کیا واقعی ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگنے والی ہے؟

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ایسے خدشات اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں جو ملک کے آئینی اور سیاسی نظام کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات اٹھا رہی ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں قومی ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ یا گھیراؤ کی کوشش، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات ایسے عوامل ہیں جنہیں حکومت قومی ہنگامی حالت کے لیے بنیاد بنا سکتی ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ نجم سیٹھی کا تجزیہ اور خدشہ ہے، حکومت کی جانب سے قومی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ایک صوبے کی حکومت یا وہاں کی حکمران جماعت کا وفاقی دارالحکومت کا گھیراؤ موجودہ حالات میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اسلام آباد آنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ حکومت بھی اس معاملے کو معمول کی سیاسی سرگرمی کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد مارچ کی تاریخ آگے بڑھا کر 4 اکتوبر کرنے کے بعد صورتحال کو حل کرنے کے لیے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی راستے کی تلاش کا سوال بھی مزید اہم ہوگیا ہے۔

اسی سیاسی تناظر میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ملاقات بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ان کے درمیان پہلے رابطے کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات موجود تھیں۔ اس ملاقات کو بعض حلقے تحریک انصاف کی صوبائی سیاست میں ممکنہ نئی صف بندی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، تاہم اس ملاقات کے نتیجے میں کسی حتمی سیاسی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بحث بھی اسی صورتحال کا حصہ بن چکی ہے، لیکن یہاں بھی سیاسی دعووں اور سرکاری مؤقف میں فرق موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 23 ستمبر کو واضح طور پر کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر گورنر راج یا قومی ہنگامی حالت کو حکومت کا طے شدہ فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

قومی ہنگامی حالت کے حوالے سے آئین کا آرٹیکل 232 بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ آئین کے مطابق اگر صدر اس بات سے مطمئن ہوں کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی وجہ سے سنگین ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ آئینی متن کے مطابق اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ہنگامی حالت کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے، جبکہ اگر صدر اپنی طرف سے اعلان کریں تو اسے دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔

ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں وفاق کے اختیارات بھی معمول کے مقابلے میں وسیع ہوجاتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت وفاقی پارلیمان کو صوبے کے بعض معاملات پر قانون سازی کا اختیار مل سکتا ہے، وفاق صوبائی انتظامیہ کو ہدایات دے سکتا ہے اور بعض حالات میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے بعض اختیارات یا فرائض اپنے پاس لے سکتی ہے یا گورنر کو وفاق کی جانب سے ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتی ہے۔ یہی وہ آئینی پہلو ہے جس کی بنیاد پر نجم سیٹھی نے کہا کہ قومی ہنگامی حالت موجودہ کئی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کو وسیع انتظامی اختیار دے سکتی ہے۔

تاہم ہنگامی حالت اور گورنر راج ایک ہی آئینی اقدام نہیں ہیں۔ گورنر راج آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی مخصوص صورتحال سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 232 قومی سلامتی، جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی سے متعلق ہنگامی صورتحال کا الگ آئینی طریقۂ کار بیان کرتا ہے۔ اس لیے دونوں تصورات کو سیاسی گفتگو میں ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا آئینی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔

موجودہ بحران کی اصل اہمیت اس سوال میں ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف کس حد تک بڑھتا ہے اور تحریک انصاف 4 اکتوبر کے اعلان کردہ مارچ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ اگر سیاسی مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو کشیدگی کو سیاسی سطح پر محدود رکھنے کی کوشش ہوسکتی ہے، لیکن اگر اسلام آباد میں تصادم یا بڑے پیمانے پر بدامنی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو وفاق کے پاس آئینی اور قانونی اقدامات پر غور کرنے کا معاملہ ضرور زیر بحث آسکتا ہے۔

نجم سیٹھی کی جانب سے قومی ہنگامی حالت کا امکان ظاہر کیے جانے نے اسی لیے سیاسی حلقوں میں ایک اہم سوال پیدا کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت تحریک انصاف کے احتجاج، خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور امن و امان کے مسائل کو کس انداز میں سنبھالتی ہے۔ لیکن فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر قومی ہنگامی حالت کو ایک طے شدہ فیصلہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک تجزیاتی امکان کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔ اصل صورتحال اس وقت واضح ہوگی جب وفاقی حکومت، صدر مملک

Back to top button