرانا مگر انتہائی آزمودہ ڈیزائن ہے۔ یہ بم 1960 کی دہائی کے اواخر سے استعمال ہو رہا ہے اور ویتنام سمیت متعدد جنگی کارروائیوں میں استعمال ہوا۔ بعد ازاں خلیج کی جنگ، عراق اور افغانستان سمیت کئی تنازعات میں اس کے مختلف ورژن استعمال کیے گئے۔ خلیج کی جنگ کے دوران بھی اس قسم کے بم بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے، جس سے اس کی جنگی افادیت اور بڑے ذخیرے میں موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 

اس بم کی اہمیت صرف اس کی عمر میں نہیں بلکہ اس کی ماڈیولر نوعیت میں بھی ہے۔ ایک بنیادی MK-82 کو مختلف فیوز، فنز اور گائیڈنس کٹس کے ساتھ مختلف نوعیت کے مشنوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیاں پرانا بنیادی بم ڈیزائن ہونے کے باوجود اسے جدید گائیڈنس ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان بھی مقامی سطح پر مارک 82 کے مساوی بم اور مختلف گائیڈنس کٹس تیار کرتا ہے، جنہیں جے ایف 17، جے 10 اور بعض ڈرون پلیٹ فارمز کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

 

دفاعی اعتبار سے مارک 82 کو عمارتوں، گاڑیوں اور دیگر زمینی اہداف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس بم کی تباہ کن صلاحیت کا انحصار صرف بم کے حجم پر نہیں بلکہ فیوز، گرائے جانے کے طریقے، ہدف کی ساخت اور اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ آیا بم کو کسی گائیڈنس کٹ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔  مختصر یہ کہ افغانستان میں حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے بعد مارک 82 ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی علامت بن کر سامنے آیا ہے کہ فضائی جنگ میں بعض ہتھیار کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے بلکہ نئے طیاروں، فیوزز اور گائیڈنس سسٹمز کے ساتھ ان کی افادیت برقرار رہتی ہے۔

 

Back to top button