کیا خیبر پختونخوا میںPTI کی آخری پناہ گاہ بھی خطرے میں ہے؟

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں صوبائی حکومت کے مستقبل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے اور تحریک انصاف کے لیے صوبے کی سیاسی اہمیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری کشیدگی، اسلام آباد مارچ کی نئی تاریخ، امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے وفاق کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث گورنر راج، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور اسمبلی کے اندر ممکنہ سیاسی تبدیلی جیسے مختلف آپشنز زیر بحث ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی اقدام کو فی الحال حتمی حکومتی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کے لیے خیبر پختونخوا صرف ایک صوبائی حکومت نہیں بلکہ اس کا اہم ترین سیاسی مرکز بھی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کسی آئینی یا سیاسی طریقے سے تبدیل ہوتی ہے تو پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ کیا وفاق اور صوبے کے درمیان موجود کشیدگی سیاسی مذاکرات کے ذریعے کم ہوگی یا معاملہ کسی آئینی اقدام کی طرف بڑھے گا۔
گورنر راج کے حوالے سے آئین کا آرٹیکل 234 بنیادی قانونی طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت اگر صدر مملکت اس بات سے مطمئن ہوں کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر اعلان کے ذریعے صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان اختیارات کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ ایسا اعلان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اسے مقررہ آئینی مدت میں پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس لیے گورنر راج محض وفاقی حکومت کا انتظامی حکم نہیں بلکہ ایک مخصوص آئینی طریقۂ کار کے تحت ہونے والا اقدام ہے۔
اس معاملے میں ایک اہم سیاسی پیش رفت خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے گورنر راج کے امکان پر مشاورت کا ذکر کیا تھا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کے بعض اہم نمائندے اس امکان کو مسترد بھی کر چکے ہیں۔ چنانچہ موجودہ صورتحال میں سرکاری بیانات اور سیاسی قیاس آرائیوں کے درمیان فرق برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر راج کو یقینی فیصلہ سمجھنے کے بجائے اسے زیر بحث ممکنہ آئینی راستوں میں سے ایک سمجھنا زیادہ محتاط طرز عمل ہوگا۔
وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا ایک دوسرا راستہ صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد ہے۔ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے مطلوبہ عددی حمایت اور پھر ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ایسی کارروائی کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ نمبر موجود ہیں یا نہیں۔ جب تک ارکان کی صف بندی واضح نہ ہو، عدم اعتماد کی قیاس آرائی کو عملی اقدام قرار دینا مشکل ہے۔
وزیراعلیٰ کے خلاف مختلف مقدمات کا معاملہ بھی سیاسی بحث میں شامل ہوگیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات سے متعلق مقدمات موجود ہیں اور اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق بعض مقدمات میں ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے سے متعلق مقدمے میں بھی ان کا نام زیر تفتیش آیا ہے۔ تاہم کسی مقدمے میں نامزد ہونا یا وارنٹ گرفتاری جاری ہونا خود بخود نااہلی کا سبب نہیں بنتا؛ نااہلی کے لیے متعلقہ قانونی کارروائی، عدالتی فیصلے اور آئینی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔
اسی طرح یہ دعویٰ کہ گرفتاری کے بعد لازماً پانچ سال کی نااہلی ہوگی، بھی اس مرحلے پر حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ کسی سزا کے سیاسی یا آئینی نتائج کا انحصار جرم کی نوعیت، متعلقہ قانون، عدالتی فیصلے اور اس پر لاگو ہونے والی آئینی دفعات پر ہوگا۔ اس لیے مقدمات کو بنیاد بنا کر وزیراعلیٰ کی نااہلی کو یقینی قرار دینا قانونی طور پر قبل از وقت ہوگا۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں امن و امان کا مسئلہ البتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات اور پولیس کے انتظامی معاملات سیاسی تنازع کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت قومی سلامتی اور امن و امان کو اپنے مؤقف کی بنیاد بناتی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اپنے آئینی اختیارات اور سیاسی مینڈیٹ پر زور دیتی ہے۔ اس اختلاف کا فیصلہ بالآخر سیاسی اور آئینی فورمز پر ہی ہونا ہوگا۔
اگر وفاق واقعی آرٹیکل 234 کے تحت کارروائی کی طرف بڑھتا ہے تو تحریک انصاف کے پاس عدالتی راستہ اختیار کرنے کا امکان موجود ہوگا۔ ایسے کسی مقدمے میں عدالت یہ دیکھ سکتی ہے کہ ہنگامی اقدام کے لیے آئینی شرائط پوری ہوئی تھیں یا نہیں، متعلقہ دستاویزات اور رپورٹس کیا کہتی ہیں اور وفاقی اقدام آئینی دائرے میں تھا یا نہیں۔ اس لیے ممکنہ گورنر راج کی قانونی حیثیت کا آخری فیصلہ سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ متعلقہ آئینی اور عدالتی عمل سے ہوگا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر صوبائی حکومت تبدیل ہوتی ہے تو اس کے بعد تحریک انصاف کے سیاسی طور پر اہم رہنماؤں اور کارکنوں کی صورتحال کیا ہوگی۔ صوبائی حکومت ختم ہونے کی صورت میں ریاستی اداروں اور پولیس کا انتظامی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے، جس سے ان افراد کے خلاف زیر التوا مقدمات میں قانونی کارروائی کا راستہ مختلف انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ تمام مفرور رہنما لازماً گرفتار ہوجائیں گے، بھی موجودہ شواہد کی بنیاد پر قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔
اس پورے معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ اگر وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو خیبر پختونخوا حکومت کے مستقبل سمیت کئی معاملات سیاسی گفت و شنید کا حصہ بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر 4 اکتوبر کا اسلام آباد مارچ دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے اور وفاق و صوبے کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو گورنر راج، عدم اعتماد یا دیگر آئینی راستوں کی بحث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
یوں خیبر پختونخوا اس وقت صرف ایک صوبائی سیاسی بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات، امن و امان، سیاسی احتجاج اور آئینی دائرۂ اختیار کے سوالات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے لیے صوبائی حکومت کا مستقبل اس کی قومی سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہوسکتا ہے، جبکہ وفاق کے لیے کسی بھی غیر معمولی اقدام کی آئینی بنیاد اور سیاسی نتائج دونوں اہم ہوں گے۔ اس لیے اصل فیصلہ آنے والے دنوں میں سیاسی مذاکرات، صوبائی اسمبلی کی عددی صورتحال، 4 اکتوبر کے احتجاج اور وفاقی حکومت کے آئندہ اقدامات سے ہوگا۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ختم ہونے جا رہی ہے، لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ صوبے کی سیاست ایک انتہائی حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
